آپ آف لائن ہیں
بدھ21؍ذی الحج1441ھ12؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

لینن ایک پست قامت شخص تھا۔ اس کے ’’دیوان خاص‘‘ تک پہنچنے کے لئے ملاقاتی کو بہت سے بڑے سائز کے خالی ہالوں میں سے گزرنا پڑتا تھا اور اس دوران مارے خوف کے اس کے قدم لڑکھڑانے لگتے تھے۔

بالآخر وہ کمرہ آ جاتا جہاں لینن متمکن ہوتا لیکن یہ کمرہ ایک بڑے ہال کی ’’جسامت‘‘ کا تھا۔ اس کے آخری سرے پر ایک بہت بڑی میز کے پیچھے لینن بیٹھا ہوتا تھا جو اپنی پست قامتی کی وجہ سے پوری طرح نظر بھی نہیں آتا تھا۔

ملاقاتی اس کی طرف چلنے لگتا تھا اور اس کے قریب پہنچتے پہنچتے اس کی نبض ڈوبنے اور دل زور زور سے دھڑکنے لگتا تھا۔ اس کے بعد آپ ہی بتائیں اس ملاقاتی نے ’’بادشاہ سلامت‘‘ سے خاک بات کرنا تھی؟ پھر تو اس نے وہی کچھ کہنا تھا جو جہاں پناہ اس سے سننے کے خواہشمند ہوتے تھے۔

جن لوگوں نے ایوان صدر، وزیر اعظم ہائوس اور ایوان ہائے وزرائے اعلیٰ کا دہشت زدہ کرنے والا ماحول دیکھا ہے وہ جانتے ہیں کہ وہاںا سٹاف میر تقی میر کے اس مصرعہ ؎

لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام

کی مکمل تفسیر پیش کرتا ہے۔ راہداریوں میں پھرنے والے اہلکار روبوٹ لگتے ہیں۔ صاحب کی آمد کی اطلاع پر ’’ہائی الرٹ‘‘ کا جو منظر دکھائی دیتا ہے وہ باہر سے ملاقات کیلئے آنے والے شخص کے ہاتھ پائوں پھلا دیتا ہے اور وہ لمبی لمبی سانسیں لینے لگتا ہے۔

کمزور دل شخص کو اتنے دل دہلا دینے والے ماحول میں ہارٹ اٹیک بھی ہو سکتا ہے۔ ملاقاتی یہ سوچ کر اور بہت سے مشکل مرحلے طے کر کے یہاں تک پہنچا ہوتا ہے کہ وہ ملک و قوم کی فلاح و بہبود اور خود حکمران کی خیر خواہی میں بھی لگی لپٹے رکھے بغیر کھرے انداز میں سب کچھ کہہ ڈالے گا خواہ حکمرانوں کو برا ہی کیوں نہ لگے۔ لیکن حکمرانوں کے ’’دیوان خاص‘‘ تک پہنچتے پہنچتے اس پر ماحول کا جاہ و جلال طاری ہونے لگتا ہے اور پھر ’’تخت‘‘ پر جلوہ افروز حکمران کو دیکھتے ہی اس کی گھگھی بندھ جاتی ہے اور وہ بھی سب کچھ وہی کہنےلگتا ہے جو حکمران اپنی ’’رعایا‘‘ سے سننا چاہتے ہیں۔

اب کہتے ہو یوں کہتے، یوں کہتے جو وہ آتا

سب کہنے کی باتیں ہیں، کچھ بھی نہ کہا جاتا

دراصل جب حکمران اپنے حقیقی خیر خواہوں اور عوام کی نبض پر ہاتھ رکھنے والوں سے اس قدر دور ہو جائیں اور ہر وقت مصاحبوں کے جلو میں رہیں ان کے کانوں میں سچی بات کیسے پہنچ سکتی ہے۔

ان کے سامنے تو اخبار کے تراشے بھی بہت دیکھ بھال کر رکھنا پڑتے ہیں کہ بہت کم حکمران ایسے ہوتے ہیں جو اقتدار میں آنے کے بعد بھی اخبار بینی کیلئے وقت نکالنا پسند کریں حالانکہ اخباروں میں چھپنے والی بہت سی عناد بھری اور مفاداتی تحریروں میں سے انہیں کڑوی مگر مبنی برحقیقت ایسی تحریریں اور خبریں بھی مل سکتی ہیں جن پر غور کرنے سے وہ عوام کے حقیقی جذبات سے آگاہ ہو سکتے ہیں۔

اسی صورت میں وہ ملک و قوم کو بھی ترقی کی راہ پر ڈالنے والے مشوروں سے استفادہ کر کے اور یوں عوامی مقبولیت حاصل کر کے اپنے اقتدار کو طول بھی دے سکتے ہیں۔ میں نے بہت اچھے لوگوں کے رویے میں بھی تھوڑی بہت تبدیلی ضرور دیکھی ہے۔

میرے بعض بیورو کریٹ اور نان بیورو کریٹ دوست بھی اقتدار کے جھولے میں بیٹھنے کے بعد مست مست سے نظر آنے لگتے ہیں۔ اگرچہ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ ان کے دوست انہیں پہلے جیسا ہی سمجھیں لیکن ان کا عمل اس کی گواہی نہیں دے رہا ہوتا۔

اس شعبہ میں اعلیٰ ظرفی کی شرح بہت کم ہے اور اگر انسان پوری طرح سیاہ و سفید کا مالک ہو تو اس کے ظرف کا امتحان اور زیادہ کڑا ہو جاتا ہے تاہم جو اللہ کے نیک بندے ہوتے ہیں وہ اقتدار کو امتحان سمجھتے ہیں اور جتنی دیر اقتدار میں رہتے ہیں وہ خود کو کمرہ امتحان میں ہی محسوس کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں ایسے صاحبان اقتدار کی ’’مقدار‘‘  آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ اس کی مثالیں ہمیں عموماً جیل کی سلاخوں کے پیچھے تلاش کرنا پڑتی ہیں۔

اس وقت افراد نہیں پورا پاکستان کمرئہ امتحان میں ہے۔ ہمارے اندرونی اور بیرونی دشمن گھات لگائے بیٹھے ہیں۔

کیا ہمیں ذاتی مفادات اپنے بچوں اور ہماری آنے والی نسلوں سے بھی زیادہ عزیز ہیں۔ یہ تو پوری طرح زوال کی زد میں آئی ہوئی قوم کی نشانی ہے جبکہ ہم ابھی اس معیار پر پورے نہیں اترے۔ ابھی بہت سے انڈیکیٹر ایسے ہیں جو اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اگر ہم اپنی کمزوریوں کو محسوس کرنا شروع کر دیں اور انہیں دور کرنے کا مداوا کریں تو پاکستان کو درپیش خطرات کم ہو سکتے ہیں۔ میں پاکستان کی خوش قسمتی سمجھتا ہوں کہ اس وقت پاکستانی عوام دوستوں اور دشمنوں میں تمیز کرنے لگے ہیں۔

اور وہ اپنا وزن پاکستان دوستوں کے پلڑے میں ڈالنے میں لگے ہوئے ہیں لیکن اس طبقے کو رستے سے ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ خدانخواستہ اس مرتبہ اگر پاکستان دوست ہاتھ بے حرکت اور بے برکت ہوئے تو ہم بہت پیچھے چلے جائیں گے سو ان ہاتھوں کا مسلسل ’’مساج‘‘ ضروری ہے اور وہ جنہیں اس ملک سے محبت ہے مجھے امید ہے وہ اپنا یہ فرض جزا و سزا کا خیال ذہن میں لائے بغیر انجام دیتے رہیں گے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)