• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
محض مُردے اور بیوقوف رائے تبدیل نہیں کرتے وگرنہ زندوں کی دنیا تو تغیر و تبدل سے بھرپور ہوتی ہے۔ہمارے معاشرے میں چونکہ زندگی کے آثار بھی کم کم ہی نظر آتے ہیں اور عقل سلیم بھی کم یاب ہے اس لئے تبدیلی کی کسی بھی کوشش کو سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔معاشرتی رسوم و رواج ہوں ،دینی اقدار یا پھر سیاسی افکار و نظریات ،رجوع اور نظر ثانی کی گنجائش اس لئے باقی نہیں رہتی کہ لوگ کیا کہیں گے ۔اس لئے مذہبی رہنما ہوں ،سیاسی قائدین یا پھر اہل صحافت وہ اپنی ہر بات کو حرف ِآخر سمجھتے ہیں اور جو کہہ دیا سو کہہ دیا کے مصداق اپنے کہے ہوئے پر ڈٹ جاتے ہیں چاہے غلطی کا احساس ہی کیوں نہ ہو جائے ۔مثال کے طور پر جب افغانستان پر حملہ ہوا تو صوفی محمد نے باجوڑ ،دیر اور اس سے ملحقہ علاقوں میں جہاد فی سبیل اللہ کی منادی کراد ی ۔کم و بیش دس ہزار جانثار اپنی زنگ آلود بندوقیں لیکر امریکہ سے لڑنے کے لئے میدان میں آگئے ۔صوفی محمد کا خیال تھا کہ انتظامیہ ان کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرے گی اور انہیں افغانستان کی جانب نہیں بڑھنے دیا جائے گامگر انتظامیہ کی طرف سے کوئی قدغن نہ لگائی گئی تو اب ان کے پاس آگے بڑھنے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا۔انہیں یہ خوف تھا کہ اب اس موقع پر اگر پسپائی اختیار کی تو سب کچھ چھوڑ کر جمع ہونے والے لوگ انہیں نہیں چھوڑیں گے۔جہاد افغانستان کے بعد بھی ہم اسی کشمکش کا شکار ہوئے اور اسی کشمکش کی کوکھ سے طالبان نے جنم لیا ۔اب جہاد کشمیر کے تناظر میں ہم ایک مرتبہ پھر اسی کشمکش میں مبتلا ہیں ۔استدلال یہ ہے کہ کشمیر میں جاری لڑائی دہشت گردی نہیں بلکہ آزادی کی جنگ ہے اس لئے ہمیں اپنے کشمیری بھائیوں کا ساتھ دینا چاہئے ۔میرا سوال یہ ہے کہ اگر یہ جنگ کشمیری لڑ رہے ہیں اور ہم محض ان کا ساتھ دے رہے ہیں تو جہاد کشمیر کی پشتیبان جماعت اسلامی کو کشمیر کے انتخابات میں کامیابی کیوں نہیں ملتی؟بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں نہ سہی آزاد کشمیر میں تو جماعت اسلامی کو کلین سوئپ کرنا چاہئے؟ اور اگر یہ مسلح جدوجہد اس قدر مقبول ہے تو پھر آزاد کشمیر کے ہر گھرانے میں کوئی نہ کوئی غازی اور کوئی نہ کوئی شہید ہونا چاہئے مگر حقیقت یہ ہے کہ کشمیریوں کو اس لڑائی سے کوئی سروکار نہیں ۔آپ میرپور،مظفر آباد ،کوٹلی جا کر سروے کر لیں ،ایسے گھرانے چراغ لیکر ڈھونڈنے پڑیں گے جہاں کسی نوجوان نے جام شہادت نوش کیا ہو مگر اس کے برعکس میں آپ کو پنجاب کے بیسیوں قصبے گنوا سکتا ہوں جہاں چند ہزار کی آبادی میں دس دس شہداء کے اہلخانہ موجود ہیں ۔
میں جب بعض گمراہوں کو جہاد کے نام پر فساد برپا کرتے دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں مولانا مودودی ؒکس قدر صاحب بصیرت اور دوراندیش مفکر تھے ۔جب جہاد کشمیر کا بگل بجا تو انہوں نے بلا خوف و تردد یہ بات کہی کہ جب تک ریاست جنگ کا اعلان نہ کر دے ،ہتھیار اٹھانا اور کشمیر میں جا کر لڑنا ٹھیک نہیں ۔الطاف حسن قریشی نے حال ہی میں شائع ہونے والی اپنی کتاب ’’ملاقاتیں کیا کیا ‘‘ میں اس واقعہ کی تفصیل بیان کی ہے۔ مئی 1948ء میں ٹیمپل روڈ پر مولانا عبد الحلیم قاسمی کی مسجد میں درس قرآن کے بعدان سے جہاد کشمیر کی بابت سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا ’’قرآن کی رو سے صرف ریاست جہاد کا اعلان کرنے کی مجاز ہے ۔ریاستی جتھے اپنے طور پر کسی ملک یا ریاست کے خلاف جہاد شروع نہیں کر سکتے ۔۔