آپ آف لائن ہیں
اتوار 12؍محرم الحرام 1440ھ 23؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مقصود اعوان، لاہور

عام انتخابات کے بعد وفاق اور چاروں صوبوں میں پاکستان تحریک انصاف، پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور ان کی اتحادی سیاسی جماعتوں کا حکومت سازی کے حوالے سے جوڑ توڑ آخری مرحلے میں داخل ہو گیا ہے اور اگلے ہفتے تک نئے وزیراعظم، اسپیکرز، وزراء اعلیٰ منتخب ہو کر اپنے عہدوں کا حلف اٹھا لیں گے۔ پاکستان تحریک انصاف وفاق، کے پی کے اور پنجاب میں آسانی سے حکومتیں بنانے کی پوزیشن میں آ گئی ہے جبکہ سندھ میں پیپلز پارٹی، بلوچستان میں بلوچستان عوامی پارٹی کی مخلوط حکومتیں قائم ہوں گی۔ وفاق، پنجاب اور بلوچستان میں نئی حکومتوں کو تاریخ کی مضبوط ترین اپوزیشن کا سامنا ہو گا۔ اس حوالے سے پنجاب کا سیاسی محاذ بڑا گرم رہے گا۔ پاکستان تحریک انصاف نے مسلم لیگ (ق) اور آزاد اراکین کی حمایت سے حکومت بنانے کے لئے مطلوبہ اراکین پنجاب اسمبلی کی حمایت حاصل کر لی ہے لیکن پنجاب میں گزشتہ کئی سالوں سے حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کا مقابلہ کرنے کے لئے پی ٹی آئی میں کوئی قد آور سیاسی شخصیت سامنے نہیں ہے جو مسلم لیگ (ن) کی مضبوط اپوزیشن کا مقابلہ کرنے کے لئے جوڑ توڑ کا تجربہ اور سیاسی بصیرت کی حامل ہو۔ 

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ اور نامزد وزیر اعظم عمران خان نے اپنے سیاسی حلیف چوہدری پرویز الٰہی کو اسپیکر پنجاب اسمبلی نامزد کر کے پنجاب کا سیاسی مورچہ سنبھالنے کا ٹارگٹ دیا ہے لیکن پی ٹی آئی قائد ایوان کے لئے کسی ایسے تعلیم یافتہ، دیانتدار، باکردار اور باصلاحیت نوجوان تلاش کر کے سامنے لانا چاہتی ہے جو پی ٹی آئی میں نئی دیانتدار لیڈر شپ کے خواب کو عملی جامہ پہنا سکے۔ پنجاب میں شاہ محمود قریشی کے صوبائی انتخاب ہارنے کے بعد پنجاب کی وزارت اعلیٰ دوڑ سے باہر ہو کر اسپیکر قومی اسمبلی نامزد ہوگئے لیکن ابھی بھی اس کے حوالے سے پی ٹی آئی کے اندر سرد جنگ جاری ہے۔ اس ضمن میں عبدالعلیم خان، میاں اسلم اقبال، سبطین خان، میاں محمود الرشید، ڈاکٹر یاسمین راشد کے نام آنے پر انہیں پارٹی کے اندر سے مخالفت کا سامنا ہے۔ لیکن عمران خان کی طرف سے نوجوان وزیر اعلیٰ لانے کے اعلان پر گمان کیا جا رہا ہے کہ چکوال سے راجہ یاسر ہمایوں سرفراز ہی مضبوط امیدوار نظر آرہے ہیں ۔ 

لیکن پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی مضبوط اپوزیشن اور میاں برادران کا سیاسی محاذ پر مقابلہ کرنا مذکورہ شخصیات کے بس کی بات نہیں ہے۔ اس صورت حال میں پی ٹی آئی کو پنجاب میں مضبوط اور مستحکم حکومت کے لئے چوہدری پرویز الٰہی جیسی قدر آور سیاسی شخصیات کی ضرورت ہے۔ پنجاب مضبوط ہونے سے ہی وفاق میں پی ٹی آئی کی حکومت مستحکم ہو گی اور عوام سے کئے گئے وعدے پورے کر سکے گی تاہم پی ٹی آئی کے اندر بعض بااثر افراد کے چوہدری پرویز الٰہی کے نام پر شدید تحفظات کے باعث قائد ایوان کے لئے کسی موزوں ترین نام پر بڑی سوچ بچار کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) نے پنجاب کا تخت بچانے کے لئے نئی حکمت عملی طے کی ہے اور پاکستان تحریک انصاف کا وفاق اور پنجاب میں مقابلہ کرنے کے لئے اپنی حلیف جماعتوں سے مل کر نئی صف بندی مکمل کر لی ہے۔ 

مسلم لیگ (ن) نے پیپلز پارٹی، ایم ایم اے اور دیگر حلیف جماعتوں سے مل کر عمران خان کے وزیر اعظم کا حلف اٹھانے سے پہلے ہی گرینڈ اپوزیشن قائم کر کے حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کے موڈ سے نظر آ رہا ہے کہ عمران خان کے لئے نیا امتحان ان کی حکمرانی شروع ہونےسے پہلے ہی شروع ہو گیا ہے۔ اگرچہ پی ٹی آئی نے 2018ء کا انتخابی معرکہ جیت لیا ہے مگر یہ ان کی سیاسی جنگ کی پہلی فتح ہے مگر انتخابی دھاندلی کے ایجنڈے پر قائم ہونے والی گرینڈ اپوزیشن سے پی ٹی آئی کا بڑی سیاسی جنگ کا فائنل رائونڈ حکومت سازی کے بعد شروع ہوگا کیونکہ ملک کی بعض مذہبی جماعتیں اور لسانی شخصیات جو انتخابات میں شکست سے دوچار ہوئیں وہ ملک میں انتخابی دھاندلی کے نام پر ایجی ٹیشن اور افراتفری کی سیاست کرنا چاہتی ہے انہیں انتخاب میں ہارنے سے زیادہ احتساب کا خوف ہے مگر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں اتنی نشستیں حاصل کرلی ہیں کہ وہ وفاق اور صوبوں میں مضبوط اپوزیشن کی سیاست کرسکتے ہیں اس لئے دونوں جماعتیں جمہوریت کی خاطر ایجی ٹیشن کی سیاست کی طرف نہیں جائیں گے ۔ 

