کراچی (رفیق مانگٹ)سائنس دانوں نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا ایسا ماڈل تیار کیا ہے جو چہرے کی تصویر کا تجزیہ کرکے کینسر کے مریضوں میں موت کے خطرے کا اندازہ لگا سکتا ہے،آزمائش میں 3ہزار 820مریضوں میں سے بلند ترین خطرے کے اسکور والے 122 افراد میں سے 64 تصویر لینے کے 90دن کے اندر انتقال کر گئے،چار کروڑ چہروں کی تصاویر سے تربیت یافتہ اے آئی، حیاتیاتی عمر اور موت کے خطرے کی پیش گوئی کرے گا، خدشات بڑھ رہے ہیں کہ بیمہ کمپنیاں اور آجر چہرے کے اے آئی تجزیے کو فیصلوں کے لئے استعمال کر سکتے ہیں۔تفصیلات کے مطابق مذکورہ تحقیق کے دوران الگورتھم کو پہلے چہروں کی 4 کروڑ تصاویر پر تربیت دی گئی، جس میں اسے کوئی مخصوص کام نہیں سونپا گیا تھا۔ بعد ازاں ماڈل کو دو مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا،کسی شخص کی حیاتیاتی عمر کا اندازہ لگانا اور کینسر کے مریض کے زندہ رہنے کے امکانات کی پیش گوئی کرنا۔محقق کے مطابق، ڈاکٹر مریض کو دیکھ کر اس کی صحت، کمزوری اور بیماری کی شدت کا ابتدائی اندازہ لگاتے ہیں، لیکن یہ جائزہ بڑی حد تک ذاتی رائے پر مبنی ہوتا ہے۔