آپ آف لائن ہیں
جمعہ12؍ربیع الاوّل 1442ھ 30؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

عابد محمود عزام

تعلیم یافتہ نوجوان کسی بھی قوم کا قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں،ان ہی کی بہ دولت ملک و قوم ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے بام عروج تک پہنچتی ہی، لیکن یہ اسی صورت میں ممکن ہے، جب تعلیمی نظام مستحکم ہو،اگر اس نظام کی بنیادیں ہی کھوکھلی ہوں گی،تو ان پر مضبوط عمارت ہر گزکھڑی نہیں ہوسکتی۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں نظام تعلیم کی بنیادیں کمزور ہوتی جارہی ہیں،اس کا اندازہ امتحانات میں بڑھتے ہوئے نقل کلچر سے لگایا جا سکتا ہے۔ 

امتحانات میں مختلف طریقوں سے نقل کرنے کے رجحان میں اضافہ ہورہا ہے، جس میں موبائل فون کے ذریعے معاونت، کتاب یا کاپی کو چھپا کر امتحان گاہ میں لے جانا یا مطلوبہ سوالات کے جوابات کاغذ یا کسی اور چیز پر لکھ کر امتحان گاہ میں لے جانا، بلکہ اب تو اصل امید وار کی جگہ کسی اور سے پرچہ دلوانا بھی عام ہے۔یہ تمام حالات ملک و قوم، بالخصوص اساتذہ اور والدین کے لیے لمحۂ فکریہ ہیں۔ نقل ایک ناسور ہے، جس سے نسل نو کی صلاحیتوں کو نہ صرف زنگ لگ رہا ہے بلکہ ان میں بد عنوانی، جھوٹ اور ککرو فریب بھی پروان چڑھ رہا ہے۔ 

اس گھناؤنے عمل میں کسی نہ کسی سطح پر ہم سب ہی شریک ہیں، کیوں کہ ہم نے کبھی اس کی روک تھام کے لیے جامع کوشش نہیں کی، اپنے چھوٹے بہن، بھائیوں کو یہ نہیں سمجھایا کہ نقل چاہے، ایک لفظ ہی کی کیوں نہ کی جائے وہ ’’چوری‘‘ ہی ہوتی ہے، کمرۂ امتحان میں کتاب کھول کر یا موبائل فون پر کی جانے والی چوری ہی نقل نہیں کہلاتی بلکہ برابر میں بیٹھے ساتھی طالب علم سے کچھ پوچھنا یا کسی کے کام کو ہو بہو لکھ لینا بھی نقل ہی ہے۔یہاں افسوس ناک بات یہ ہے کہ اب کچھ ممتحن بھی پیسے لے کر نقل کرواتے ہیں کسی بھی قوم کے ساتھ اس سے بڑا ظلم اورکیا ہوگا کہ جب تعلیم کے رکھوالے ہی پیسے لے کر تعلیم دشمنی کرنے لگ جائیں۔

اس میں قصور وار صرف طالب علم یا ممتحن ہی نہیں ہیں، بلکہ اس بگاڑ کی بنیادی ذمے داری والدین پر عائد ہوتی ہے، اگر وہ ہی بنا سوچے سمجھے، نوٹس، رجسٹرز یا گیس پیپرز کے نام پر پیسے نہ دیں تو بچوں کی کیا مجال کے وہ امتحان میں نقل کر سکیں، بعض اوقات تو والدین خود ہی پیسے دے کر بچوں کو نقل کرواتے ہیں تاکہ ان کے اچھے گریڈز آسکیں ۔ ذرا سوچیں، جس معاشرے میں مادہ پرستی کا یہ عالم ہو کہ نام نہاد اسٹیٹس کو بڑھانے کے لیے والدین خود بچوں کو نقل کی طرف راغب کریں تو پھر نسل نو سے کیسے اور کیوں کر اچھی امیدیں وابستہ کی جائیں؟

