آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 8 ؍ربیع الاوّل 1440ھ 17؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تفہیم المسائل

سوال:مقتدی امام کے ساتھ تکبیرِ اولیٰ سے شامل تھا ، مقتدی نے غلطی سے دوسری رکعت میں اَلتَّحیات کے بعد درودِ ابراہیمی پڑھ لیا ، جس کی وجہ سے اس پر سجدۂ سہو واجب ہوگیا ،اب وہ سجدۂ سہو کیسے کرے گا ،کیونکہ وہ امام کے ساتھ پہلی رکعت سے شامل ہے اور کیا اس کی نماز سجدۂ سہو کے بغیر مکمل ہوجائے گی ؟،(محمد ناظم ،ظفر وال)

جواب: اگرامام کی اقتدا میں نمازپڑھتے ہوئے مقتدی سے نماز میں سہو واقع ہوجائے،تو اُس پر سجدۂ سہو نہیں ہے ،حدیث پاک میں ہے : ترجمہ:’’بے شک، امام اپنے مقتدیوں کو کفایت کرتاہے ،پس اگر امام سے سہو واقع ہو تو اس پر سہو کے دوسجدے لازم ہیں اور اس میں مقتدی اُس کی پیروی کریں گے ، جماعت میں شامل کسی مقتدی سے انفرادی طورپر سہو ہوتو اس پر سجدۂ سہو لازم نہیں ہے ،امام کی (نماز کی صحت) اس کے لیے کافی ہے ،(سُنن الکبریٰ للبیہقی :3884)‘‘۔مَراقی الفلاح میں ہے:ترجمہ:’’ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: امام(نماز کی صحت کے لیے ) تمہاراضامن ہے،وہ تمہارے سہو اور قراءت کی ذمہ داری کو پورا کرلیتاہے،(حاشیہ طحطاوی علیٰ مراقی الفلاح، جلد2،ص:64)‘‘۔علامہ علاؤالدین کاسانی حنفی لکھتے ہیں:ترجمہ:’’ پس اگر مقتدی نماز میں بھول جائے تواس پر سجدۂ سہو لازم نہیں ہے،کیونکہ اس کے لیے سجدہ کرنا ممکن نہیں ہے،اس لیے کہ مقتدی نے اگرامام کے سلام پھیرنے سے پہلے سجدۂ سہو کیا تو امام کی مخالفت ہوگی اور اگر امام کے سلام پھیرنے کے بعد سجدہ کیاتو وہ امام کے سلام پھیرتے ہی نماز سے نکل جاتا ہے،(بدائع الصنائع، جلد1،ص:260)‘‘۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں