کراچی (اسٹاف رپورٹر)ناتھا خان پل سے پہلوان گوٹھ گلستان جوہرلنک روڈ کی تعمیر کے معاملے پر وفاقی اور صوبائی ادارے آمنے سامنے آگئے ،سڑک کے تعمیراتی کام کے دوران اتوار کو جھگڑے کے بعد ریلوے پولیس افسران اور کے ایم سی افسران کی جانب سے ایک دوسرے پر سنگین نوعیت کی دفعات کے تحت مقدمات درج کرالئے ، بلدیہ عظمیٰ کراچی کی جانب سےناتھا خان پل سے پہلوان گوٹھ گلستان جوہر لنک روڈ کی تعمیر کا سلسلہ جاری ہے،اتوار کوریلوے پولیس کے افسران و اہلکاروں نے موقع پرپہنچ کر ریلوے پولیس کراچی نے پاکستان ریلوے کی اراضی پرقبضہ کرنے اورغیرقانونی طورپرپختہ سڑک کی تعمیرات کرنے پرڈائریکٹرسٹی وارڈنزصائم عمران خان اوردیگرسٹی وارڈنزکے خلاف ریلوے افسرمدعیت میں ریلوے کراچی کینٹ تھانے میں درج کرلیا گیا مقدمے ہنگامہ آرائی، مقابلے، اقدام قتل ، کارسرکار میں مداخلت ، جان سے مارنے اورانسداد دہشت گردی سمیت دیگر دفعات کے تحت درج کرلیا گیا ۔مقدمے کے متن کے مطابق 18 اکتوبر کو احمد جہانزیب صاحب نے حکم دیا کہ ناتھا خان برج کے نیچے ریلوے ٹریک پرغیر قانونی پختہ روڈ تعمیرہورہا ہے لہذا مذکورہ بالا تعمیراتی روڈ غیرقانونی کام بند کروائیں ،جب میں جائے وقوع پر پہنچا توغیرقانونی طورپرپختہ روڈ کی تعمیرات جاری تھی موقع پرموجود سب انجینئربلال کے ایم سی ملاقات کی اورپختہ روڈ ریلوے ٹریک پر ڈالنے کے بارے میں پاکستان ریلوے کا اجازت نامہ ( این او سی ) طلب کی اسی اثنا میں ایک شخص جس کا نام صائم عمران خان ڈائریکٹرسٹی وارڈن معلوم ہوا ، تعیش میں آکر اس نے پستول نکال کرایس ایچ اواحسن رشید پرتان لیا اورگالم گلوچ کرنے لگا جس کے ہمراہ 20سے زائد سٹی وارڈن موجود تھے،صائم عمران خان کے کہنے پرانھوں نے حملہ کردیا اورصائم عمران نے مغلظات دی اورجان سے مارنے کی کوشش کی جو کہ اقدام قتل کا مرتکب ہوا اورایس ایچ او ریلوے کی وردی پھاڑ دی،صائم عمران نے اپنے سٹی وارڈن کی مدد سے خوف و ہراس پھیلایا اورکارسرکارمیں مداخلت کی اورریلوے ملازمین کو تشد کا نشانہ بنایا اورریلوے کی خواتین پولیس کے ساتھ بدسلوکی اورسٹی وارڈن کی موبائلیں ہماری سرکاری موبائل میں بیٹھے ہوئےصائم عمران کواس کے اسلحہ سمیت لے گئے،دوسری جانب ڈائریکٹرسٹی وارڈنز صائم عمران کی مدعیت میں ریلوے پولیس کے خلاف شارع فیصل تھانے میں مقدمہ درج کرلیا گیا،مقدمے میں اغوا،تشدد کرنے اورنامعلوم مقام پر لے جاکرحبس بیجا میں رکھنے کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