• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈاؤ یونیورسٹی کے 27 ملازمین کی ڈگریاں جعلی ثابت، تمام تنخواہیں واپس لینے کا حکم

کراچی (اسٹاف رپورٹر) ڈاؤ یونیورسٹی کے 27 ملازمین کی ڈگریاں جعلی ثابت، تمام تنخواہیں واپس لینے کا حکم،پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے اجلاس میں انکشاف ہوا ہے کہ ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے 5 ہزار 350 ملازمین میں سے 3 ہزار 400 کی تعلیمی ڈگریوں کی تصدیق تاحال مکمل نہیں ہوسکی، جبکہ تصدیق کے عمل کے دوران 27 ملازمین کی ڈگریاں جعلی ثابت ہوئی ہیں۔ پی اے سی نے جعلی ڈگریوں پر بھرتی ہونے والے ان ملازمین سے تنخواہوں کی تمام رقم واپس لینے کا حکم دیتے ہوئے سندھ کی تمام سرکاری جامعات سے اکیڈمک اسٹاف اور دیگر ملازمین کی ڈگریوں کی تصدیق کے حوالے سے رپورٹ طلب کرلی۔منگل کے روز پی اے سی کا اجلاس چیئرمین نثار کھوڑو کی صدارت میں کمیٹی روم میں ہوا، جس میں کمیٹی ارکان قاسم سومرو، مخدوم فخرالزمان، ڈاؤ میڈیکل یونیورسٹی کی وائس چانسلر نازلی حسین اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں ڈاؤ یونیورسٹی کے مالی سال 2024ء اور 2025ء کے آڈٹ پیراز کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے دوران آڈٹ حکام نے اعتراض اٹھایا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے بھرتی کیے گئے ملازمین کی ڈگریوں کی تصدیق نہیں کرائی تھی اور اس حوالے سے تسلی بخش جواب بھی فراہم نہیں کیا گیا۔ چیئرمین پی اے سی نثار کھوڑو نے استفسار کیا کہ یونیورسٹی میں مجموعی طور پر کتنے ملازمین ہیں اور ان کی تعلیمی اسناد کی تصدیق کا عمل اب تک مکمل کیوں نہیں ہوسکا۔ڈاؤ یونیورسٹی کے ڈائریکٹر فنانس زین العابدین شاہ نے کمیٹی کو بتایا کہ ملازمین کی ڈگریوں کی ہائر ایجوکیشن کمیشن سے تصدیق کیلئے ایچ آر ایس جی کمپنی کے ساتھ 73 لاکھ 60 ہزار روپے کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق مجموعی طور پر 5 ہزار 350 ملازمین میں سے 1945 کی ڈگریوں کی تصدیق مکمل ہوئی، جن میں 27 ملازمین کی اسناد جعلی ثابت ہوئیں۔ ان ملازمین کو ملازمت سے برطرف کردیا گیا ہے، جبکہ 3 ہزار 400 ملازمین کی ڈگریوں کی تصدیق کا عمل تاحال جاری ہے۔اجلاس میں جعلی ڈگریوں کے حامل ملازمین کی تفصیلات بھی پیش کی گئیں، جن میں مختلف شعبوں سے وابستہ ریسپشنسٹ، کمپیوٹر آپریٹرز، ڈیٹا پروسیسنگ افسران، انتظامی عملے، نرسوں، ٹیکنیشنز اور دیگر ملازمین کی اسناد شامل تھیں۔ انتظامیہ کے مطابق ان میں بی کام، بی اے، ایم کام، بی ایس سی، میٹرک، نرسنگ ڈپلوموں اور دیگر تعلیمی اسناد میں جعل سازی سامنے آئی۔وائس چانسلر نازلی حسین نے اجلاس کو بتایا کہ اکیڈمک شعبے سے وابستہ 70 فیصد سے زائد ڈاکٹروں کی ڈگریوں کی تصدیق ہوچکی ہے، جبکہ باقی اسناد کی جانچ کا عمل جاری ہے۔

اہم خبریں سے مزید