• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پنجاب: 2 سال میں 5 آئی جیز تبدیل ہوچکے ہیں


پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی پنجاب حکومت کے 2 سال میں صوبے کے 5 آئی جیز تبدیل ہوچکے ہیں۔

عثمان بزدار کی حکومت میں نئے آئی جی پنجاب غنی کا چھٹا نمبر ہے، اس سے قبل شعیب دستگیر، کیپٹن (ر) عارف نواز، امجد سلیمی، محمد طاہر اور کلیم امام اس عہدے پر کام کرچکے ہیں۔

پنجاب کی تبدیلی سرکاری میں پولیس کے محکمے میں تبدیلیوں کی روایت برقرار ہے۔

پی ٹی آئی حکومت نے 10 ماہ کی خدمات کے بعد شعیب دستگیر کو آئی جی کے عہد سے ہٹادیا ہے، انہوں نے یہ عہدہ 28 نومبر 2019ء کو سنبھالا تھا۔

ان سے قبل کیپٹن (ر) عارف نواز جو پی ٹی آئی حکومت آنے سے قبل آئی جی پنجاب تھے، انہیں 17 اپریل 2019ء کو دوبارہ عہدہ دیا گیا مگر وہ 28 نومبر تک ہی اس عہدے پر رہے اور تبدیل کردیے گئے۔

عارف نواز سے پہلے امجد جاوید سلیمی کو آئی جی پنجاب مقرر کیا گیا تھا انہوں نے 15 اکتوبر 2018 کو عہدے کا چارج سنبھالا، وہ بمشکل 6 ماہ یعنی 17 اپریل 2017 تک عہدے پر رہے اور تبدیلی کے عمل سے گزرے۔

امجد جاوید سلیمی سے پہلے محمد طاہر کو پی ٹی آئی حکومت نے آئی جی پنجاب کا عہدہ دیا مگر انہیں سب سے کم یعنی 1 ماہ بعد ہی تبدیل کردیا گیا۔

پی ٹی آئی حکومت نے اپنے دورہ حکومت کے پہلے آئی جی کلیم امام، جو اس وقت آئی جی سندھ ہیں، انہیں یہ عہدہ سپرد کیا تھا، انہیں 3 ماہ بعد ہی تبدیلی سرکار نے امجد جاوید سلیمی سے بدل دیا تھا۔

قومی خبریں سے مزید