• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ادبی سوسائٹیز ایکٹ قائمہ کمیٹی برائے تعلیم کے حوالے کیا جائے

کوئٹہ(اسٹاف رپورٹر) بلوچی اکیڈمی کے چیئرمین ہیبتان عمر اور پشتو اکیڈمی کے جنرل سیکرٹری نقیب اللہ نے ارکان بلوچستان اسمبلی سے اپیل کی ہے کہ علاقائی زبانوں کی اکیڈمیز اور ادبی سوسائٹیز کاایکٹ منظور کرنے کی بجائے قائمہ کمیٹی برائے تعلیم کے حوالے کریں یہ بات انہوں نے اتوار کو کوئٹہ پریس کلب میں چیئرمین براہوی اکیڈمی ڈاکٹر سوسن براہوی ، چیئرمین پشتو اکیڈمی ڈاکٹر رحمت اللہ نیازی ، چیئرمین ہزارگی اکیڈمی احمد علی بیگ و دیگر کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہیانہوں نے کہا کہ بلوچستان کی علاقائی زبانوں کے حوالے سے بلوچی ، پشتو، براہوی اور ہزارگی کی اکیڈمیز کئی دہائیوں سے صوبے میں زبان، ادب اور ثقافت کے فروغ کے لئے کام کررہی ہیںیہ اکیڈمیز بلوچستان چیریٹی ایکٹ 2019ء کے تحت رجسٹرڈ خود مختار ادارے اور حکومت سے گرانٹ ان ایڈ وصول کرتی ہیں لیکن قانونی طور پر اپنے فیصلوں میں آزاد خود مختار ہیں انہوں نے کہا کہ اکیڈمیز کا بل آج بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کیا گیا ہے لیکن اس پر نہ تو متعلقہ زبانوں کے اداروں اور اکیڈمیز کے نمائندوں سے کوئی مشاورت کی گئی اور نہ ہی اس پر باقاعدہ کسی فورم پر بحث و مباحثہ ہوا لہٰذا بل کو بغیر مشاورت کے فوری طور پر منظور نہ کیا جائے یہ بل 2019ء کے ایکٹ سےمتصادم ہے اور اس سے ہماری خود مختاری ختم اور ہمیں بیوروکریسی کے ماتحت کردیا جائے گا جو ہماری علمی ادبی آزادی کیلئے نقصاندہ ثابت ہوگاانہوں نے کہا کہ اگر یہ بل پاس ہوجاتا ہے تو اکیڈمیز کے تمام امور بشمول کتابوںکی اشاعت ، مصنفین کے معاوضے اور ادبی فیصلے سیکرٹری کلچرکی سربراہی میں ایک سرکاری کمیٹی کے مرہون منت ہوں گے اس سے زبان اور ادب کی ترقی میں مزید مشکلات بڑھیں گی ہماری تمام ممبران اسمبلی سے اپیل ہے کہ وہ اس بل کومنظور کرنے کی بجائے فوری طور پر قائمہ کمیٹی برائے تعلیم کے حوالے کیا تاکہ ہماری اکیڈمیز کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع مل سکے اور اگر بل پاس ہوا تو ہم اسے عدالت میں چیلنج کریں گے۔
کوئٹہ سے مزید