آپ آف لائن ہیں
جمعہ12؍ربیع الاوّل 1442ھ 30؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

نئی قومی تعلیمی پالیسی کیا نوجوانوں کی ترجمان ہوگی؟

کسی بھی قوم کی سلامتی اور خوشحالی کا راز بنیادی طور پر نسل نو کی تعلیم، مثبت سوچ اور مشترکہ افرادی قوت میں پوشیدہ ہوتاہے ۔ وطن عزیز کو مستقبل میں کس طرح لے کر چلنا ہے اس سلسلے میں قومی رہنما جو لائحہ عمل تیار کرتے ہیں اس کو ایک تعلیمی پالیسی کی شکل میں تمام صوبوں کے وزیر تعلیم، دانشوروں اور اساتذہ کی آراء کی روشنی میں قومی پالیسی کا درجہ دیا جاتا ہے اور کابینہ کی منظوری کے بعد نافذالعمل کیا جاتا ہے کہ آنے والی نسلیں اور موجودہ دور کے نوجوان کس طرح اس سے استفادہ حاصل کرتے ہیں۔ 

پہلی تعلیمی کانفرنس قائداعظم محمد علی جناح کی خواہش پر 27نومبر تا یکم دسمبر 1947ء کو وزیر تعلیم فضل الرحمن صاحب کی زیر صدارت منعقد ہوئی تھی، جس میں بانی پاکستان قائداعظم کا پیغام پڑھ کر سنایا تھا جس میں مستقبل کے نوجوانوں اور آنے والی نسل کے لیے ایک مربوط اور جامع نظام تعلیم کی تشکیل دینا تھی جس کے لیے قائداعظم نے چند رہنما اصول اور ان کے خدوخال اس طرح واضح کیے جس سے تعلیمی نظام کو صحت مندانہ تقویت مل سکتی تھی اور نوجوان اک قومی تعلیمی پالیسی کے تحت مشترکہ طور پر تعلیمی سرگرمیوں اور نظام تعلیم کی روشنی میں آگے بڑھتے رہتے جس میں اسلامی و دینی تعلیمات قومی مفاد اور جدید تعلیمی خطوط کے تحت نظام تعلیم آراستہ کرنا تھا اور ان کو مدنظر رکھتے ہوئے نوجوانوں کے شعوری احساس کے مطابق ناگزیر فیصلے کیے گئے تھے۔ لیکن آنے والے ادوار میں اس کو سبوتاژ کردیا گیا اس کے بعد 1969ء کی تعلیمی پالیسی پھر 1972ء سے 1980ء کی تعلیمی پالیسی کے دوران 1979ء میں قومی تعلیمی پالیسی بنائی گئی ۔

بعدازاں 1992سے2009ء تک پاکستان کا تعلیمی نظام صرف کمیشن، پالیسیوں اور مختلف کمیٹیوں کے مرہون منت رہا۔2017ء میں قومی تعلیمی پالیسی ازسرنو تشکیل کے مراحل کے بعد منظر عام پرآئی۔ نئی نئی سفارشات اور اصلاحات سامنے آئیں لیکن اس کے بعد بھی نظام تعلیم میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی رونما نہیں ہوئی اور مسلسل زوال پذیر ہوتا گیا ۔ماضی میں جلدی جلدی اساتذہ، لیکچرار، پرنسپل اور وائس چانسلر کے تبادلے کئے گئے۔ میٹرک اور انٹر بورڈ میں کئی بار تبدیلیاں لائی گئیں لیکن تعلیم کا معیار اور تعلیم کے ماحول میں تبدیلی نہیں آسکی بلکہ کرپشن، سفارش اور نقل بہت عروج پر رہی۔ 

کئی قابل، محنتی طالب علموں کے ساتھ زیادتی کی گئی۔ اب 2019ء بھی آکر چلاگیا پھر سے نئی تعلیمی پالیسی اور نصاب میں تبدیلی کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ چند ہفتے پہلے یہ خبر سامنے آئی کہ پہلی کلاس سے پانچویں کلاس کا نصاب پورے پاکستان میں ایک ہی ہوگا ۔ ایساکب سے ہوگا؟۔ عمل درآمد کب سے ہوگا؟

