شیطان کا پہلا شکار:
اُن ہی دنوں میرے علم میں یہ بات آئی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ کی تنہائی دُور کرنے کے لیے اُن کی بائیں پسلی سے حضرت حوّاؑ کو پیدا کیا ہے اور اللہ نے آدمؑ سے کہا کہ’’ تم اور تمہاری بیوی دونوں جنّت میں رہو اور یہاں جو چاہو کھائو، مگر اس درخت کا رُخ نہ کرنا، ورنہ ظالموں میں شمار ہوںگے‘‘(سورۃ البقرہ۔35)۔اس کے باوجود کہ اللہ تعالیٰ نے اُنہیں آگاہ فرما دیا تھا کہ ابلیس اُن کا دُشمن ہے اور ایسا نہ ہو کہ وہ اُنھیں جنّت سے نکلوا دے(سورۂ طہٰ، آیت۔117) مَیں اُن کے دِلوں میں وسوسہ ڈالنے میں کام یاب ہو ہی گیا۔ مَیں نے اُن سے کہا کہ’’اے آدمؑ! کیا مَیں تمہیں دائمی زندگی کا درخت اور بادشاہت بتلائوں کہ جو کبھی پُرانی نہ ہو۔‘‘ پھر اُن دونوں نے اس درخت سے کھایا، تب اُن کے سَتر کُھل گئے اور اپنے اُوپر جنّت کے پتّے چِپکانے لگے۔‘‘ (سورہ طہٰ۔ 120,121)۔
شجرِ ممنوعہ کی تفصیل:
اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ درخت کون سا تھا؟ کسی نے گندم کا درخت کہا ہے۔ کوئی انگور کا بتلاتا ہے، تو کسی نے زیتون اور کھجور کی طرف اشارہ کیا ہے، لیکن اللہ عزّو جل نے اس درخت کا نام مبہم رکھا کہ اگر اُس کے ذکر میں کوئی مصلحت یا فائدہ ہوتا، تو نام ضرور بتا دیا جاتا۔ مجھے اس بات کی تو خوشی تھی کہ مَیں بی بی حوّاؑ کے ذریعے حضرت آدمؑ کو بہکانے میں کام یاب ہوگیا تھا، لیکن اس کام یابی کے بعد مجھ پر شدید گھبراہٹ طاری تھی، کیوں کہ اللہ تعالیٰ کا ایک نام’’ قہار‘‘ بھی ہے۔ چناں چہ مَیں فوری طور پر زمین کی طرف بھاگا۔ عموماً فرشتوں کے دو پَر ہوتے ہیں، لیکن اللہ کا مجھ پر بڑا احسان و کرم تھا کہ مجھے چار پَروں والا بنایا، جس سے مجھے ہر جگہ جانے میں بہت آسانی ہو جاتی ہے۔ (علّامہ ابنِ کثیر نے چار پَروں والی انفرادیت کا’’ قصص الانبیاءؑ ‘‘میں ذکر کیا ہے)۔ بعدازاں، اللہ تعالیٰ نے حوّاؑ اور حضرت آدمؑ کو معاف فرما کر ایک خاص مدّت تک کے لیے دُنیا کی طرف روانہ کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے میرے جنّت سے نکالے جانے اور آدمؑ کے اس قصّے کو قرآنِ کریم کی سات سورتوں سورۃ البقرہ، سورۃ الاعراف، سورۂ حجر، سورۂ بنی اسرائیل، سورۂ کہف، سورۂ طہٰ اور سورۂ ص میں تفصیل سے بیان فرمایا ہے۔ میری اِس پہلی کام یابی نے مجھے ابلیس سے شیطان بنا دیا اور مَیں’’ لعنت اللہ علیٰ شیاطینھم‘‘ قرار دے دیا گیا۔
انسانوں میں پہلا قتل:
دُنیا میں آدمؑ اور حوّاؑ کے ملاپ کے بعد اللہ نے اُنہیں اولادِ کثیر سے نوازا۔ ایک جوڑا صبح پیدا ہوتا اور ایک شام کو۔ صبح والے جوڑے سے شام والے جوڑے کی شادی کر دی جاتی۔ اِسی طرح ایک دن صبح قابیل اور اُس کی بہن، اقلیمیا پیدا ہوئی، جب کہ شام کو ہابیل اور اُس کی بہن یہودا پیدا ہوئی۔ قانونِ قدرت کے مطابق قابیل کی شادی یہودا سے اور ہابیل کی شادی اقلیمیا سے ہونا تھی۔ اقلیمیا نہایت حَسین و خُوب صُورت تھی، جب کہ یہودا بدشکل۔ قابیل نے یہودا سے شادی سے انکار کر دیا۔ وہ اپنی بہن اقلیمیا سے شادی کرنا چاہتا تھا۔ حضرت آدمؑ نے دونوں بیٹوں سے کہا کہ’’ تم دونوں اللہ کی راہ میں قربانی دو، جس کی قربانی قبول ہو جائے گی، اُس کے ساتھ اقلیمیا کی شادی کر دی جائے گی۔‘‘ چوں کہ ہابیل حق پر تھا، لہٰذا اُس کی قربانی قبول کر لی گئی۔
یہی وہ لمحہ تھا، جب مَیں ناک کے ذریعے قابیل کے جسم میں داخل ہوا اور اُس کے دماغ پر قبضہ کر کے اُس کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں پر حاوی ہوگیا۔ مَیں نے قابیل کو مشورہ دیا کہ’’ اگر تُو اقلیمیا کو حاصل کرنا چاہتا ہے، تو ہابیل کو قتل کر دے‘‘۔ پہلے وہ ہچکچایا، لیکن جب مَیں نے اُس کی ہمّت بڑھائی۔ لالچ، حسد اور انتقام کے جذبات بیدار کیے، تو وہ راضی ہوگیا۔ اور پھر ایک دن اُس نے ہابیل کو قتل کر ڈالا۔ اس واقعے کی تفصیل سورۃ المائدہ میں موجود ہے۔
بعدازاں، قابیل اپنے والد کے خوف سے یمن بھاگ گیا۔تاہم، مجھ جیسا شیطانی ہتھکنڈوں کا موجد اُس کے ساتھ تھا۔ مَیں نے پہلے اُسے عیش و عشرت پر لگایا، اُس کی بہت سی شادیاں کروائیں، کیوں کہ اپنے کام کو منظّم طریقے سے آگے بڑھانے کے لیے مجھے ایک مضبوط ٹیم کی ضرورت تھی۔ مَیں آگ سے پیدا ہوا ہوں، لہٰذا مَیں نے اُسے آتش پرست بنا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے مکمل چُھوٹ دے رکھی تھی۔ جب اُس کی نسل تیزی سے بڑھنے لگی، تو مَیں نے اُسے پتھر کے بُت بنانے کا طریقہ سِکھایا۔ اب کچھ آتش پرست بن گئے اور کچھ بُتوں کو پوجنے لگے۔
طوفانِ نوح:
حضرت آدمؑ کے بعد اُن کے بیٹے، حضرت شیثؑ نبی بنے، اُن کے بعد حضرت ادریسؑ آئے، لیکن میرا کام زور و شور سے جاری رہا۔ اللہ تعالیٰ نے میرے لیے اپنی رَسّی دراز کی ہوئی تھی۔ دُنیا کے باسی گم راہی اور ضلالت کے گڑھوں میں دھنسے ہوئے تھے، جگہ جگہ بُتوں، آگ اور سُورج کی پرستش کی جا رہی تھی۔ مَیں نہایت کام یابی کے ساتھ لوگوں کو دین سے دُور کرنے میں مصروف تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک اور نبی، حضرت نوحؑ کو مبعوث فرمایا۔
اُن کے آنے کے بعد پہلی مرتبہ دُنیا میں مجھے اور میرے پیروکاروں کو تباہی کا سامنا کرنا پڑا، یہاں تک کہ میری پوری قوم طوفانِ نوح میں غرق ہوگئی اور مَیں ایک بار پھر دُنیا میں اکیلا رہ گیا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوحؑ کے واقعے کا قرآنِ کریم میں 43 بار ذکر کیا ہے۔
قومِ ہود پر آندھی کا عذاب:
دو ہزار سال قبلِ مسیح کی بات ہے۔ خلیجِ فارس سے عراق تک کے وسیع و عریض علاقے پر ایک قوم آباد تھی، جسے’’ قومِ عاد‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے دُنیا بھر کی نعمتوں سے نوازا تھا۔ سرسبز و شاداب باغات، لہلہاتے کھیت و کھلیان، شفّاف پانی کے چشمے، بڑے بڑے شان دار محلّات، مال و دولت، آسائش و آرائش کی فراوانی اور بہترین صحت۔ یہ طویل القامت، قوی اور زور آور لوگ تھے۔ اُن کی شان و شوکت، سطوت و جبروت، جسمانی طاقت و صولت نے اُنہیں مغرور اور متکبّر بنا دیا تھا۔ قومِ نوح کی تباہی کے بعد اُن دنوں مَیں( یعنی شیطان) بھی کسی ایسی ہی قوم کی تلاش میں تھا۔ چناں چہ مَیں اپنی پوری جماعت کے ساتھ اُن کے نفسِ امّارہ پر حملہ آور ہوا۔
