کوئٹہ(اسٹاف رپورٹر)جمعیت علماء اسلام نظریاتی بلوچستان کے امیر مولانا قاری مہراللہ ، صوبائی جنرل سیکرٹری مفتی شفیع الدین ، سینئر نائب امیر مولانا محمد احمد حقانی ، مولانا مفتی رحمت اللہ خلجی ، نائب امیر مولانا شاہ محمد ، ڈپٹی جنرل سیکرٹری حافظ حلیم شاہ ، میر مبارک محمدحسنی ، سرپرست حاجی فیض اللہ خان ، مولانا مفتی عبدالاحد کبدانی ، مولانا جمعہ خان ، مولانا حافظ عبدالواحد ہاشمی ، مولانا نعمت اللہ حریفال ، مولانا عبدالغفور کرخی ، مولانا عبدالمالک اندڑ ، مولانا مفتی عبدالناصر مینگل ، عبدالغنی ، عبدالقادر گلستانی ، شیر جان صالح ، مولانا محمد صادق اور اسرار احمد ساسولی نے کہا ہے کہ فارم 47 کی بلوچستان حکومت عوام کو درپیش شدید مسائل حل کرنے کی بجائے بدعنوانی، کرپشن اور غیر متوازن پالیسیوں کا شکار ہے . بلوچستان میں بدامنی ، بے روزگاری، تعلیمی زبوں حالی اور صحت کے ناقص نظام جیسے سنگین مسائل نے عوام کی زندگی اجیرن کردی ہے اور حکومت مسائل حل کرنے کی بجائے زبانی جمع خرچ تک محدود ہے ۔ عوام پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی، سڑکوں کی زبوں حالی، صفائی کے ابتر نظام اور تعلیمی و طبی سہولیات کی نایابی کی وجہ سے سخت مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت نظریاتی کے کوئٹہ میں ایک اتحادی صوبائی وزیرنے الیکشن کے دوران کیے گئے وعدوں میں سے ایک بھی وفا نہیں کیا۔ عوام نے انہیں امید اور اعتماد کے ساتھ منتخب کیا تھا وہ اب مکمل ناامیدی اور مایوسی میں بدل چکی ہے۔ انہوں نے مذکورہ صوبائی وزیر کے ساتھ انتخابی اتحاد صرف اقتدار کے لیے نہیں بلکہ اپنے حلقوں کے عوام کے بنیادی مسائل حل ،انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے کیا تھا۔تاہم مسلسل نظر اندازی اور عوامی مسائل میں عدم توجہی کے بعداب اس اتحاد کا جاری رہنا ناممکن ہو چکا ہے۔