• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حاملہ بیٹی کو پھانسی دینے والی ماں کی ضمانت منظور

پشاور(نیوزرپورٹر) پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس صاحبزادہ اسداللہ پر مشتمل سنگل بنچ نے پولیس سٹیشن ٹاون کی حدود میں مبینہ طور پر اپنی حاملہ بیٹی کو پھانسی دینے کے مقدمہ میں گرفتار ملزمہ کی ضمانت کی درخواست منظور کرلی ملزمہ کی جانب سے بیرسٹر حسن عادل اور بیرسٹر ذلند پیش ہوئے۔ضمانت درخواست کی سماعت شروع ہوئی تو ملزمہ نسرین کی جانب سے ان کے وکلاء نے عدالت کوبتایا کہ ملزمہ پر الزام ہے کہ اس نے 21 ستمبر 2026 کو پولیس سٹیشن ٹاون کی حدود میں اپنی 17 سالہ بیٹی اقراء کو پھانسی دی کیونکہ مقتولہ مبینہ کسی کے ساتھ غیرازدواجی تعلقات تھے جس سے وہ حاملہ ہوئی تھی اور اسی وجہ سے مقتولہ کو والدہ نے پھانسی دیکر قتل کیا۔ یہ الزام حقائق کے منافی اس لئے ہے کہ کس طرح 48 سالہ خاتون اکیلے ایک سترہ سالہ لڑکی کو درخت پر لٹکا کر اسے پھانسی دیتی ہے بظاہر یہ درست نہیں عدالت نے قرار دیا کہ ایک خاتون نوجوان لڑکی کو اکیلے درخت پر لٹکائے اور اسی پھانسی دے یہ بظاہر ممکن نہیں عدالت نے ملزمہ کی ضمانت کے لئے دائر درخواست منظور کرتے ہوئے اسے رہا کرنے کے احکامات جاری کردیئے۔
پشاور سے مزید