اپنے بدی کے ہتھیاروں کے ساتھ سب سے پہلے اُنہیں بُت پرستی کی جانب راغب کیا۔ اللہ نے اُن ہی میں سے اپنے ایک نیک بندے، حضرت ھود ؑ کو نبی بنا کر مبعوث فرمایا۔تاہم اُنھوں نے اُن کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔ مال و دولت، قوّت و شہرت کے نشے میں سرشار قومِ عاد باغی اور سرکش ہو چُکی تھی۔ یہ لوگ بدی کی راہوں میں اِس قدر آگے بڑھ چُکے تھے کہ اب اُن کی واپسی ناممکن تھی۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے اُن پر ہلکا عذاب نازل فرمایا، اُنہیں تین سال کے لیے بارش سے محروم کر دیا۔
اُن کے باغات اور کھیت کھلیان، صحرا میں تبدیل ہوگئے۔ لیکن اُن کی رعونت نے اُنہیں حضرت ھود ؑکی بات نہ ماننے دی۔ پھر اللہ نے آٹھ دن اور سات راتوں تک شدید قسم کی آندھی کا عذاب مسلّط کر دیا۔ یہ آندھی اِتنی خوف ناک تھی کہ انسان و حیوان ہوا میں اُڑتے آسمان تک جاتے اور پھر اوندھے مُنہ زمین پر گر کر فنا ہو جاتے۔ یوں پوری قوم نیست و نابود ہوگئی۔ البتہ حضرت ھود ؑاور اُن کے پیروکار محفوظ رہے۔ قرآنِ پاک کی نو سورتوں میں قومِ عاد کا ذکر ہوا ہے۔
قوم ثمود اور بھیانک چیخ کا عذاب:
اللہ تعالیٰ نے قومِ ثمود میں حضرت صالح ؑ کو نبی بنا کر مبعوث فرمایا۔ اس قوم کے لوگ نہایت طاقت وَر، طویل القامت اور زبردست شان و شوکت کے مالک تھے۔ پتھروں کو تراش کر پہاڑوں کے درمیان خُوب صورت ، نفیس مکان بنا کر رہا کرتے تھے۔البتہ وہ سب میرے ہی پیروکار تھے۔ حضرت صالح ؑنے اُنہیں سمجھانے کی بہت کوشش کی، لیکن وہ مجھے چھوڑنے پر تیار نہ تھے۔
چناں چہ ایک نہایت زوردار تیز اور بھیانک آواز کے ذریعے اُن سب کو آناً فاناً ہلاک کر دیا گیا۔ اس قوم کی بستیوں کے کھنڈرات اور آثار آج تک موجود ہیں، جنہیں اقوامِ متحدہ کے ادارے ،یونیسکو نے سعودی عرب کا پہلا عالمی وَرثہ قرار دیا ہے۔ قرآنِ پاک میں حضرت صالح ؑکا نام 8 جگہ آیا ہے اور قومِ ثمود کا ذکر 9 سورتوں میں کیا گیا ہے۔
قومِ لوط کی تباہی:
دُنیا میں میری کام یابیوں کی فہرست میں ایک اور بڑی کام یابی کا احوال موجود ہے اور وہ ہے، حضرت ابراہیمؑ کے بھتیجے، حضرت لوطؑ کی قوم کو فعلِ بد میں مبتلا کرنا۔ اس سے پہلے دُنیا میں اَغلام بازی کا کوئی تصوّر نہیں تھا۔ مَیں نے حضرت لوطؑ کی قوم کو نہ صرف بدکاری سِکھائی، بلکہ اُنھیں اس کا اس قدر عادی بنا دیا کہ یہ لوگ اپنی عورتوں کو بُھول بیٹھے۔ حضرت لوطؑ نے اُنہیں راہِ راست پر لانے کوشش کی، لیکن میری شیطانی چالوں نے اس قوم کو بدترین فحاشی اور بدکاری کی دلدل میں غرق کر رکھا تھا، یہاں تک کہ ایک دن اُنہوں نے خود ہی فرمائش کر دی کہ’’ اے لوطؑ! اگر تم سچّے ہو، تو اپنے رَبّ سے کہو کہ ہم پر عذاب نازل کر دے‘‘ (سورۂ عنکبوت۔29)۔
