• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بنگلہ دیش نے سعودیہ میں دو شہریوں کی سزائے موت پر تفصیلات طلب کرلیں

اسلام آباد (محمد صالح ظافر) بنگلہ دیش نے سعودیہ میں دو شہریوں کی سزائے موت پر باضابطہ تفصیلات طلب کرلیں۔ سزا کی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی، مکہ مکرمہ کی مسجد میں غیراخلاقی حرکات کا الزام عائد کیا گیا، بنگلہ دیشی وزارت خارجہ نے سعودی سفیر سے معاملہ اٹھا دیا، لاشوں کی واپسی کے لئے جواب کا انتظار ہے۔ بنگلہ دیشی حکومت نے سعودی عرب میں اپنے دو شہریوں کو گزشتہ ہفتے پیشگی اطلاع دیے بغیر سزائے موت دیے جانے کے معاملے پر سعودی حکام سے باضابطہ تفصیلات طلب کرلی ہیں۔ ڈھاکا سے موصولہ اطلاعات کے مطابق بنگلہ دیش نے اتوار کو سعودی سفیر ڈاکٹر عبداللہ ظفر بن ابیہ سے ملاقات میں یہ معاملہ اٹھایا۔ بنگلہ دیش کے خارجہ سیکریٹری برائے مشرقی و مغربی امور ڈاکٹر محمد نذرالاسلام نے سعودی سفیر سے دونوں شہریوں کی سزائے موت سے متعلق تفصیلی معلومات طلب کیں۔ حکام نے واضح کیا کہ سعودی سفیر کو طلب نہیں کیا گیا تھا بلکہ ملاقات میں یہ معاملہ اٹھایا گیا۔ بنگلہ دیش نے اس واقعے پر تشویش کے باوجود دونوں ملکوں کے مضبوط تعلقات متاثر نہ ہونے کے اعتماد کا اظہار کیا، جبکہ میزبان ملک کے قوانین کا خیال رکھنے کی اہمیت پر بھی بات ہوئی۔ دونوں فریقوں نے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ بنگلہ دیش کی وزیر مملکت برائے خارجہ امور شما عبید اسلام نے ہفتے کو کہا تھا کہ حکومت کو سعودی حکام کی جانب سے ایک بنگلہ دیشی مرد اور ایک خاتون کو سزائے موت دیے جانے کے بارے میں تاحال تفصیلی سرکاری معلومات موصول نہیں ہوئیں۔ ان کے مطابق یہ افسوس ناک خبر غیرمتوقع تھی اور ڈھاکا نے سعودی حکومت کو خط لکھ کر تفصیلات فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔ سعودی میڈیا کے مطابق دونوں بنگلہ دیشی شہریوں کو مقدس شہر مکہ مکرمہ کی ایک مسجد کے اندر ’غیراخلاقی حرکات‘ کے جرم میں سزا سنائے جانے کے بعد سزائے موت دی گئی۔ عدالت نے جرم کی سنگینی، مسجد کے تقدس کی خلاف ورزی اور وقوعے کے حالات کو سزا کی وجوہات قرار دیا۔ سعودی حکام نے دونوں شہریوں کی شناخت نذرالاسلام عبدالبصیر اور سیتی اختر کے نام سے کی۔

دنیا بھر سے سے مزید