• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیر اعظم عمران خان نے اگلے روز ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مہنگائی کی حالیہ لہر عارضی ہے اوریہ جلد ختم ہو جائے گی ۔ انہوں نے کورونا کی عالمی وباکو اس مہنگائی کا اصل سبب قرار دیا اور اس یقین کا اظہار کہا کہ حالات جلد بہتر ہو جائیں گے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مہنگائی بڑھنے کے بعد کبھی کم ہوئی ؟ خاص طور پر پاکستان میں پہلے ایسا کوئی تجربہ ہوا ؟ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں عالمی سطح پر اتار چڑھائو کی وجہ سے پاکستان میں بھی ان کی قیمتوں میں کمی بیشی ہو سکتی ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کچھ مخصوص اشیا کی قیمتوں میں کارٹیلز اور مافیاز نے جو من مانے اضافےکئے ہیں ، انہیں کم کر دیا جائے جیسا کہ وزیر خزانہ شوکت ترین کہہ رہے ہیں کہ ایک ہفتے کے اندر چینی 90روپے فی کلو فروخت ہونے لگے گی لیکن ان قیمتوں میں کمی کا یہ مطلب ہر گزنہیں کہ مہنگائی ختم ہو جائے گی ۔ مہنگائی لوگوں کی قوت خرید میںکمی کا نام ہے ، جو پاکستان جیسی مقروض اور کرونی کیپٹل ازم میں جکڑی معیشت کا بنیادی خاصا ہے اور یہ ایسی معیشت میں مسلسل بڑھتی رہتی ہے ۔ کچھ اشیا کی قیمتوں میں کمی تو عارضی ہو سکتی ہے لیکن مہنگائی اس طرح کی معیشت کا مستقل عمل ہے ۔ مقروض اور کرونی کیپٹل ازم میں جکڑی معیشت کو آزاد ، خود کفیل اور نیشنل کیپٹل ازم والی معیشت میں بدلنا ہو گا ۔ اس کے لئے انقلاب برپا کرنا ہو گا ، ورنہ یہ معیشت انتشار اور سیاسی عدم استحکام کو ہی جنم دے سکتی ہے ، مہنگائی ختم نہیں کر سکتی ۔ ہم نے معاشی بحرانوں کی وجہ سے 20ویں صدی میں بڑے بڑے انقلاب اور تحریکوں کا مشاہدہ کیا اور پھر انقلاب کے بعد بھی معیشت نہ سنبھال سکنے والے ملکوں کا شیرازہ بکھرتے ہوئے بھی دیکھا۔ اس ضمن میں سب سے بڑی مثال سوویت یونین ہے ۔ ہم نے 21ویں صدی کے دوسرے عشرے میں دنیائے عرب کے مضبوط ممالک مصر ، عراق ، تیونس ، یمن ، اور دیگر ملکوں کو بھی اپنی آنکھوں کے سامنے تباہ ہوتےدیکھا حالانکہ ان کی معیشتیں طفیلی اور مقروض نہیں تھیں ۔ حکمران آمر ہوتے ہوئے بھی عالمی سامراجی طاقتوں کے مخالف تھے اور وہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے ’’ معاشی غارت گر ‘‘ عالمی مالیاتی اداروں کی ڈکٹیشن بھی نہیں لیتے تھے ۔ وہاں لوگوں کو صرف مہنگائی کے ساتھ روزگار اور یکساں مواقع نہ ملنے کی شکایت تھی، لوگوں کی بے چینی کو عالمی طاقتوں نے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا اور لوگ سڑکوں پرآ گئے ۔ ’’ تحریر اسکوائر ‘‘ پر لوگوں کا جم غفیر تھا ۔ وہاں اگرچہ ’’ سلمیا سلمیا ‘‘ یعنی ’’ پر امن رہو ، پر امن رہو ‘‘ کے نعرے لگ رہے تھے لیکن پوری دنیائے عرب افراتفری ، انتشار اور خونریزی کی لپیٹ میں آگئی تھی ۔