عمران خان کو جو وزارت عظمیٰ ان کے لئے کسی صورت میں پھولوں کی سیج نہیں ہوگی انہوں نے 100دن کا جو پروگرام دیا ہے عوام بڑی بے چینی سے اس کے منتظر ہیں مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت کو پنجاب حکومت کے ہاتھوں سے نکل جانے کا خوف نہیں ہے۔ انہیں اس بات کا خوف ہے کہ اگر پی ٹی آئی پنجاب میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئی تو اس کی دس سالہ کارکردگی کھل کر سامنے آجائے گی ۔ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کے میاں حمزہ شہباز، رانا محمد اقبال خان، خواجہ سعد رفیق، شیخ علائو الدین، رانا مشہود خان، ملک تنویر اسلم، چودھری محمد اقبال، ملک وارث کلو، خلیل طاہرسندھو، خواجہ سلمان رفیق، منشاء اللہ بٹ جیسے درجنوں تجربہ کار پارلیمنٹرین جو بھاری اکثریت سے کامیاب ہو کر پنجاب اسمبلی کے ایوان میں آئےہیں ان کو پنجاب اسمبلی کے اندر اور باہر سامنا کرنا پی ٹی آئی کے نوجوان اور نئے اراکین اسمبلی کے لئے بڑا مشکل مرحلہ ہوگا۔

تاہم پاکستان تحریک انصاف کی پہلی بار حکومت بننے جارہی ہے، سیاسی جماعتوں کو حکومت سے مثبت معاشی پالیسیوں کی توقع رکھنی چاہئے اور تمام جماعتیں ایک دوسرے سے منہ موڑنے کی بجائے ملک کو سیاسی و معاشی بحرانوں سے نکالنے کے لئے مل کر کام کرنے کا موقع دینا چاہئے ۔ پاکستان تحریک انصاف نے جنوبی پنجاب کے عوام میں احساس محرومی کے سدباب کے لئے جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کا جو اعلان کیا تھا پی ٹی آئی کو پارلیمینٹ میں دوتہائی اکثریت نہ ملنے پر آئینی طور پر نئے صوبوں کا قیام ممکن نظر نہیں آتا البتہ یہ بات بڑی خوش آئند ہے کہ تحریک انصاف نے جنوبی پنجاب کے تین ڈویژنوں ملتان، ڈیرہ غازی خان اور بہاولپور کے 11اضلاع کےلوگوں کو تعلیم، صحت، ریونیو، پولیس، مواصلات و تعمیرات، آبپاشی جیسے ا ہم محکموں کے متعلق مسائل کے حل کے لئے ملتان میں نیا انتظامی ڈھانچہ تشکیل دینے کے لئے عمل شروع کردیاہے۔ 

ملتان نئی سول سیکرٹریٹ میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور ایڈیشنل آئی جی پولیس کو تعینات کیاجائے گا جس کا اعلان عمران خان وزیراعظم منتخب ہونے کےبعد خود کریں گے۔ قابل ذکر پہلو یہ ہے کہ جنوبی پنجاب کےلئے الگ منی سول سیکرٹریٹ قائم کرنے کے لئے گورنر پنجاب ملک رفیق رجوانہ نے بڑی کاوشیں کیں مگر سابق وزیر اعلیٰ میاں شہبازشریف بیوروکریسی کی مخالفت کے باعث اس پر عمل نہ کراسکے اور مسلم لیگ ( ن) جنوبی پنجاب کے اپنے امیدواروں کو انتخابات میں شکست کی صورت میں اس کی بڑی قیمت چکانا پڑی۔ پنجاب اسمبلی میں نئے اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر اور قائد ایوان (وزیر اعلیٰ) کے چنائوکے لئے تیاریاں اور انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں۔ پی ٹی آئی کے نامزدا سپیکر چوہدری پرویز الٰہی کی آمد سے قبل ہی ان کے مقرر کردہ سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمد خان بھٹی نے 9 سالہ جبری رخصت کے بعد دوبارہ چارج سنبھال کر اپنے فرائض منصبی اداکرنا شروع کردیئے ہیں۔اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب خفیہ طریقہ انتخاب کے تحت جبکہ قائد ایوان (وزیراعلیٰ) کا چنائو اوپن ہوگا۔ 

اس حوالے سے پی ٹی آئی کے اسپیکر کے نامزد امیدوار چوہدری پرویز الٰہی نے اپنی اسپیکر شپ کو یقینی بنانے کے لئے جوڑتوڑ اور اراکین اسمبلی سے رابطہ اور صف بندی کو حتمی شکل دے دی ہے۔ انہیں اس حوالے سے مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے بعض اراکین نے حمایت کا یقین دلایا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ بطورا سپیکر مضبوط ترین اپوزیشن کی موجودگی میں ایوان کاوقار اور تقدس برقرار رکھتے ہوئے کس طریقے سے ایوان کو چلائیں گے، یہ چوہدری پرویز الٰہی کی سیاسی بصیرت کا امتحان ہوگا۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں

تجزیے اور تبصرے سے مزید
تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید