اسلام آباد (عمر چیمہ) ڈپلیکیٹ سم کے ذریعے بینک اکاؤنٹس سے کروڑوں روپے کی چوری، بینک اہلکار بھی ملوث، ایک رکن اسمبلی کے اکاؤنٹ سے 15 لاکھ، دوسرے سے 20 لاکھ نکالے گئے، تاجر کو 85 لاکھ روپے کا چونا لگایا گیا۔ ڈپلیکیٹ سم سے آن لائن بینکنگ فعال، رقم ایک بے خبر خاتون کے نام پر کھولے گئے اکائونٹ میں منتقل کی گئی۔ بینک افسر نے 30 اکاؤنٹس کی معلومات تک رسائی حاصل کی، ڈھائی کروڑ فراڈ کا شبہ، ملک بھر سے واقعات رپورٹ، پی ٹی اے کا موبائل کمپنی پر 7 کروڑ 78 لاکھ جرمانہ، بینکوں کے خلاف کارروائی صرف رقم واپسی تک محدود رہی۔ 12 جنوری کو جب ایم کیو ایم رکن قومی اسمبلی فرحان چشتی دوپہر کے وقت اسلام آباد ایئرپورٹ پر اترے تو ان کا موبائل فون بند ہو چکا تھا۔ نہ وہ کسی کو فون کر سکتے تھے اور نہ ہی کوئی پیغام وصول کر سکتے تھے۔ انہیں لگا کہ شاید نیٹ ورک میں خرابی ہے، لیکن جب کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود سروس بحال نہ ہوئی تو وہ شکایت درج کرانے کے لیے موبائل فون کمپنی کے سروس سینٹر چلے گئے۔ وہاں انہیں معلوم ہوا کہ ان کے نمبر پر ایک ڈپلیکیٹ سم جاری کی گئی ہے، جس کی انہوں نے کبھی درخواست ہی نہیں دی تھی۔ اس کے نتیجے میں ان کی اصل سم بند ہو گئی تھی۔ عملے نے انہیں بتایا کہ یہ ڈپلیکیٹ سم کراچی کے علاقے ملیر میں جاری کی گئی تھی۔ انہیں یہ بھی بتایا گیا کہ سم کو غیر فعال کرنے کا اختیار صرف کمپنی کے ہیڈکوارٹر کے پاس ہے، جو اس دن بند ہو چکا تھا اور اگلی صبح دوبارہ کھلنا تھا۔ اس وقت تک نقصان ہو چکا تھا۔ ان کے نمبر پر قبضہ کرنے والے شخص نے فرحان چشتی کو آن لائن بینکنگ کے لیے رجسٹر کر لیا تھا، حالانکہ انہوں نے کبھی الیکٹرانک ذرائع سے بینکاری نہیں کی تھی۔ اسی شخص نے ان کے اکاؤنٹ سے رقم نکلوانے کی حد بڑھائی، پاس ورڈ ’’سائیں سرکار‘‘ مقرر کیا اور ان کے اکاؤنٹ سے 15 لاکھ روپے نکال کر ایک خاتون سکینہ بی بی کے اکاؤنٹ میں منتقل کر دیے۔ سکینہ بی بی خود بھی اس فراڈ کا نشانہ بنی تھیں، کیونکہ ان کے علم میں لائے بغیر ان کے نام پر اکاؤنٹ کھولا گیا تھا۔ رقم کچھ دیگر اکاؤنٹس میں بھی منتقل کی گئی، جو جنوبی پنجاب اور سندھ کی خواتین کے ناموں پر کھولے گئے تھے۔ فرحان چشتی نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) سے شکایت کی۔ تفتیش کاروں نے ملیر کے علاقے کھوکھراپار میں واقع سم فروخت کرنے والے مرکز کے مالک سے پوچھ گچھ کی۔ اس نے بتایا کہ ایک شخص اس کے پاس آیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ اس کی والدہ کو ڈپلیکیٹ سم درکار ہے، لیکن وہ کمزوری کے باعث گاڑی سے باہر نہیں نکل سکتیں۔ اس شخص نے درخواست کی کہ بائیومیٹرک ڈیوائس گاڑی کے پاس لے جاکر ان کی والدہ کے انگوٹھے کا نشان حاصل کر لیا جائے۔ تاہم فرحان چشتی کے انگوٹھے کا نشان کیسے حاصل کیا گیا، یہ بات اب تک واضح نہیں ہو سکی۔ ڈپلیکیٹ سم استعمال کرنے والا شخص نواب شاہ کا رہائشی تھا۔ تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ جرائم پیشہ عناصر بڑی تعداد میں لوگوں کے بائیومیٹرک ڈیٹا کو حاصل کرتے ہیں۔ یہ معلومات یا تو افشا ہونے والے ڈیٹا سے حاصل کی جاتی ہیں یا ان مقامات سے جمع کی جاتی ہیں جہاں معمول کی خدمات فراہم کرنے کے لیے فنگر پرنٹس دینا لازمی ہوتا ہے۔