آپ آف لائن ہیں
اتوار 12؍محرم الحرام 1440ھ 23؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
جو نمازی کے آگے سے گزرے ،اسے کس طرح روکا جائے؟

تفہیم المسائل

سوال: جو نمازی کے آگے سے گزرے ،اسے کس طرح اور کون کون روک سکتا ہے ،کچھ لوگ کہتے ہیں کہ نمازی سامنے گزرنے والے پر(یعنی اسے روکنے کے لیے) اپنا ہاتھ بھی استعمال کرسکتا ہے؟ (سلمان لودھی)

جواب: اگر نمازی کے سامنے سُترہ قائم نہیں اورکوئی شخص گزرنا چاہتاہے یا سُترہ ہے ،مگر وہ شخص نمازی اور سُترہ کے درمیان سے گزرنا چاہتاہے تو نمازی کو رخصت ہے کہ اُسے گزرنے سے روکے ،خواہ سبحان اللہ کہے یا (مغرب ،عشاء اور فجر میں) جہر سے قراءت کرے یا ہاتھ یا سر یا آنکھ کے اشارے سے منع کرے ، اس سے زیادہ کی اجازت نہیں ،مثلاً کپڑا پکڑ کر جھٹکنا یا مارنا ،اگر کوئی ایسا عمل کیا جو عملِ کثیر میں شمار ہوتاہے تو نماز جاتی رہی ۔

امام بخاریؒ نے اپنی صحیح میں ایک باب باندھا : ’’بَابٌ:یَرُدُّ المُصَلِّی مَنْ مَرَّ بَیْنَ یَدَیْہِ‘‘(نمازی اپنے سامنے سے گزرنے والے کو ہٹائے) پھر اس باب کے تحت ایک تعلیق بیان فرمائی:’’اور حضرت عبداللہ بن عمر ؓنے کعبہ میں اپنی نماز کے تَشَہُّد میں سامنے سے گزرنے والے کو دورکیا اورفرمایا: اگر گزرنے والا بغیر لڑائی کے باز نہ آئے تو اس سے لڑو ،(صحیح بخاری:کتاب الصلاۃ)‘‘۔(۱)ترجمہ:’’ حضرت نافع ؒبیان کرتے ہیں : حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جو شخص نماز میں تمہارے سامنے سے گزرے ،اسے مت چھوڑو ،اگر وہ لڑائی کے بغیر بازنہ آئے تواس سے لڑو ،(مُصنّف عبدالرزاق :2325)‘‘۔

(۲)ترجمہ:’’عمروبن دینارؒ بیان کرتے ہیں: میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے سامنے سے گزرا ،وہ نماز کے قعدے میں تھے ،وہ قعدہ سے کھڑے ہوگئے ، پھر میرے سینے پردھکا دیا،(مُصَنَّف ابن ابی شیبہ:2921)‘‘۔

(۳)ترجمہ:’’ا بوصالح السّمّان بیان کرتے ہیں :میں نے دیکھا حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن کسی چیز کو لوگوں سے سُترہ بناکر نماز پڑھ رہے تھے، بنوابی مُعیط کے ایک نوجوان نے ان کے سامنے سے گزرنے کا ارادہ کیا تو حضرت ابوسعیدؓ نے اس کے سینے پر دھکا دیا ،اس نوجوان نے ادھر اُدھر دیکھا ،مگر اس نے حضرت ابوسعید ؓکے سامنے کے علاوہ گزرنے کے لیے کوئی جگہ نہ پائی ،وہ دوبارہ ان کے سامنے سے گزرنے لگا ،حضرت ابوسعیدؓ نے اسے پہلی بار سے زیادہ زور سے دھکا دیا ،اس نے حضرت ابوسعیدؓ سے تکلیف اٹھائی ،اس نے مروان کے پاس جاکرحضرت ابوسعیدؓ سے پہنچنے والی تکلیف کی شکایت کی ، حضرت ابوسعیدؓ بھی اس کے پیچھے پیچھے مروان کے پاس آئے ،مروان نے کہا: اے ابوسعید ! آپ کے اور آپ کے بھتیجے کے درمیان کیا معاملہ ہوا؟،انہوں نے بیان کیا: میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جب تم میں سے کوئی شخص کسی چیز کو لوگوں سے سُترہ بناکر نماز پڑھے ، پھرکوئی شخص اس کے سامنے سے گزرنے کا ارادہ کرے ،تووہ اسے دفع کرے ،اگر وہ بازنہ آئے تواس سے لڑے، کیونکہ وہ شخص شیطان ہے ،(صحیح بخاری: 509)‘‘ ۔

علامہ ابوالحسن علی بن ابوبکر فرغانی حنفیؒ لکھتے ہیں:ترجمہ:’’جب نمازی کے سامنے سُترہ نہ ہو اورکوئی اس کے سامنے سے گزرے یا اس کے سامنے سُترہ ہو اورکوئی اس کے اور سُترے کے درمیان سے گزرے تونمازی اسے منع کرے اور اسے اشارے سے منع کرے جیساکہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا کے دو بچوں کے ساتھ کیایا سبحان اللہ پڑھ کر انہیں گزرنے سے منع کرے ،(ہدایہ ،جلد1،ص:274)‘‘۔

علامہ کمال الدین ابن ہمام لکھتے ہیں:ترجمہ:’’ اور وہ جو ابوداؤد میں روایت ہے : ’’جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے ،تو اپنے سامنے کوئی چیز رکھ لے اوراگر اورکوئی چیز نہ ملے تو عصا رکھ لے ، وہ بھی نہ ہو تو خط کھینچ لے ،پھر آگے سے گزرنے والے کی پروا نہ کرے ‘‘،مُصنّف نے پہلے قول کو اختیار کیا ، حدیث کی اتباع کرنا اَولیٰ ہے ،(فتح القدیر ، جلد1،ص:418)‘‘۔

شیخ التفسیر والحدیث علامہ غلام رسول سعیدیؒ لکھتے ہیں: ’’یہ حدیث اگر چہ ضعیف اور مضطرب ہے لیکن اس پر عمل کیاجاسکتاہے کیونکہ فضائل اعمال میں حدیث ضعیف معتبر ہوتی ہے ،(شرح صحیح مسلم،جلد1،ص:1324)‘‘۔

علامہ ابن نجیم حنفی لکھتے ہیں: ترجمہ:’’فقہائے کرام نے کہا: نمازی کے سامنے سُترہ نہیں یا سُترہ ہے اور کوئی شخص نمازی اور سُترہ کے درمیان سے گزرنا چاہتاہے تو نمازی اسے گزرنے سے روکے ،کیونکہ یہ حکم احادیث میں ہے: وہ ہاتھ کے اشارے سے روکے یا سرسے اشارہ کرکے روکے یا آنکھوں کے اشارے سے روکے یا تسبیح(سبحان اللہ) پڑھے اور ’’ولوالجی ‘‘ نے یہ اضافہ کیاہے کہ آواز سے قرآن کی قراء ت کرے ،بہتریہ ہے کہ جہری(یعنی فجر، مغرب اور عشاء کی) نماز پڑھ رہا ہو تو اس میں (منفرد) اونچی آواز سے قرأت کرے ،(البحرالرائق ،جلد2،ص:32)‘‘۔

علامہ بدرالدین عینی لکھتے ہیں:ترجمہ:’’ آیا نماز ی سے آگے گزرنے والے کو دفع کرنا واجب ہے یا مستحب، تو امام نوویؒ نے کہا : یہ امر مستحب ہے اور اس کی تاکید ہے اور میرے علم میں نہیں ہے کہ فقہائے کرام میں سے کسی نے اسے واجب قرار دیا ہے ،میں (عینی )کہتا ہوں:اہل ظاہر نے ظاہر حدیث پر عمل کرتے ہوئے اسے واجب قرار دیا ہے، ہوسکتا ہے امام نووی ؒکو اس کا علم نہ ہو۔مزید لکھتے ہیں:’’سامنے سے گزرنے والے کو اپنی جگہ سے آگے چل کر روکنااگرچہ جائز ہے ،لیکن بہتر ہے کہ اپنی جگہ پر کھڑے کھڑے روکے، کیونکہ نماز میں چلنے کا بگاڑ نمازی کے آگے سے گزرنے کے بگاڑ سے زیادہ ہے، لہٰذا اس کے لیے اتنا ہی دفع کرنا مباح ہے جتنا کہ وہ اپنی جگہ کھڑے کھڑے کرسکے اور اگر گزرنے والا فاصلے پر ہے اور نمازی اپنی جگہ کھڑے کھڑے نہیں روک سکتا تو اشارے سے روکے یا سبحان اللہ کہے، دونوں طریقے اختیار نہ کرے،(عمدۃ القاری،ج:4،ص:426)‘‘۔

غرض حدیثِ مبارک میں نمازی کے آگے سے گزرنے والے شخص کو روکنے کے لیے لڑنے کے الفاظ اس مسئلے کی شدت کو بیان کرنے کے لیے ہیں ،عملاً ایسا نہیں کرناچاہیے اور عملِ کثیر ویسے ہی مُفسدِ نماز ہے، البتہ اگر نمازی کے آگے سے گزرنے والا ہاتھ کی پہنچ میں ہے تو ایک ہاتھ بڑھا کر اسے روک سکتا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں