آپ آف لائن ہیں
اتوار2؍صفر المظفّر 1442ھ 20؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

’بلوچستان میں برفباری، بارشوں میں 20 افراد جاں بحق ہوئے‘

قومی شاہراہوں کی دیکھ بھال اور انہیں بحال رکھنا این ایچ اے کی ذمہ داری ہے، چیف سیکریٹری


چیف سیکریٹری بلوچستان کیپٹن ریٹائرڈ فضیل اصغر نے کہا ہے کہ حالیہ برف باری اور بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں20 افراد جاں بحق اور 23 زخمی ہوئے، 176 مکان گرے اور 393 مکانات کو نقصان پہنچا۔

انہوں نے بتایا کہ صوبے میں 8 ہزار ایکڑ سے زائد زرعی اراضی متاثر ہوئی اور 800 مویشی ہلاک ہوئے ہیں، بلوچستان حکومت کی جانب سے امدادی کارروائیاں جاری ہیں، برف صاف کرنے والی بھاری مشینری کراچی پورٹ پہنچ چکی ہے جو کسٹم کلیئرنس کے بعد جلد کوئٹہ پہنچ جائے گی۔

ادھر وزیرِ اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے صوبے میں حالیہ برف باری اور بارشوں سے پیدا ہونے والی صورتِ حال میں متعلقہ وفاقی محکموں کی عدم دلچسپی اور غیر ذمے دارانہ رویے پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بلوچستان وفاقی محکموں کی ترجیحات میں شامل نہیں، ان محکموں کا یہ رویہ ہمارے لے ہرگز قابلِ قبول نہیں ہے، اس سلسلے میں وزیرِ اعظم عمران خان کو خط لکھ کر آگاہ کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیئے: بلوچستان میں برف باری کا 30 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا

برف باری اور بارشوں کی صورتِ حال سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا کہ چیئرمین این ایچ اے، چیئرمین این ڈی ایم اے اور دیگر افسران کو بلوچستان آنا چاہیے تھا، مگر وہ نہیں آئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ قومی شاہراہوں کی دیکھ بھال اور انہیں بحال رکھنا این ایچ اے کی ذمہ داری ہے لیکن برف باری سے پیدا ہونے والیے صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے این ایچ اے نے اپنی ذمہ داری پوری طرح ادا نہیں کی۔

وزیرِ اعلیٰ بلوچستان نے یہ بھی کہا کہ بند قومی شاہراہوں کو صوبائی محکموں کی کوششوں سے کھولا گیا، این ایچ اے کو مسلم باغ میں اپنا مستقل مرکز قائم کرنا ہوگا۔

قومی خبریں سے مزید