آپ آف لائن ہیں
جمعہ12؍ربیع الاوّل 1442ھ 30؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ارسلان اللہ خان

جو اقوام وقت کی قدر کرتی ہیں کامیابی ان کے قدم چومتی ہے اور جو قومیں وقت کو برباد کرتی ہیں وہ ناکام و نامراد ہی رہتی ہیں۔ غالب نے کہا تھا کہ: ’’ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا‘‘ مگر ہم لوگ بے وجہ اور بے سبب تاخیر کرنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ ایک انگریزی کہاوت ہے کہ: ’’بلا سبب تاخیر کرنا دراصل وقت کی چوری ہے۔‘‘ایسا لگتا ہے کہ پوری قوم میں ہی وقت کی پابندی کا فقدان ہے تو پھرہمارے نوجوان کس طرح پیچھے رہ سکتے ہیں۔ 

وہ نوجوان جو دیہی علاقوں میں رہتے ہیں اکثر اپنا وقت چائے کے ہوٹلوں میں ٹی وی دیکھ کر گزار دیتے ہیں، اسی طرح شہروں سے وابستہ نوجوان اپنا قیمتی وقت پارکوں میں، انٹرنیٹ پر یا شیشہ پینے جیسے فضول مشاغل میں صرف کر دیتے ہیں، اب رہے طلبا و طالبات تو ان کا یہ رویّہ بھی ڈھکا چھپا نہیں ہے کہ امتحانوں کی تیاری کے لئے سارا سال چھوڑ کر آخری ایّام میں ہی ہوش میں آتے ہیں اور رات، دن ایک کر دیتے ہیں۔ اسی طرح اگر انہیں کوئی ٹیسٹ یا پروجیکٹ وغیرہ دیا جائے اور اس کے لئے ایک ماہ کا وقت بھی دیا جائے تو وہ تمام وقت چھوڑ کر آخری ہفتے، آخری ایّام یا آخری گھنٹے میں تیاری کرتے نظر آتے ہیں۔

وقت کی ناقدری کی وجوہات میں ’’موبائل ‘‘ کا نام نہ لیا جائے تو یہ زیادتی ہو گی، 24 گھنٹے ایس ایم ایس، رات بھر کے پیکیجز نے بھی نوجوانوں کی زندگیوں پر غلط اثرات مرتب کیے ہیں، فیس بک بھی اس میں اہم کردار ادا کر رہی ہے چنانچہ وقت کو فضول کاموں میں صرف کرنے کا رویّہ ہمارے نوجوانوں کے لئے ایک عفریت کا روپ دھار چکا ہے۔ اس میں بھی دو آراء نہیں ہیں کہ لوڈشیڈنگ نے بھی پاکستانی قوم کے وقت کو بالعموم اور نوجوانوں کو بالخصوص نقصان پہنچایا ہے۔ طلبا و طالبات کو ناصرف پڑھنے، لکھنے میں پریشانی ہے بلکہ اس سے نوجوانوں میں ذہنی دبائو کی کیفیت دیکھی جاتی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ ’’جو سستی کا شکار ہو جاتا ہے وہ انتہائی درجے کا حاسد بھی بن جاتا ہے‘‘ چنانچہ ہمارے وہ نوجوان جن کے پاس مصروفیت سے زیادہ فراغت ہے ان میں زیادہ مایوسی پائی جاتی ہے۔ جس طرح ایک خالی دماغ شیطان کا کارخانہ بن جاتا ہے اسی طرح وہ بھی بہ آسانی منفی سرگرمیوں کی جانب مائل ہو کر معاشرے کے لئے مزید خرابی کا سبب بن جاتے ہیں۔ اس کے برعکس کچھ نہ کچھ کرتے رہنے والے نوجوان کبھی نہ کبھی خود کو منوا لیتے ہیں اور ملک و قوم کی شان بن کر سامنے آتے ہیں۔ نوجوانوں میں بہ کثرت استعمال ہونے والے یہ الفاظ اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ہمارے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد آج بھی وقت کی اہمیت سے آگاہ نہیں ہے۔ 

کوئی کہتا ہے یار آج کل تو ’’ٹائم پاس‘‘ کر رہا ہوں، کوئی کہتا ہے ’’سب چلتا ہے‘‘ ’’اللہ مالک ہے یار‘‘ ’’آج کل وقت گزاری کر رہا ہوں‘‘ ’’ابھی تو بہت وقت پڑا ہے، بھائی‘‘ "’’آل از ویل‘‘ ’’آج کل بوریت ہو رہی ہے‘‘ ’’میں تو اللہ توکل پہ چل رہا ہوں‘‘۔ مندرجہ بالا جملوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایسے نوجوان اپنے حال میں مست ہیں۔ ہمارے اسلاف میں ایسے بہ کثرت علماء و فقہاء گزرے ہیں جنہوں نے ہمیشہ وقت کی قدر کی اور پھر وقت نے ان کی خوب قدر کروائی، یہاں تک کہ ان کے وقت میں برکت ہو گئی اور وہ اپنی زندگی میں اتنا علمی و عملی کام کر گئے کہ آج ہم اگر صرف ان کا کام دیکھنا چاہیں تو ایک عرصہ لگ جائے۔ کہا جاتا ہے کہ ’’وقت ضائع کرتے وقت یہ یاد رکھنا چاہئے کہ وقت بھی آپ کو ضائع کر رہا ہے‘‘۔