قومی تعلیمی پالیسی کے حوالے سے پاکستانی نوجوان کیا سوچتے ہیں؟۔ ان کے کیا نظریات ہیں؟ نئے نئے کیا آئیڈیاز ہیں ؟اس کے بارے میں بھی نہیں سوچا گیا۔

قومی تعلیمی پالیسی نرسری سے لے کر ہائر ایجوکیشن تک کی قومی سطح کی پالیسی ہوتی ہے جس میں اہل علم، دانشور اور اپنے اپنے شعبے کے ماہرین، اساتذہ کرام کے علاوہ تمام صوبوں کے وزیر تعلیم، سیکریٹری اور دیگر شخصیات اس کا حصہ بنتے ہیں۔ نوجوان نسل کے نمائندے کون ہوتے ہیں،کس تعلیمی ادارے سے منسلک ہوتے ہیں ، آج تک ان کا ذکر نہیں ہوا۔ نوجوانوں کو اس بات کا احساس ہے تعلیمی نظام میں کہاں کہاں جھول ہے ہمیشہ ان کمزوریوں کو نظرانداز کرکے تعلیمی پالیسی کی کمیٹی تشکیل دے دی جاتی ہے ۔نصاب اور تعلیمی نظام پر بحث و مباحثہ کیا جاتا ہے۔ لیکن آخر میں وہی ہوتا ہے جو اب تک ہوتا آرہا ہے۔ 

فنڈز مختص کیے جاتے ہیں مختلف شعبوں ، محکمہ تعلیم کے اسٹاف اور افسران کے لیے مراعات کا اعلان کیا جاتا ہے۔ جن تعلیمی اداروں اور جامعات میں مرمت کے کام ہیں، ان کی تزئین و آرائش کے لیے کام ہوگا۔ یہ قومی تعلیمی پالیسی کا ایک بڑا حصہ ہے۔ اب آجائیں مختلف شہروں کے کتنے دورے ہونے چاہئیں، اجلاس کتنے ہونے چاہئیں۔ گھوسٹ اسٹاف کتنا ہے اور گھوسٹ نما اسکول و کالج کتنے ہیں ان کے لیے ایک خطیر رقم رکھی جائے گی۔

بہرحال ہونا یہ چاہیے کہ، تدریسی نصاب کی تیاری کے لیے صوبائی اور وفاقی سطح پر نوجوانوں کے نمائندوں کو قومی تعلیمی پالیسی کی نشست میں دعوت دینی چاہئے تاکہ وہ ماہرین اور دانشوروں کے ساتھ مل کر ان عنوانات اور اس جدید تحقیق پر بحث کرسکیں جو تعلیمی نصاب کا حصہ بننے جارہے ہیں ۔ ان کی سوچ کو بھی ان آراء میں شامل کیا جانا چاہئے۔

ابتدائی طور پر اسلامی شخصیات، اسلامی افکار اور اسلامی تشخص کو ہر سطح پرائمری کلاس سےلے کر ہائر کلاس تک جو ہمارے اسلامی جمہوریہ پاکستان کی اساس ہے، اسے نصاب کا مکمل طور پر مستقل بنیادوں پر حصہ بنانا چاہئے۔ ماضی میں نہم، دہم اور گیارہوں، بارہوں کلاس سے کچھ چیزیں حذف کردی گئی تھیں، انہیں نصاب کا حصہ بنایا جائے۔

پاکستان کی تاریخ کو اہمیت دی جائے تاکہ نئی نسل اور ہمارے نوجوان طلباء و طالبات کو ان حقائق کا علم ہو جن کی بنا پر وطن عزیز حاصل کیا گیا۔ انہیں ان تمام رہنمائوں کے بارے میں آگہی دی جائے، جنہوں نے تحریک پاکستان سے لے کرقیام پاکستان تک اپنی خدمات پیش کی ہیں۔