یہ بدبخت لوگ اگر مجھ سے مشورہ کرتے، تو مَیں اُنہیں کبھی عذاب مانگنے کا مشورہ نہ دیتا، کیوں کہ مجھے علم تھا کہ رَبِّ ذوالجلال کی ذات کو چیلنج کرنے کے کیا نتائج بھگتنا پڑیں گے اور پھر وہی ہوا، جس کا مجھے ڈر تھا۔ ایک صبح مَیں نے دیکھا کہ حضرت جبرائیلؑ کے پَروں نے پورے آسمان کو گھیرا ہوا ہے۔ زمین پر رات کا سماں ہے، پھر اچانک جبرائیلؑ نے اپنے ایک پَر کی نوک سے اس بستی کو اُکھیڑا اور اپنے بازو میں رکھ کر آسمان پر چڑھ گئے۔ حتیٰ کہ آسمان والوں نے ان کے کتّوں کے بھونکنے اور مرغوں کے بولنے کی آوازیں سُنیں، پھر اس بستی کو اُلٹا کر زمین پر دے مارا۔
قومِ لوط دُنیا کی پانچ حَسین ترین بستیوں میں آباد تھی، جہاں اُنہیں ہر قسم کی نعمت میّسر تھی اور یہ نہایت خوش حال زندگی بسر کرتے تھے۔ اللہ عزّوجل نے اُن کی خُوب صُورت بستیوں کو ایک انتہائی بدبودار اور سیاہ جھیل میں تبدیل کر دیا، جس کے پانی میں کوئی بھی جان دار زندہ نہیں رہ سکتا، اسی لیے اُسے’’ بحرِ مُردار‘‘ کہا جاتا ہے۔ قرآنِ پاک میں ارشاد ہے’’ ہم نے اس بستی کو صریح عبرت کا نشان بنا دیا، اُن لوگوں کے لیے، جو عقل رکھتے ہیں‘‘ (سورہ عنکبوت۔35)۔ قرآنِ پاک میں حضرت لوطؑ اور اُن کی قوم کا چالیس مقامات پر ذکر آیا ہے۔
زمین پر شیطان کی پہلی ناکامی:
راندۂ درگاہ ہونے کے بعد زمین پر پہلی مرتبہ جس شخص سے مجھے خوف محسوس ہوا، وہ حضرت ابراہیمؑ تھے۔ اُن کے والد کو پتھر تراش کر بُت بنانا مَیں نے ہی سِکھایا تھا۔ مَیں نے ابراہیم ؑکو بھی اپنا ہم نوا بنانے کی جان توڑ کوششیں کیں۔ کبھی سُورج کو رَبّ کے طور پر پیش کیا، کبھی چاند کو خدا ماننے کا خیال دِل میں ڈالا، لیکن ہزار جتن کے باوجود وہ میرے قابو میں نہ آئے۔ ایک روز حضرت ابراہیمؑ اللہ کے حکم سے اپنی بیوی اور بیٹے کو صحرا میں چھوڑ آئے۔ مَیں دُور بیٹھا منظر دیکھ رہا تھا کہ اچانک مَیں نے حضرت جبرائیلؑ کو بچّے کے پاس دیکھا اور دیکھتے ہی دیکھتے آبِ زَم زَم رواں ہوگیا۔
حضرت اسماعیلؑ ذبیح اللہ کی قربانی کا واقعہ تو سب کو یاد ہوگا۔ راستے میں تین جگہ مَیں نے کوشش کی کہ باپ، بیٹے کو ورغلا کر اس قربانی سے دُور رکھوں، لیکن ناکام رہا ۔ ابراہیمؑ کے بُتوں کو توڑنے کا واقعہ یاد کرو۔ مَیں نے نمرود کو راضی کیا کہ اس جرم کی پاداش میں اُنھیں پوری قوم کے سامنے آگ کے شعلوں میں ڈال دو تا کہ آئندہ کوئی ایسی حرکت نہ کر سکے۔ میرے شاگردوں نے دُنیا کا سب سے بڑا آگ کا اَلائو روشن کیا، جس کی تپش میلوں دُور تک محسوس ہوتی تھی۔نیز، مَیں نے ہی حضرت ابراہیمؑ کو آگ میں ڈالنے کے لیے منجنیق بنانے کا طریقہ بتایا، لیکن یہ وار بھی ناکام رہا اور نارِ نمرود، گل وگل زار بن گئی۔
دُنیا میں آنے کے بعد پہلی مرتبہ ناکامی و نامُرادی میرے قدم چُوم رہی تھی۔ مَیں دُور بہت دُور سے دونوں باپ بیٹے کو اللہ کے گھر کی تعمیر میں مصروف دیکھ رہا تھا۔ دُوسری طرف میرا مُریدِ خاص، نمرود اللہ کی پکڑ میں آ چُکا تھا۔ ایک مچھر اُس کی ناک میں گُھسا اور برسوں عذابِ الٰہی کا باعث بنا رہا۔ اس کے سَر پر پڑنے والے جوتے اس کے آرام کا باعث بنتے، یہاں تک کہ اسی حالت میں اُس کی موت واقع ہوگئی۔ (جاری ہے)