• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برطانیہ سے ایک افسوس ناک خبر آئی ہے کہ ماضی کی باصلاحیت فن کارہ ریحانہ صدیقی طویل علالت کے بعد چل بسیں۔ ریحانہ صدیقی کے انتقال کی اطلاع جب ہمیں ملی، تو ذہن میں فوراً ان کا چہرہ اور نرم لہجہ سامنے آگیا۔

آہ…! ریحانہ صدیقی بھی راہی ملک عدم ہوئیں۔ وہ طلعت صدیقی کی بہن تھیں۔ ابھی تقریباً دو ماہ قبل ہی طلعت صدیقی کی وفات ہوئی تھی۔ پہلے طلعت صدیقی اور ان کے بعد ریحانہ صدیقی کے گزر جانے سے بہت صدمہ ہوا۔ طلعت صدیقی ریڈیو، ٹیلی ویژن اور فلموں کی بہترین فن کارہ تھیں اور ریحانہ صدیقی کی بڑی ہمشیرہ تھیں۔ طلعت صدیقی کی اداکاری کے سبھی معترف تھے۔ ان کی خُوب صورت آواز اور لہجے کی شیرینی نے ایک عالم کو گرویدہ کیا۔ آواز کی مٹھاس اس خاندان کا خاص وصف ہے۔ ریحانہ ہوں یا طلعت، دونوں بہنوں کی خصوصیت تھی کہ جب گفتگو کرتیں تو لگتا جیسے کانوں میں رس گھل رہا ہے۔ 

یہی نغمگی ان کی اگلی نسل میں بھی منتقل ہوئی۔ مشہور اداکارہ اور گلوکارہ عارفہ صدیقی اور پاکستان کی صفِ اول کی کتھک رقاصہ ناہید صدیقی، طلعت صدیقی کی بیٹیاں اور ریحانہ صدیقی کی بھانجیاں ہیں۔ بسنت کا مشہور گیت ’’بوکاٹا‘‘ سے شہرت پانے والی فریحہ پرویز بھی ریحانہ صدیقی کی بھانجی ہیں۔ وہ عارفہ اور ناہید کی کزن ہیں ! تو جناب یہ ہے مختصر سا تعارف اس فن کار گھرانے کا جو برسہا برس سے اسکرین پر اور لوگوں کے دلوں پہ چھایا ہوا ہے۔

پہلے طلعت صدیقی کا ذرا تذکرہ ہوجائے۔ ان کا اصلی نام ادیبہ نذیر تھا، وہ شملہ میں پیدا ہوئیں، کم عمری میں ہی ان کی شادی ہوگئی تھی، تھوڑے ہی عرصے بعد ان پر بچوں کی ذمے داری آگئی۔ ریڈیو پاکستان پر آڈیشن دیا، جو کام یاب ہوگیا اور طلعت صدیقی کے نام سے ایک فن کارہ ہمیں مل گئیں۔ اپنی سُریلی آواز کے باعث موسیقی کے شعبے میں بھی ان کو پذیرائی ملی اور اداکاری، گلوکاری، صداکاری سبھی شعبوں میں طلعت صدیقی نے اپنے آپ کو منوایا۔ انہوں نے ٹی وی ڈراموں میں اپنی اداکاری کے خُوب جوہر دکھائے۔ ’’فہمیدہ کی کہانی، استانی راحت کی زبانی‘‘ ان کا شہرئہ آفاق ڈراما تھا۔ تاہم ڈراموں میں کام کرنے سے قبل وہ فلموں میں اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کی دھاک بٹھا چکی تھیں۔ 

اے۔ایچ صدیقی کی فلم ’’چھوٹی بیگم‘‘ سے ان کا فلمی سفر شروع ہوا تھا۔ ان کی مشہور فلموں میں ’’عشق حبیب‘‘ ’’میرے بچے میری آنکھیں‘‘ ’’پھر صبح ہوگی‘‘ ’’ماں باپ‘‘ ’’لوری‘‘ ’’بھائی بہن‘‘ اور کچھ پنجابی فلمیں بھی شامل ہیں۔ طلعت صدیقی کی بڑی بیٹی ناہید صدیقی پُوری دنیا میں مشہور ہیں۔ رقص کی دنیا میں ان کا نام جگمگا رہا ہے۔ کتھک ان کا پسندیدہ رقص ہے۔ ناہید صدیقی کو پرائڈ آف پرفارمنس کے علاوہ بہت سے اعزازات مل چکے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر بھی ان کو کافی ایوارڈز ملے، جن میں برٹش کلچرل ایوارڈ، انٹرنیشنل ڈانس ایوارڈ اور ڈانس امبریلا ایوارڈ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ 

ناہید صدیقی نے رقص کی تعلیم مہاراج غلام حسین اور پنڈت برجو مہاراج سے حاصل کی۔ پاکستان ٹیلی ویژن پر ان کا مقبول پروگرام ’’پائل‘‘ ہر خاص و عام کی توجہ کا مرکز تھا، جب ٹیلی ویژن پر رقص پہ پابندی تھی تو ’’پائل‘‘ پروگرام کو بند کرنا پڑا تھا۔ اس پابندی کے دور میں ناہید ملک سے باہر چلی گئیں اور ایک طویل عرصہ برطانیہ میں گزارا۔ آج کل وہ لاہور میں مقیم ہیں اور رقص و موسیقی کی تعلیم دے رہی ہیں۔