قومی زبان اردو کو فروغ دیا جائے اور علاقائی زبانوں کو صوبائی سطح پر ان مضامین کے ساتھ رکھا جائے جس میں طالب علم کو آسانی میسر ہو۔اردو قومی زبان ہے اس کی ہر سطح پر پذیرائی کی جائے۔ دنیا کے نوے فیصد ممالک کی ترقی کا راز ان کی قومی زبان میںہے، لہٰذا ہمیں بھی آزادہوئے 73 سال ہوچکے ہیں لیکن ترقی کے لیے ہم دیگر ممالک کی طرف دیکھتے ہیں۔

ریاضی، کیمسٹری، فزکس، بائیولوجی، یعنی علم کیمیاء، علم طبیعات، علم حیاتیات اور اس سے منسلک دیگر شاخوں کے ساتھ ساتھ فائن آرٹ، سیاحت، ماڈرن سائنس پر ہونے والی جدید تحقیقات، جدید ٹیکنالوجی علم ارضیات کو بھی نصاب میں اس طرح پیش کیا جائے کہ لوئر کلاس سے سیکنڈری کلاس کے نصاب میں اس کی ابتدائی ہلکی زبان میں تعریف کی جائے اور چند ایسی مثالیں پیش کی جائیں کہ طالب علم بور بھی نہ ہو اور باآسانی ان کی سمجھ میں آجائے اس کے بعد انٹر سے بیچلرز کلاس تک نوجوان نسل کو کتابوں اور ویڈیوز کے ذریعے ان میں پوشیدہ محرکات کو اس طرح سامنے لایا جائے کہ طالب علم شعوری طور پر مثبت سوچ کے ساتھ اپنے اپنے شعبہ جات سے متعلق موضوعات اور عنوانات کو بخوبی ذہن نشین کرتا جائے۔ یہ کام علمی طور پر ہونا چاہئے اس کے بعد ان کو تحریری مواد دیا جائے اور پھرامتحانی کیفیت سے گزار کر ان کی شخصیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ اس شعبے میں کتنی دلچسپی لے رہے ہیں۔

سائنسی، تیکنیکی اور پیشہ ورانہ تعلیم کے ساتھ ساتھ نوجوان نسل کو جسمانی تعلیم کی بھی بہت ضرورت ہے جس سے نوجوانوں کو گمراہی سے بچایا جاسکتا ہے اس کے علاوہ کھیلوں کی بھی باقاعدہ تعلیم اور کھیلوں کی سرگرمیاں تربیت یافتہ ماہرین کی نگرانی میں ہونی چاہئے تاکہ آپس میں مقابلہ کا رجحان پیدا ہو ۔ جسمانی اور ذہنی طور پر مضبوط اور توانا بھی ہوں۔اسکول، کالج اور جامعات کے منعقد ہونے والے کھیلوں کے مقابلوں میں اپنے ادارے کی نمائندگی کرکے کامیابیاں حاصل کرسکیں۔

قومی تعلیمی پالیسی کی تشکیل میں پاکستان کے تمام چھوٹے بڑے شہروں، قصبوں اور دیہات میں موجود ہر قسم کے تعلیمی اداروں کی ایک بڑی ذمہ داری ہوتی ہے، خاص کر قومی تعلیمی پالیسی کے اغراض و مقاصد سرکاری تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے لیے یکساں ہوتے ہیں۔ لہٰذا وزیر تعلیم کی یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ محکمہ تعلیم سے منسلک اسٹاف و ملازمین، اساتذہ کرام، پرنسپل اور زیر تعلیم تمام طالب علموں کا کردار کس طرح کا ہونا چاہئے اس سلسلے میں انتظامیہ کس نوعیت کی ہونی چاہئے ہر شعبے میں تربیت یافتہ اور اہلیت کے مطابق ملازمین اور اسٹاف تعینات ہو جس کا کردار کسی بھی طرح مشکوک نہ ہو۔ 

