کراچی (رفیق مانگٹ) سعودی عرب میں سزائے موت پانے والے بنگلہ دیشی شہریوں نذرالاسلام اور سویٹی اختر سے منسوب تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر غلط طور پر پھیلائی گئیں،نذر الاسلام اور سویٹی اختر کی سزائے موت مصدقہ، سزا سے متعلق سوشل میڈیا کی کہانیاں بے بنیاد قرار ،مصری جوڑے کی تصاویر اور میانمار کی خاتون کی ویڈیو بنگلہ دیشی شہریوں سے منسوب کر کے وائرل کی گئی۔ حقائق کی جانچ سے معلوم ہوا کہ وائرل مواد کا ان دونوں سے تعلق نہیں۔نذرالاسلام اور سویٹی اختر کی سزائے موت ایک مصدقہ واقعہ ہے، لیکن ان سے منسوب ہر تصویر، ویڈیو یا سوشل میڈیا کہانی درست نہیں۔ مبینہ جرم کی مکمل نوعیت، دونوں کے خلاف پیش کیے گئے شواہد، سزائے موت کے فیصلوں کی نقول اور دفاع کے مواقع سے متعلق سوالات کے جوابات دستیاب اطلاعات میں مکمل طور پر سامنے نہیں آئے۔مصری جوڑے کی پرانی تصویر اور میانمار کی خاتون کی سزائے موت کی ویڈیو کو بنگلہ دیشی شہریوں کے واقعے سے جوڑاگیا-سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ بھی گردش کرتا رہا کہ نذرالاسلام اور سویٹی اختر میاں بیوی تھے، عمرہ ادا کرنے سعودی عرب گئے تھے اور مسجد میں بوسہ لینے جیسے عمل پر انہیں سزائے موت سنائی گئی۔یہ سب فیک ہے۔نذرالاسلام کے والد عبدالبشیر نے بنگلہ دیشی اخبار کو بتایا کہ سویٹی ان کے بیٹے کی بیوی نہیں تھیں اور ان کا خاندان سویٹی کو جانتا بھی نہیں تھا۔