آپ آف لائن ہیں
بدھ9؍ربیع الثانی 1442ھ25؍نومبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

فرح مصباح

زندگی قدرت کا حسین عطیہ ہے، لیکن لوگ اس کی قدر نہیں کرتے۔ معاشی و معاشرتی ناہمواریوں، سماج میں مناسب مقام نہ ملنے اور گھریلو حالات کے باعث نوجوان اتنے دل گرفتہ ہوتے ہیں کہ وہ موت کو زندگی پرترجیح دینے لگے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے مختلف ممالک میں خودکشیوں کی تعداد میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق ہر سال دنیا بھر میں تقریباً دس لاکھ افراد خودکشی کرتے ہیں۔ جن میں نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہے۔ یہ صورت حال حقوق انسانی کی عالمی تنظیموں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ خودکشی سے بچائو کے لیے اس کے محرکات کاعلم ہونا بے حد ضروری ہے کہ آخر وہ کون سی وجوہات ہیں جو ایک ہنستے کھیلتے شخص کو اتنا مایوس کردیتی ہیں کہ وہ اپنی زندگی ختم کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ ماہرین نفسیات کے مطابق نوجوانوں کی زندگی سے بے زاری کے متعدد اسباب ہیں۔ ان میں غربت، بیروزگاری، مایوسی، افسردگی، غصہ، سماجی نا انصافیاں، بنیادی حقوق کا نہ ملنا، اعتماد کی کمی اور امتحان میں کم نمبر آنا شامل ہیں، جب کہ مالی اور خاندانی مسائل بھی اس کے اہم اسباب ہیں۔

اپنے ہی ہاتھوں اپنی زندگی ختم کرنے کا رجحان 15 سے 24 سال کے نوجوانوں میں زیادہ دیکھنے میں آیا ہے۔ کراچی کا ایک نوجوان صبور ایک ذہین طالب علم تھا، ہمیشہ اچھے نمبروں سے پاس ہوتا تھا۔ اس نے چند سال قبل صرف لیے خودکشی کرلی تھی کہ وہ چارٹرڈ اکائونٹینسی کے امتحان میں اپنی خواہش کے مطابق نمبر حاصل نہیں کرسکا تھا، جس سے دل برداشتہ ہوکر اس نے اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔ ایک اور نوجوان ناصر ریاض جو محکمہ پولیس میں ملازم تھا، نوکری ختم ہونے کےبعد اہل خانہ کی فاقہ کشی دیکھ کر ذہنی تنائو میں مبتلا رہتا تھا۔ ایک دن گھریلو مسائل سے اتنا دل برداشتہ ہوا کہ اس نے کنپٹی پر پستول رکھ کر خود کو شوٹ کرلیا۔

کوئی بھی شخص اتنا بڑا قدم اٹھانے سے پہلے ہزار بار سوچتا ہوگا۔ کشمکش میں مبتلا رہتا ہوگا اور وہ کسی کو بتائے بغیر اپنی پریشانیوں اورذہنی الجھنوں پر قابو پانے کے طریقے تلاش کرتا ہوگا۔ اس کے دل میں بھی جینے کی امنگ ہوتی ہے، لیکن جب اسے زندہ رہنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا تو اپنی زندگی کے خاتمے کےبارے میں غور کرنا شروع کردیتا ہے۔ نفسیاتی ماہرین کے مطابق ہر نفسیاتی بیماری کی طرح خود کشی کرنے والے شخص میں موت کو گلے لگانے سے قبل چند علامتیں ظاہر ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔ ایسا شخص یا تو ضرورت سے زیادہ پرجوش نظر آتا ہے یا پھر خطرناک حد تک مایوسی کا شکار۔ لیکن ہر شخص اپنی ذات میں اس قدر مگن رہتا ہے کہ وہ یہ جاننے کی کوشش بھی نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ بیٹھا ہوا شخص کن مسائل و پریشانیوں سے دوچار ہے، اس کے ذہنی خلفشار نے اس کی زندگی کو کس نہج پر پہنچا دیا ہے۔ بیشتر نوجوان خودداری یا شرم کی وجہ سے اپنی پریشانیاں اپنے ساتھیوں کو بتانے سے گریز کرتے ہیں۔ وہ اندر ہی اندر گھٹتے رہتے ہیں۔ ایک وقت ایسا آتا ہے کہ وہ ان پریشانیوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے زندگی سے ہی چھٹکارا حاصل کرلیتے ہیں۔ اپنے مقصد میں ناکامی نوجوانوں کے ذہن میں منفی جذبات پیدا کرتے ہیں جو بعد میں خودکشی جیسے فیصلے کا سبب بن جاتے ہیں۔ اس سال کرونا کی وبا کے باعث جب خود حفاظتی اقدامات اور لاک ڈائون کی وجہ سےدنیا بھر میں کاروبار زندگی معطل ہوگیا تو لوگ معاشی بحران کا شکار ہونے لگے۔ اس صورت حال سے خودکشیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا، جن میں بے روزگار نوجوانوں کی تعداد زیادہ منظر عام پر آئی۔