انہیںصاحب نے مزید پوچھا کیا پاکستان کے عام شہری اپنے مظلوم کشمیری بھائیوں کی مدد کے لئے نہیں جا سکتے ۔مولانا نے جواب میں کہا جنگ کے سوا تمام سرگرمیوں میں حصہ لے سکتے ہیں ۔اس حوالے سے مولانا مودوی ؒ کا علامہ شبیر احمد عثمانی کے ساتھ طویل مکالمہ بھی ہوا۔مخالفین نے ان کے اس موقف کو اپنے انداز میں پیش کیا۔اس حق گوئی کی پاداش میں مولانا مودودیؒ کو مصائب وآلام کی بھٹیوں سے گزرنا پڑا مگر وہ ثابت قدم رہے اور کندن بن کر نکلے۔فلسفہ جہاد کے حوالے سے ان کا یہ موقف دوسری مرتبہ تب صراحت کے ساتھ سامنے آیا جب روس نے افغانستان پر حملہ کیا۔روسی جارحیت کا سامنا کرنے کے لئے سرحد پار جانے کے حوالے سے مولانا سے پوچھا گیا تو انہوں نے ایک مرتبہ پھر اپنے اسی اصولی موقف کا اعادہ کیااور کہا’’جب تک کابل حکومت ریاست پاکستان کے خلاف جنگ کا اعلان نہیں کرتی یا حکومت پاکستان اس سے تمام تعلقات توڑ کر اعلان جنگ نہیں کرتی ،آپ پاکستانی شہریوں کو سرحد پار کر کے میدان جنگ میں نہیں اترنا چاہئے ۔‘(‘تصریحات ،مرتبہ :سلیم منصور خالد)اگر مولانا مودودی ؒ کے اس فلسفے پر عملدر آمد ہوتا اور جہاد کی ’’نجکاری‘‘ نہ کی جاتی تو آج داعش ،شباب ،بوکوحرام ،طالبان اور القاعدہ جیسے شتر بے لگام گروہ مسلمانوں کے دامن پر کلنک کے ٹیکے کی صورت ثبت نہ ہوتے۔ستم بالائے ستم تو یہ ہوا کہ مولانا مودودی ؒ کے سانحہ ارتحال کے بعد ان کے فلسفہ جہاد سے سب سے پہلا انحراف جماعت اسلامی نے کیا ۔پہلے افغان جنگ اور پھر جہاد کشمیر کے نام پر ہونے والی پراکسی وار میں اپنے جوان رعنا جھونک دیئے۔اب اگرچہ نجی محافل میں ماضی کی ان غلطیوں پر شرمندگی اور ندامت کا احساس ہوتا ہے مگر ببانگ دہل یہ اعلان نہیں کیا جا تا کہ مولانا مودودیؒ کا موقف ہی درست ہے اور ہم غلطی پر تھے کیونکہ ایسی صورت میں لوگ خون کا حساب مانگیں گے ،ان قائدین کا گریبان تھامیں گے جنہوں نے شہادت کے خواب دکھائے اوران کے بچے مروائے ۔اسی طرح قومی سیاست کے افق پر جگمگاتے سیاسی قائدین کو بھی حقیقت پسندی کی صورت میں غیر مقبولیت کا خوف لاحق ہے اس لئے وہ اپنے دیرینہ موقف سے چمٹے ہوئے ہیں وگرنہ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ کشمیر چیستاں میں لپٹی پہیلی میں چھپا وہ معمہ ہے جسے حل کرنا ناممکن ہے۔اگر کشمیر کی آزادی دیوانے کا خواب نہ ہوتی تو دکانوں پر یہ جملہ نہ لکھا جاتا کہ کشمیر کی آزادی تک اُدھار بند ہے۔عسکری قیادت بھی اسی مخمصے کا شکار ہے ۔چند روز قبل قانون نافذ کرنے والے ادارے کے ایک باخبر افسر سے حال ہی میں بھارت کے دبائو پر تحویل میں لئے گئے ایک جہادی رہنما کے متعلق پوچھا تو رازداری سے کہنے لگے ’’ہم تو خود اس پر اعتماد نہیں کرتے اور اس شک کا اظہار کرتے ہیں کہ شاید یہ ڈبل ایجنٹ ہے‘‘جب تک آپ ایجنٹ بناتے رہیں گے ڈبل ایجنٹ بھی سامنے آتے رہیں گے۔
آج یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر اگر ہم ریاستی و غیر ریاستی سطح پر منافقت ترک کر دیں اور صدق دل سے طے کر لیں کہ کشمیریوں کی محض سفارتی ،سیاسی اور اخلاقی مدد ہی کریں گے تو یہ ہم سب کے حق میں بہتر ہو گا۔ حاصل کلام یہ ہے کہ پی آئی اے سمیت ہر ادارے کی نجکاری ہو سکتی ہے لیکن خدارا جہاد کو پرائیویٹائز نہ کریں ۔
نوٹ : الطاف حسن قریشی کسی تعارف کے محتاج نہیں ۔ان کی مذکورہ بالا تصنیف ’’ملاقاتیں کیا کیا‘‘ اہم شخصیات کے تاریخی انٹرویوزپر مشتمل ہے۔ خوبصورت کتاب پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔
تازہ ترین