ہر سال امتحانات شروع ہونے سے قبل انتظامیہ کی جانب سے نقل کلچر کی روک تھام کے لیےبلند و بانگ دعوے تو ضرور کیے جاتے ہیں لیکن نتیجہ پچھلے برس سے بھی برا ہوتا ہے، ہر سال نقل کے نت نئے طریقے ایجاد ہوجاتے ہیں، طالب علم کھلے عام نقل کرتے دکھائی دیتے ہیں، اس طرح پورا سال محنت کرنے والے، پڑھنے والے طالب علموں کی بھی حوصلہ شکنی ہوتی ہے، ان میں بھی یہ سوچ پروان چڑھتی ہے کہ جب پیسے دے کر ہی اچھے گریڈز آجاتے ہیں تو ہم بلا وجہ پورا سال پڑھائی کیوں کریں۔

یہ ہمارے امتحانی نظام ہی کی کمزوری ہے کہ کچھ طالب علم پورا سال پڑھائی سے دور رہتے ہوئے بھی مطمئن ہوتے ہیں کہ ہم ہر گز ’’فیل‘‘ نہیں ہوں گے، سرِ عام یا چوری چھپے نقل کرکے کام یاب تو ہو ہی جائیں گے۔اگر انہیں یقین ہوکہ امتحانی مراکز پر سختی ہوگی، کسی قسم کا اثرو رسوخ کار گر ثابت نہ ہوگا ، ممتحن کو دھمکانے یا رشوت دینے کے الزام میں سخت تادیبی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گاتو کیا مجال کہ وہ سال بھر پڑھائی سے دور بھاگیں یا کتاب کھول کر نہ دیکھیں۔

لیکن یہ سب اسی صورت ممکن ہے جب ہمارا نظام امتحان پوری طرح شفاف ہو، اس میں جھول نہ ہو۔کہا جاتا ہے کہ ہمارے ملک میں دن بہ دن بے روزگاری میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، نوجوان ہاتھوں میں ڈگریاں تھامے نوکری کی تلاش میں در بہ در کی ٹھوکریں کھاتے نظر آتے ہیں، ملک میں ملازمتوں کی کمی ہے لیکن اس بات سے بھی انکار ممکن نہیں کہ اکثر نوجوان انٹرویو میں صرف اس لیے ناکام ہوجاتے ہیں کیوں کہ ان میں واقعی قابلیت کی کمی ہوتی ہے، اس کی ایک بڑی وجہ’’ نقل ‘‘ ہی ہے۔نقل کے ذریعے کام یاب تو ہوا جا سکتا ہے، ڈگریاں بھی خریدی جاسکتی ہیں لیکن ، بکسی بھی اچھے ادارے میں بنا قابلیت کے نوکری کا حصول انتہائی مشکل ہے۔نقل کرکے کام یاب ہونے والے نوجوان معاشرے پر بوجھ بن ہوتے ہیں۔ ان کے پاس ڈگری تو ہوتی ہے، مگر وہ قابل نہیں ہوتے، پھر یہی نا اہلی انہیں منفی سرگرمیوں کی طرف مائل کرتی ہے اور وہ جرم کی ایسی راہ کے مسافر بن جاتے ہیں، جس کی منزل سوائے تاریکی کے اور کچھ نہیں۔

یہاں ایک قابل ذکر امر یہ بھی ہے کہ نقل کر کے پاس ہونے والےیا پازیشن لینے والے طالب علم اپنی نام نہاد ’’کام یابی‘‘مبا رک باد تو وصول کر لیتے ہیں لیکن دلی طور پر کبھی مطمئن نہیں ہو پاتے، کبھی نہ کبھی ان کا ضمیرضرور ملامت کرتا ہے۔نقل کرکے کام یاب ہونے والے نوجوان تا عمر اپنے پیروں پر کھڑے نہیں ہو پاتے، انہیں زندگی کے ہر موڑ پرآگے بڑھنے کے لیے دوسروں کے سہارے یا سفارش کی ضرورت پڑتی ہے، مگر یاد رکھیے!ہر کام سفارش کی بنا پر نہیں ہوتا ۔ہمیں اپنے ارد گرد ہر دوسرا شخص بد عنوانی کی شکایت کرتا نظر آتا ہے، لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ اس کی بنیاد امتحان میں ’’نقل‘‘ ہی سے پڑتی ہے، کیوں کہ اس کےذریعےکام یاب ہونے والے طالب علم ، نوکری یا بڑا عہدہ حاصل کرنے کے لیے بھی رشوت دیتے ہیں ، ایسے چھوٹی چھوٹی رشوتیں دیتے دیتے بڑی بڑی بد عنوانیوں اور جرائم کے مرتکب ہو جاتے ہیں۔ 