ناہید صدیقی کی بہن یعنی طلعت صدیقی کی چھوٹی بیٹی اور ریحانہ صدیقی کی بھانجی عارفہ صدیقی کو سب جانتے ہیں۔ 80ء کی دہائی میں ان کے ڈرامے سپرہٹ ہوئے تھے۔ معصوم سی صورت والی، بھولی بھالی عارفہ صدیقی سب کی پسندیدہ فن کار تھیں۔ ان کے مشہور ڈراموں میں ’’قسمت‘‘ ’’وڈیرا سائیں‘‘ ’’دہلیز‘‘ ’’قراۃ العروس‘‘ ’’سمندر‘‘ ’’خواجہ اینڈ سن‘‘ ’’منچلے کا سودا‘‘ ’’راہیں‘‘ ’’فشار‘‘ اور ’’عینک والا جن‘‘ شامل ہیں۔ انہوں نے موسیقار استاد نذر حسین سے شادی کے بعد شوبزنس کو مکمل خیرباد کہہ دیا تھا۔ عارفہ بہت سریلی گلوکارہ بھی ہیں، انہیں موسیقی سے عشق ہے۔ عارفہ صدیقی کی کزن فریحہ پرویز نے 90ء کی دہائی میں ’’پتنک باز سجنا‘‘ کیا گایا کہ بس ہر طرف ان کے نام کا ڈنکا بج گیا۔ 

فریحہ کے اب تک سات میوزک البم ریلیز ہوچکے ہیں۔ انہوں نے پاکستانی فلموں ’’چیف صاحب‘‘ ’’گھونگھٹ‘‘ ’’سنگم‘‘ ’’انتہا‘‘ اور ’’موسیٰ‘‘ کے لیے پلے بیک گلوکاری کی۔ فریحہ سے ہماری ملاقات میوزک شوز میں ہوتی رہتی ہے۔ بہت ہی پیاری اور ملن سار خاتون ہیں۔ ملن سار تو ریحانہ صدیقی بھی بہت تھیں۔ ہم نے ریحانہ صدیقی کے ساتھ لاہور میں ایک ڈراما سیریل ’’خواب عذاب‘‘ میں کام کیا تھا۔

’’خواب عذاب‘‘ کے مصنف یونس جاوید تھے، جنہوں نے ’’اندھیرا اجالا‘‘ جیسا معرکتہ الآرا ڈراما لکھا تھا۔ ’’خواب عذاب‘‘ کی ہدایات یاور حیات نے دی تھیں۔ پہلے ہدایت کار ایس سلیمان اس کے ڈائریکٹر تھے، انہوں نے ایک آدھ قسط کی ہدایات بھی دیں، مگر چند وجوہ کے باعث وہ ڈراما چھوڑ گئے۔ یاور حیات بہت بڑے ڈائریکٹر تھے، ان کے ساتھ کام کرنا بہت اعزاز کی بات تھی۔ ’’خواب عذاب‘‘ میں ہمارے اور ریحانہ صدیقی کے علاوہ محمد قوی خان، فیصل رحمان، سہیل احمد، سعدیہ امام، سلیم شیخ، غیور اختر اور فریحہ جبین نے بھی کام کیا۔ 

مذکورہ ڈرامے میں ریحانہ صدیقی ہماری والدہ بنی تھیں، جب کہ محمد قوی خان نے ہمارے والد اور فیصل رحمان نے ہمارے بھائی کا کردار نبھایا تھا۔ بُوٹی مافیا کے موضوع پر بننے والے اس ڈراما سیریل سے ہماری بہت اچھی یادیں جڑی ہیں۔ ریحانہ صدیقی کے ساتھ ہمارا اچھا وقت گزرا۔ اس موقع پر ہمیں بتایا کہ انہوں نے بھی ذاتی پروڈکشن کا تجربہ کیا اور پھر توبہ کی۔ پروڈکشن میں جو ٹینشن انہیں ہوئی، وہ کوئی خوش گوار بات نہیں۔ صرف ریحانہ صدیقی ہی نہیں، دوسرے بہت سے فن کاروں نے اس دور میں پرائیویٹ پروڈکشن کیں اور تکالیف اٹھائیں۔ علی اعجاز، قیصر نقوی اور دیگر فن کاروں کے علاوہ محمود صدیقی کو بھی یہ تجربہ بھاری پڑا۔ 

آج صورت حال مختلف ہے۔ آج کے زمانے میں ذاتی یا پرائیویٹ پروڈکشن ایک بہت ہی کام یاب بزنس ہے۔ آج نہ وہ مسائل ہیں اور نہ وہ ٹیشن! اب حالات بدل گئے ہیں۔ اچھا ہے کہ میڈیا ہائوسز، پروڈکشن ہائوسز اور اسی طرح کے کام خوب پھل پھول رہے ہیں۔ چیزیں وقت کے ساتھ بہتر سے بہتر ہوتی جارہی ہیں۔ ڈراما انڈسٹری تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے، تبدیلیاں بھی آرہی ہیں، نئے تجربات بھی ہورہے ہیں۔ ایسے میں جب سب کچھ اچھا ہی اچھا ہورہا ہے، ہمیں ریحانہ صدیقی، طلعت صدیقی اور عارفہ صدیقی جیسی اداکارائوں کی کمی محسوس ہورہی ہے۔ ریحانہ صدیقی اور طلعت صدیقی اب اس دنیا میں نہیں لیکن عارفہ، ماشاء اللہ حیات ہیں۔ اللہ انہیں لمبی زندگی اور صحت دے، پرستار انہیں دوبارہ اسکرین پہ دیکھنے کے خواہش مند ہیں۔

فن و فنکار سے مزید
انٹرٹینمنٹ سے مزید