اسی طرح تعلیمی اداروں اور مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء اور طالبات کے متعلق مکمل تحقیق کے بعد داخلے ملنے چاہئیں کیونکہ گزشتہ چند سالوں سے تعلیمی ادارے بدنام ہورہے ہیں۔ سگریٹ نوشی، منشیات، ہیروئن، آئس ڈرگ، کرسٹل اور شیشہ کا استعمال بہت بڑھتا جارہا ہے، اسے ہر حالات میں روکنے کی ضرورت ہے، جس کی وجہ سے دیگر طالب علم بھی متاثر ہوتے ہیں اور ان ذرائع کی نشاندہی کی جائے جن کے توسط سے منشیات تعلیمی اداروں کے اندر پہنچائی جاتی ہیں۔

نوجوانوں کی مزید خواہش ہے کہ انہیں ہر حال میں اپنی تعلیم کو مقدم رکھنا ہے لہٰذا اچھے، بااخلاق، تربیت یافتہ اساتذہ اور معلم کی خدمات حاصل ہوں جو علم کے ہر شعبے میں نوجوانوں کی رہنمائی کرسکیں اور پاکستان کے مستقبل کو شعور یافتہ انسان، شہری اور تعلیم سے آراستہ نوجوانوں کی ایک نئی کامیاب تعلیم یافتہ فوج ملک کی ترقی کے لیے قوم کے حوالے کی جائے اور یہ قومی تعلیمی پالیسی سے ہم آہنگ ہوکر ان اصولوں پر مبنی ہو جو ہرپاکستانی نوجوان کا خواب ہے، تاکہ ہمارا ملک صحیح معنوں میں ترقی کی طرف گامزن ہوسکے۔

       تعلیم یافتہ نوجوان، قلم اُٹھائیں اور لکھیں درج ذیل عنوان پر:

زندگی، تجربات کا دوسرا نام ہے۔ ہر انسان کی زندگی میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں، جن سے کچھ سیکھ لیتے ہیں، کچھ ٹھوکر کھا کر آگے چل پڑتے ہیں، پچھتاتے اُس وقت ہیں، جب کسی مسئلے سے دوچار ہوجاتے ہیں، مگر حل سمجھ نہیں آتا۔ دکھ سکھ، ہنسی خوشی، یہ سب زندگی کے رنگ ہیں، جن سے کھیلا جائے تو بہت کچھ حاصل ہوتا ہے۔ مشاہدے میں آیا ہے کہ، آج کا نوجوان زندگی سے مایوس ہوتا جا رہا ہے۔ ایک تجربے کے بعد دوسرا تجربہ کرتا ہے، جب پے در پے ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ مایوسی کا شکار ہو جاتا ہے۔ لیکن زندگی کے تجربات بہت کچھ سکھاتے ہیں۔ ہم نے آپ کے لیے ایک سلسلہ بعنوان،’’ہنر مند نوجوان‘‘ شروع کیا ہے، اگر آپ تعلیم یافتہ ہنر مند نوجوان ہیں تو اپنے بارے میں لکھ کر ہمیں ارسال کریں، ساتھ ایک عدد پاسپورٹ سائز تصویر اور کام کے حوالے سے تصویر بھیجنا نہ بھولیں۔اس کے علاوہ ایک اور سلسلہ ’’میری زندگی کا تجربہ‘‘کے نام سے بھی شروع کیا ہے، جس میں آپ اپنےتلخ وشیریں تجربات ہمیں بتا سکتے ہیں۔ بہت ممکن ہے کہ آپ کے تجربات یا تجربے سے دیگر نوجوان کچھ سیکھ لیں۔

ہمارا پتا ہے: ’’صفحہ نوجوان‘‘ روزنامہ جنگ، میگزین سیکشن، اخبار منزل،آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی۔