 اگر اس جحان کو بروقت نہ روکاگیا، اس کے تدارک کے لیے سنجیدہ اورٹھوس اقدامات نہ کیے گئے، توہمارے مستقبل کو تاریکی سے کوئی نہیں بچا سکتا، کیوں کہ جس عمارت کی بنیاد ناقص ہوگی، وہ عمارت کبھی بھی مضبوط اور پائیدار نہیں ہو سکتی۔ عمارت کو مضبوط اور مستحکم کرنا ہے تو اس کی بنیاد نقل کو ختم کر کے تعلیمی نظام کو مضبوط کرنا ہوگا۔

اس ضمن میں بنیادی ذمے داری والدین اور اساتذہ پر عائد ہوتی ہے کہ وہ نسل نو کی تعلیم و تربیت میں کوئی کسر نہ چھوڑیں، انہیں صرف درسی کتابیں ہی نہ پڑھائیں بلکہ اخلاقیات کادرس بھی دیں، انہیں سمجھائیں کہ محنت سے کم نمبر حاصل کرنا نقل کے بہترین گریڈز سے ہزارہا گنا بہتر ہے۔ ’’نقل کے نقصانات‘‘ کے عنوان پر تمام کلاسز کے طالب علموں سے مضامین لکھوائے جائیں، تاکہ بچوں میں علمی شعور اور احساسِ ذمے داری پیدا ہو۔ کسی بھی شعبے میں ملازمتیں صرف میرٹ کی بنیاد پر دی جائیں۔ اگر ہر طالب علم کو یقین ہو کہ مطلوبہ قابلیت کے بغیر ملازمت کا حصول کسی طرح ممکن نہیں تو مستقبل کا سوچتے ہوئے وہ یقیناً تعلیم پر توجہ دیں گے اور نقل سے دور رہیں گے۔

       تعلیم یافتہ نوجوان، قلم اُٹھائیں اور لکھیں درج ذیل عنوان پر:

زندگی، تجربات کا دوسرا نام ہے۔ ہر انسان کی زندگی میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں، جن سے کچھ سیکھ لیتے ہیں، کچھ ٹھوکر کھا کر آگے چل پڑتے ہیں، پچھتاتے اُس وقت ہیں، جب کسی مسئلے سے دوچار ہوجاتے ہیں، مگر حل سمجھ نہیں آتا۔ دکھ سکھ، ہنسی خوشی، یہ سب زندگی کے رنگ ہیں، جن سے کھیلا جائے تو بہت کچھ حاصل ہوتا ہے۔ مشاہدے میں آیا ہے کہ، آج کا نوجوان زندگی سے مایوس ہوتا جا رہا ہے۔ ایک تجربے کے بعد دوسرا تجربہ کرتا ہے، جب پے در پے ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے۔ لیکن زندگی کے تجربات بہت کچھ سکھاتے ہیں۔ ہم نے آپ کے لیے ایک سلسلہ بعنوان،’’ہنر مند نوجوان‘‘ شروع کیا ہے، اگر آپ تعلیم یافتہ ہنر مند نوجوان ہیں تو اپنے بارے میں لکھ کر ہمیں ارسال کریں، ساتھ ایک عدد پاسپورٹ سائز تصویر اور کام کے حوالے سے تصویر بھیجنا نہ بھولیں۔اس کے علاوہ ایک اور سلسلہ ’’میری زندگی کا تجربہ‘‘کے نام سے بھی شروع کیا ہے، جس میں آپ اپنےتلخ وشیریں تجربات ہمیں بتا سکتے ہیں۔ بہت ممکن ہے کہ آپ کے تجربات یا تجربے سے دیگر نوجوان کچھ سیکھ لیں۔

ہمارا پتا ہے: ’’صفحہ نوجوان‘‘ روزنامہ جنگ، میگزین سیکشن، اخبار منزل،آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی۔