آپ آف لائن ہیں
اتوار7؍ ربیع الاوّل1442ھ 25؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

جادو کے لیے عربی زبان میں ’سحر‘ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے، قرآن و سنّت میں سحر (جادو) ایسے امر کو کہا جاتا ہے جس میں شیاطین کو خوش کرکے ان کی مدد حاصل کی گئی ہو، پھر شیاطین کو راضی کرنے کی مختلف صورتیں ہیں۔ کبھی ایسے منتر اختیار کیے جاتے ہیں جن میں کفر وشرک کے کلمات ہوں اور شیاطین کی مدح سرائی کی گئی ہوجس سے شیطان خوش ہوتا ہے۔

اسلام میں جادو کی حقیقت اور علاج:

رسول اللہ ﷺ پر یہودیوں کا سحر کرنا اور اس کی وجہ سے آپﷺ پر بعض آثار کا ظاہر ہونا اور بذریعہ وحی اس جادو کا پتا لگنا اور اس کا ازالہ کرنا احادیثِ صحیحہ سے ثابت ہے۔ صحیح بخاری میں ایک حدیث ہے جو دوسری حدیث کی کتابوں میں بھی درج ہے کہ ایک موقع پر نبی اکرم ﷺ بھی جادوکے اثرمیں رہے۔

حضرت زید بن ارقم ؓ سے روایت:

ایک یہودی نے نبی اکرم ﷺ پر جادو کیا، جب آپ ﷺ نے اس کے اثرات کو اپنے اوپر محسوس کیا تو جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے اور سورۃ الفلق اور سورۃ الناس جن کو ’’معوّذتین‘‘ کہتے ہیں، وحی کی گئیں پھر جبرائیل علیہ السلام نے آپ ﷺ سے کہا: ’’یقیناً ایک یہودی نے آپ ﷺ پر جادو کیا ہے اور اس کا طلسم فلاں کنویں میں رکھا ہوا ہے۔‘‘

نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی ؓ کو بھیجا کہ وہاں سے طلسم لے آئیں۔ جب وہ اسے لے کر واپس آئے تو آپ ﷺ نے حضرت علی ؓ سے فرمایا کہ اس کی گرہوں کو ایک ایک کرکے کھولیں اور ہر گرہ کے ساتھ ان سورتوں میں سے ایک ایک آیت پڑھیں۔ جب انہوں نے ایسا کیا تو آپ ﷺ یوں اُٹھ کھڑے ہوئے، گویا وہ پہلے بندھے ہوئے تھے۔ (صحیح بخاری )

سرکار دو عالمﷺ نے ایک حدیث میں فرمایا ہے :

’’یقیناً کچھ بیان جادو ہوتے ہیں ۔‘‘ایک جادو بیان مقرر لوگوں کوغلط کو صحیح اورصحیح کو غلط سمجھنے پر قائل کرسکتا ہے۔ اس لیے نبی اکرم ﷺ نے اس کے کچھ پہلوؤں کو جادو سے تعبیر کیا۔ روزہ رکھنے کے لیے طلوع آفتاب سے پہلے جو کھانا کھایا جاتا ہے، اسے’’سحور‘‘(جس کا مادہ سحر ہے) کہتے ہیں، وہ اس لیے کہ اس کھانے کا وقت رات کے آخری حصے یعنی اندھیرے میں ہوتا ہے۔

آپ ﷺ نے فرمایا:

’’جو شخص نجومی کے پاس جا کر اس سے کوئی بات پوچھے، تو چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہ ہو گی‘‘۔ (صحیح مسلم) 

صحیح مسلم ہی کی ایک حدیث میں رسول اللّہﷺ نے فرمایا کہ شیطان اپنے ایجنٹوں کے بڑے بڑے کارناموں پر خوش نہیں ہوتا لیکن اس بات پر بہت خوش ہوتا ہے کہ اس کا کوئی پیروکار میاں بیوی کے درمیان تفریق کروا دے۔

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے: 

رسول اللّہ ﷺ نے فرمایا : جو کسی کاہن کے پاس آیا اور اس کی بات کی تصدیق کی تو اس نے اس چیز کا انکار کیا جو محمدﷺ پر نازل ہوئی‘‘۔(سنن ابو داؤد)

اسلام میں جادو سیکھنا اور جادو کرنا کُفر:

اسلام میں جادو سیکھنا اور جادو کرنا دونوں کو کفر قرار دیا گیا ہے، اس لیے جو کوئی بھی جادو کرتا ہو، اس کے لیے شریعت میں بہت سخت سزا رکھی گئی ہے۔ اگر کوئی جادو پرعمل کرتا ہوا پکڑا جائے اوروہ توبہ نہ کرے اور جادو کرنا نہ چھوڑے تواس کی سزا موت ہے۔ اس قانون کی بنیاد اللّہ کے رسولﷺ کی یہ حدیث ہے جس کے راوی حضرت جندب ابن کعب ؓہیں۔

نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

’’جادوگر کے لیے مقرر کردہ سزا یہ ہے کہ اسے تلوار سے قتل کردیا جائے۔‘‘

(اس قانون پرخلفائے راشدینؓ نے سختی سے عمل کیا)

جادو کا اثر تب واقع ہوتا ہے جب اللّہ تعالیٰ کا حکم ہو کیونکہ کائنات کی ہر چیز اللّہ تعالیٰ کے حکم کی محتاج ہے۔ جادو حضور اکرم ﷺ پر بھی کیا گیا تھا لیکن اللّہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اس کے شر سے محفوظ رکھا اور امت کے لیے یہ آسانی ہوئی کہ آپ ﷺ کے طفیل امت کو جادو کا علاج بتا دیا گیا۔

حضرت قتادہ ؓنے بیان کیا کہ میں نے سعید بن مسیب ؓ سے کہا، ایک شخص پر اگر جادو ہو یا اس کی بیوی تک پہنچنے سے اسے باندھ دیا گیا ہو، اس کا دفعیہ کرنا اور جادو کے باطل کرنے کے لیے عمل کرنا درست ہے یا نہیں؟ انہوں نے کہا، اس میں کوئی قباحت نہیں۔ جادو کا توڑ کرنے والوں کی نیت تو اچھی ہوتی ہے اور اللّہ پاک نے اس بات سے منع نہیں فرمایا جس سے فائدہ ہو۔ (صحیح بخاری)

جادو کی وجہ سے انسان کو کن خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟

انسان جادو کی وجہ سے بڑے بڑے خطرات سے دوچار ہو سکتا ہے، اس لیے کسی بھی دن معوذات اور مسنون دعاؤں سے سستی اور کاہلی نہ برتی جائے، حتیٰ کہ بعض اوقات انسان کو جادو کے ذریعے قتل تک کردیا جاتا ہے۔ کالے جادو کرنے والے ایسے بھی ہوتے ہیں جو جیتے جاگتے انسان کو موت کی نیند سلا دیتے ہیں۔ 

یہ بات یقینی ہے کہ موت کا ایک وقت مقرر ہے اور وہ اسی وقتِ مقررہ پر ہی آئے گی لیکن جس طرح ظاہری طور پر انسان کا قتل ہو جانا سبب کا درجہ رکھتا ہے، اسی طرح جادو کے ذریعے بھی سبب کے درجے میں قتل کیا جاسکتا ہے ۔

خاص رپورٹ سے مزید