دنیا میں ہر شخص کو مسائل درپیش ہوتے ہیں۔ نوجوان اتنے باہمت ہوتے ہیں کہ جدوجہد کرکے ان پرقابو پالیتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوانوں کے ذہنوں سے خودکشی کے رجحانات کے خاتمے کے لیے این جی اوز اور سماجی تنظیمیں اپنا کردار ادا کریں۔ وہ ان کے مسائل معلوم کرکے ان کا حل تلاش کریں۔ انہیں ذہنی خلفشار سے نکالنے کے لیے ذہنی تربیت کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ اگر وہ مالی پریشانیوں کا شکار ہیں تو ان کی مالی امداد کا بندوبست کیا جائے۔ روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں یا مالیاتی اداروں کے تعاون سے انہیں آسان اقساط پر قرضے دلوائے جائیں تاکہ وہ چھوٹا موٹا کاروبار کرکے اپنے اہل خانہ کا پیٹ پال سکیں۔ موبائل فون اور سوشل میڈیا نے بے شمار نوجوانوں کو سماجی برائیوں کا شکار بنا دیا ہے، بعض اوقات وہ بلیک میلروں کے ہتھے چڑھ کر نہ صرف اپنا بلکہ اپنے گھر والوں کا سکھ چین بھی برباد کردیتے ہیں۔ انہیں اس گرداب سے نکالنے کی ضرورت ہے۔

خودکشی کے رجحان کے تدارک کے لیے والدین بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔ وہ اپنی اولاد کی سرگرمیوں پر گہری نگاہ رکھیں۔ اگر وہ کسی پریشانی یا الجھنوں کا شکار نظر آئیں تو ان سے دوستانہ ماحول میں گفت و شنید کرکے ان کے مسائل معلوم کریں۔ اگر ان کا مسئلہ معاشی پریشانی ہے تو انہیں تسلی دیں، اللہ کی ذات پر یقین دلائیں۔ اگر وہ غیر اخلاقی سرگرمیوں یا سماجی برائیوں میں پڑ گئے ہیں تو انہیں سیدھی راہ پر لانے کی کوشش کریں۔ اگر ان سے کوئی غلطی سرزد ہوگئی تو انہیں یقین دلائیں کہ اس غلطی کو سدھارنے میں وہ ان کی مدد کریں گے تاکہ وہ ذہنی اذیت کی انتہا تک پہنچنے یا خودکشی کے بارے میں سوچنے کے بجائے مسئلے کا حل ڈھونڈ سکیں۔ نسل نو میں خودکشی کی زیادہ وجوہات جو منظر عام پر آرہی ہیں وہ ان کے غلط لوگوں سے تعلقات، موبائل فون پر رانگ کالز جو بعد میں عشق و محبت میں بدل جاتی ہیںاور جو زیادہ تر صنف قویٰ کی جانب سے فریب اور دھوکا دہی پرمبنی ہوتی ہیں۔ بچوں سے عدم توجہی والا رویہ دوسرے سہارے تلاش کرنے کا سبب بنتا ہے۔ مفلوک الحالی اور مالی تنگ دستی کا شکار یا بے کار نوجوانوں کے ذہنوں میں خوکشی کے جراثیم پرورش پاتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوانوں کے لیے کھیل کود اور مثبت سرگرمیوں کے لیے ماحول بنایا جائے۔ ان میں جینے کا جذبہ اجاگر کیا جائے۔ ذرا سی توجہ ان میں جینے کی امنگ پیدا کرکے خودکشی کے رجحانات میں کمی پیدا کرسکتی ہے۔