• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

منشی پریم چند دیہاتی زندگی سے محبت کرنے والے انسان تھے،خاص طور پر ان میں بسنے والے انسانوں سے۔ ہندوستانی معاشرہ ایک جاگیردارانہ معاشرہ تھا، اور ایسے معاشرے میں انسان کی روح کو بری طرح کچلا جاتا ہے۔لیکن ان میں بسنے والی روح ہر وقت بے چین سی رہتی تھی، اس لیے وہ آزادی خیال کے قائل تھے، غور و فکر کرنا اور حوصلہ مندی سے جینا، یہی ان کی زندگی کا ایک بنیادی نصب العین تھا۔ ذہنی اعتبار سے پریم چند ہمیشہ ارتقاء پذیر رہے ۔ہندوستان کے بدلتے ہوئے حالات نے انہیں جہاں ایک طرف دکھ اوردرد دیا تو وہیں پر دوسری جانب کچھ امیدوں کی کرنیں بھی پیدا کیں۔ پریم چند کی شخصیت میں محبت اور انسانیت کی ہم آہنگی نظر آتی ہے،ان کی طبیعت میں سادگی کا پہلو بہت نمایاں تھا، اور اس سادگی میں نہ صرف ایک درد مند دل پایا جاتا تھا، بلکہ وہ انسانی نفسیات کا شعور بھی رکھتے تھے۔

دیہاتی ماحول کے قریب رہنے اور اسے پرکھنے کی وجہ سے زندگی اور فطرت کے تقاضے سمجھتے تھے۔زمانے کی تغیر پذیری کو پریم چند کی نگاہوں نے بہت پہلے ہی بھانپ لیا تھا۔ اسی لئے انہوںنے کہانی کے سفر کو زمانے کے سفر کے ساتھ ساتھ چلا دیااور سچائی کو ساری کائنات کا محور قرار دیا۔

اگرچہ ان کے بعض افسانوں میں کسی حد تک غیر فطری مظاہر نظر آتے ہیں،لیکن پھر بھی سماجی دائرہ کارسے وہ کبھی بھی باہر نہیں نکلے۔ زندگی کے ہر جز کو شائستگی سے بیان کرتے ہیں۔ تہذیب کا اثر فرد بہت تیزی سے قبول کرتا ہے، اس دوران فرد کی سوچ میں متواتر تبدیلیاں بھی رونما ہوتی رہتی ہیں۔ کہیں پر احساس کی شدت تو کہیں پر جذبے شامل ہوتے ہیں۔ پریم چند کی فکری سوچ نے حقیقت کے کئی روپ ہمارے سامنے پیش کئے۔ 

ان کی سماجی فکر نے ان کی شخصیت پر بھی گہری چھاپ لگائی تھی، جہاں ایک طرف زندگی کی تلخیاں تھیں تو دوسری جانب زندگی کی مٹھاس۔ یہ سب کچھ انہیں رومانیت کے اس عنصر سے ملا جسے محبت کہتے ہیں۔ اسی محبت کو فطرت کا نام دے کر پاکیزگی کا جذبہ دیا۔ ان کی شخصیت کے بعض پہلوئوں میں جو دھندلاہٹ نظر آتی ہے، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہندوستانی معاشرے میں پائے جانےوالے توازن میں میں غریب عوام کو، کسانوں کو جس طرح پیس کر رکھ دیا پھر ان میں کسی تحریک کا نہ ہونا، ان عوامل نے پریم چند کو مایوسی کے سفر کی گرفت میں لے لیا اور اس کے اثرات بہرحال کسی نہ کسی طرح ان کی شخصیت پر پڑے۔

وہ انسان اور انسانی خیالات کو تخیل سے آزاد کروا کر اسے زمینی حقائق کی دنیا میں لانا چاہتے تھے۔ پریم چند نے کبھی بھی سچائی کو کسی بھی معاملے پر قربان نہیں کیا۔ انہوں نے اپنے افسانوں میں ایک قومی پہلو کا عنصر رکھا ہے، اس سے ان کا ہر افسانہ ہندوستان کے ہر فرد کا افسانہ بن گیا ۔ زندگی کے داخلی پہلوئوں پر نظر رکھنے والا پریم چند اپنے مخصوص تصورات کے باعث اردو افسانے میں عظیم المرتبت افسانہ نگار کا درجہ رکھتا ہے۔ ہندوستان میں پائے جانے والے معاشرتی و مذہبی تضادات اور پھر عوام کی مفلسی اور بدحالی نے پریم چند کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کیا۔ 

ان کی زبان بہت سادہ اور حقیقی زندگی سے بہت قریب ہے، اس لئے انہوں نےاپنی تخلیقات میں جمالیاتی پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کیا۔پریم چندکے افسانوں کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ ان کا رنگ مقامی ہےہندوستان کی زندگی کا رنگ اور اس میں دیہاتی پہلو بھی نمایاں ہے۔ فطرت کا اصل رنگ پریم چند کو دیہات میں ہی نظر آیا۔ زندگی کےمعمولی واقعات کو دلکش پیرائے میں پیش کیا۔ پریم چند کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’ سوز وطن‘‘ کا نام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ان کے ذہن میں واقعات کو دلکش پیرائے میں پیش کیا۔

پریم چند کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’ سوز وطن‘‘ کا نام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ان کے ذہن میں بیداری کی کون سی لہریں اور عوامل پرورش پا رہے تھے۔ پریم چند کے افسانوں کے کردار انسانیت سے محبت کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔ ان کے افسانوں کی ایک خصوصیت یہ بھی رہی ہے کہ خیر و شر کو اپنے افسانوں کا موضوع ماحول کی مناسبت سے بہت خوبی سے بنایا۔ 

ان کے نزدیک انسانیت سے بڑھ کر اس کائنات میں کوئی دوسری شے نہیں، اسی لئے انسان دوستی کی فکر نے پریم چند کو وہ احساس عطا کیا اور ایک ایسی آزادی کا تصور دیا ،جہاں ہندوستان میں رہنے والے ہر خطے کے افراد خاص طور پر محنت کش ایک قوم کی نہ صرف مانند ہیں بلکہ وہ اپنی وحدت سے اس تصور کو بھی بدل سکتے ہیں جنہوں نے خوشحالی اور آزادی کی فکر کے تصور کو پورا نہیں ہونے دیا۔ 

پریم چند کا افسانہ ’’ریاست کا دیوان‘‘ اس ہندوستانی تہذیب کی نشاندہی کرتا ہے، جو آج بھی ہمارے ہاں پائی جاتی ہے بظاہر انصاف پسند اور عوام کے دکھ درد میں شریک ہونے والے لیڈر اندر سے کتنے تبدیل ہوتے ہیں، اس کا اندازہ افسانہ ’’ ریاست کا دیوان‘‘ میں ملتا ہے، ایک اچھی زندگی گزارنے کی کشمکش میں اپنے ضمیر کا کس طرح خون کرنا پڑتا ہے اورضمیر کو سب کچھ سمجھ لینا ہی زندگی میں کیا کیا مشکلات لے کرآتا ہے، اس کا اظہار پریم چند نے خوب کیا ہے۔ ان کو نفسیاتی و معاشرتی حقیقتوں کا خوب اچھی طرح ادراک تھا ۔ پریم چند کو اپنی پہلی بیوی کا ایک نامناسب تجربہ گزر چکا تھا۔

دوسری بیوی نے جس طرح پریم چند کی زندگی کو سہارا دیا تھا، اس لئےوہ عورت کی اس قوت کو جانتےتھے، جس کے اظہار کی ایک جھلک افسانہ ’’گھاس والی‘‘ میں نظر آتی ہے۔ اس کے علاوہ ’’راہ نجات‘‘ اور ’’آہ بیکس‘‘ بھی اسی نفسیاتی رخ کو پیش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ہندوستان میں مذہبی طبقاتی تقسیم نے جس طرح ایک معاشرتی بگاڑ پیدا کیااور اس نے ہماری روحوں تک کو جکڑ لیا، اس نے ہماری فکری سوچ کو کبھی کبھی آگے نہ بڑھنے دیا۔

ہندوستانی عورت کی وفا شعاری پریم چند کے افسانوں کا ایک خاص موضوع رہا ہے، یہ عنصر آج بھی ہمارے خطے میں پایا جاتا ہے، اسی رجحان نے ہمارے خاندانی نظام اور وقار کو قائم و دائم رکھا ہے۔ منشی پریم چند حقیقتاً ایک زمانہ شناس اور فکرو عمل کا مجموعہ تھے۔ اس سوچ کو لے کر وہ آگے بڑھے، اور اس راستے میں انہوں نے مذہب ،قومیت، سماجی فکر کو کبھی بھی محدود نہ رکھا، بلکہ ایک ایسی طبقاتی جدوجہد شروع کی کہ جہاں صرف شعور کا عمل دخل رہ جاتا ہے۔ اور یہ شعوری عمل آج بھی ہمارے لئے ایک تجربہ ہے۔ منشی پریم چند،ہندوستانی سماج میں جو تحریکیں اٹھ رہی تھیں، ان کی شدت اور اثرات سے بخوبی واقف تھے، اس لئے ان کے افسانے ، ان حالات کی عکاسی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

معاشی ناہمواری اور طبقاتی کشمکش نے انہیں بہت متاثر کیا، جس طرح ہر دور میں حقیقت نگاری کا تصور تبدیل ہوتا گیا،اسی طرح پریم چند کے شعوری و فکری تصورات بھی بدلتے چلے گئے۔ انسان کی نفسیاتی اور طبقاتی کشمکش کی ایک لازوال داستان چھوڑ گئے کہ جہاں ایک جانب انسان کی زندگی کی کہانی تو دوسری جانب تو خود انسان کی اپنی ذات تھی۔

پریم چند کے نزدیک ادب کو زندگی سے کسی صورت میں بھی الگ نہیں کر سکتے، اس لئے ادب میں ان مسائل کا ذکر ہر حال میں آنا چاہئے، کہ جس سے فرد متاثر ہوتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس کے باطنی جذبات واحساسات کا بھی خیال رکھنا چاہئے، کیونکہ یہی عوامل کسی بھی معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ہندوستانی معاشرے میں جس تیزی سے طبقاتی کشمکش ایک نیا رخ اختیار کر رہی تھی، اس کو دیکھتے ہوئے باشعور اور تعلیم یافتہ افراد کے لئے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ ان حقیقتوں سے منہ چرائے، سب سے بڑھ کر ایسے سماج میں جذباتیت کی بالکل بھی گنجائش نہیں ہوتی۔ 

لہٰذا پریم چند ایک متوازن سوچ کے ساتھ آگے بڑھے، جب سماج دشمن عناصر نے عوام کو کبھی مذہب اور کبھی زبان کےحوالے سے باٹنے کی کوشش کی تو پریم چند نے ہندوستانی عوام کی اس روح کو اپنے افسانوں میں پیش کیا، جہاں گروہوں میں بٹ جانے کے باوجود یہ اندر سے ایک تھی۔ منشی پریم چند نے ان سماجی خوبصورتیوں کو بھی پیش کیا، جسے ہم رومانیت کا نام دیتے ہیں، اسی لئے سماجی حقیقت کے میلاپ کے ساتھ رومانیت کے رنگ میں انہیں ایک جداگانہ حیثیت عطا کی۔ اس رنگ میں زندگی کی حقیقتوں کے ساتھ ساتھ اس آزادی کا بھی احساس ہمیں محسوس ہوتا ہے، جس کا ہر انسان خواہش مند ہوتا ہے۔ اپنے افسانے ’’گھاس والی‘‘ میں لکھتے ہیں،

’’جوانی کا جوش ہے، حوصلہ ہے، عزم ہے قوت ہے اور وہ سب کچھ زندگی کو روشن پاکیزہ اور مکمل بنا دیتا ہے، جوانی کا نشہ ہے نفس پروری ہے۔ رعونت ہے،ہوس پرستی ہے،خود مطلبی ہے وہ سب کچھ جو زندگی کو زوال اور بدی کی جانب لے جاتا ہے، چین سنگھ پر جوانی کا نشہ تھا۔ ملیانے ٹھنڈے چھینٹوں سے نشہ اتار دیا۔ عورت جتنی آسانی سے دین اور ایمان کو غارت کر سکتی ہے اتنی ہی آسانی سے ان کو قوت بھی عطا کر سکتی ہے۔ وہی چین سنگھ جو بات بات پر مزدوروں کو گالیاں دیتا تھا، آسامیوں کو پیٹتا تھا اب اتنا خلیق اتنا متحمل ،اتنا منکسر ہو گیا تھا کہ لوگوں کو تعجب ہوتا تھا۔‘‘

منشی پریم چند نے اپنے افسانوں میں عورت کو کچھ اس انداز سے پیش کیا کہ وہ اپنے اندر صرف قربانی کا ہی جذبہ لئے ہوئے ہوتی ہے۔ ان کے نزدیک محبت کبھی مکمل نہیں ہوتی، بلکہ اس کی ہمیشہ تلاش اور جستجو جاری رکھنا چاہئے، تاکہ تاثیر میں کوئی فرق نہ آئے، افسانہ ’’عید گاہ ‘‘ میں دادی کی اپنےپوتے سے محبت ،وہ جذبہ احساس ہے، کہ جب فرد روحانیت کی لہر میں خودکو پرسکون محسوس کرنے لگتا ہے، اسی تصور کی ایک مثال افسانہ ’’بوڑھی کاکی ‘‘ میں بھی ملتی ہے۔ فطرت اپنے رنگ دکھاتی ہے اور رومانیت کی دلکشی اس روپ میں سامنے آتی ہے، افسانے ’’ نئی بیوی ‘‘ ، ’’ گھاس والی ‘‘اور ’’اکسیر ‘‘ اس فطرت کی خوبصورت عکاسی کرتے ہیں۔

سماج کی حقیقت نگاری سے جو نتائج برآمد ہوتے ہیں ،وہ اکثر افراد کو توڑ مروڑ کر رکھ دیتے ہیں، اس کی ایک بنیادی وجہ برداشت کا کم ہونا اور خود کو انا کے خول میں بند رکھنا بھی ہے۔ سماجی شعور کو سامنے رکھتے ہوئے پریم چند نے معاشرے میں موجود جن اجزاء کی افسانوں میں نشاندہی کی، انہیںہم ’’جہد مسلسل ‘‘کا نام دے سکتے ہیں۔ چونکہ پریم چند کا ذہن ہمیشہ ارتقاء پذیر رہا،اس لئے جہاں ان کے خیالات و واقعات کا ساتھ دے رہے تھے، وہیں پر وہ یہ بھی دیکھ رہے تھے کہ ہندوستانی عوام کی روح و کرب اضطراب میں بری طرح مبتلا ہے۔ ایک بہتر زندگی کی جانب گامزن ،صرف اسی وقت ممکن ہے جب ’’جہد مسلسل ‘‘ کو اپنایا جائے۔ افسانہ ’’ریاست کا دیوان‘‘ میں لکھتے ہیں۔

’بے شک میرے لئے مناسب تو یہی تھا لیکن زندگی میں اتنے دھکے کھا چکا ہوں کہ اب برداشت کی طاقت نہیں رہی، میں نے طے کر لیا ہے کہ ملازمت میں ضمیر کو بے داغ نہیں رکھ سکتا، نیک و بد فرض اور ایمانداری کے جھمیلوں میں پڑ کر میں نے بہت سے تلخ تجربات حاصل کئے۔ میں نے دیکھا کہ ان کے لئے ہے جو موقع محل دیکھ کر کام کرتے ہیں ، اصول پرستوں کے لئے دنیا مناسب جگہ نہیں ہے۔ ‘‘

معاشرتی اور سیاسی اتار چڑھائو، زندگی کے تلخ و شیریں تجربات نے ان کی فکری اور شعوری سطح کو بلندکیا، ’’دنیا کا انمول رتن ‘‘سے ’’کفن‘‘ تک کا جو سفر طے کیا، اس نے ہمیشہ بلندی ہی کا راستہ اختیار کیا، بحیثیت مجموعی پریم چند کی شخصیت اردو افسانوی دنیا کو غیر محسوس طور پر بلا تفریق محبت میں محبت بانٹتی ہوئی نظر آتی ہے۔