وہاں آج بھی لوگوں کو جمہوریت اور معاشی انصاف نہیں ملا، تباہی کا عمل آج تک رکنے کو نہیں آ رہا حالانکہ وہاں بھی جدید اور طاقتور افواج تھیں ۔ پاکستان میں حالات ان ملکوں سے کہیں زیادہ خراب ہیں ، جو ہمارے عہد میں بڑے بحرانوں ، انتشار اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئے ۔ پاکستان کی سیاسی قیادت کو انتہائی سنجیدگی سے حالات پر غور کرنا ہو گا اور مل کر حکمتِ عملی طے کرنا ہو گی ۔ اب لوگوں کی نہ صرف قوت خرید ختم ہو گئی ہے بلکہ قوت برداشت بھی جواب دے رہی ہے ۔ جیسا کہ وزیر خزانہ شوکت ترین نے اپنی ذمہ داریاں سنبھالتے ہوئے کہا تھا کہ آئی ایم ایف کی شرائط ماننے سے مہنگائی میں اضافہ ہو ا ہے ۔ وہ دوسرے الفاظ میں حکومت کو ان شرائط کے خلاف مزاحمت کرنے کا مشورہ دے رہے تھے ، جو حکومت نے نہیں مانا ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ عالمی مالیاتی اداروں سے مزاحمت کرنےکے لئے قومی سطح پر سیاسی یکجہتی کا اظہار ضروری ہے ، جسے تحریک انصاف کی حکومت ضروری نہیں سمجھتی ۔ پھر مہنگائی کس طرح ختم ہو گی ؟ عالمی مالیاتی اداروں کے ذریعے عالمی طاقتیں پاکستان جیسے ملکوں کی سیاسی اور معاشی خود مختاری کو سلب کرتی ہیں اور پھر انہیں نہ صرف اپنے عالمی ایجنڈے کے لئےاستعمال کرنے کی کوشش کرتی ہیں بلکہ ان کے وسائل پر بھی تصرف حاصل کرناچاہتی ہیں ۔ وہ عالمی مالیاتی اداروں کے طفیلی اور مقروض ممالک میں صرف معاشی بحران پیدا کرکے اپنا کنٹرول قائم رکھتی ہیں ۔ یہ ممالک قرضوں کی ادائیگی میں پھنسے رہتے ہیں ۔

مہنگائی کا دوسرا سبب حکومتوں اور ریاستوں کے بہت زیادہ اخراجات ہیں ۔ ان اخراجات خصوصاً غیر ضروری انتظامی اخراجات میں لازمی طور پر کٹوتی نہ کی گئی تو مہنگائی ختم نہیں ہو گی ۔ مہنگائی کا تیسرا سبب ملک کے اندر ’’ کرونی کیپٹل ازم ‘‘ ہے ۔ یعنی معیشت ، تجارت ، صنعت وغیرہ پر مخصوص اداروں اور گروہوں کی اجارہ داری اور کنٹرول ہے، اس کے خلاف بھی مزاحمت کرنا ہو گی ۔ عالمی مالیاتی اداروں کی طرح کرونی کیپٹل ازم کے خلاف بھی مزاحمت یا لڑائی آسان نہیں ۔ ان تمام کاموں کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے صاف ہاتھوں اور واضح مقاصد کے ساتھ آگے ہونا ہو گا اور مل کر کام کرنا ہو گا لیکن احتساب کے نام پر جو سیاسی پولرائزیشن قیام پاکستان سے اب تک رہی ہے ، وہ اب گہری ہو گئی ہے ۔ سیاسی جماعتیں بوجوہ اتنی بڑی لڑائی لڑنے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔ عوام مایوس ہو رہے ہیں اور وہ اپنے راستے دیکھ رہے ہیں ۔ سیاسی قیادت کے اس بحران میں طالبان سے مذاکرات بھی وسیع تر سیاسی اتفاق رائے کے بغیر کئے جا رہے ہیں ۔ لوگوں کو کیا راستہ دکھا یا جا رہا ہے اور پاکستان کو کس طرف لے جایا جا رہا ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان کو اس حقیقت کو تسلیم کر لینا چاہئے کہ مہنگائی کے خاتمے کے لئےطاقتور سسٹم سے لڑنا ہے ۔ مہنگائی اس طرح ختم نہیں ہو گی ، جس طرح وہ سمجھتے ہیں اور پاکستان جیسے ملکوں میں قیمتوں کا عارضی اتار چڑھاؤ توجاری رہتا ہے ۔ مہنگائی مسلسل بڑھتی رہتی ہے ۔ اس سے پہلے کہ عوام کی مایوسی اور بے یقینی کوئی ایسا رُخ اختیار کرے ، جو ہم نے اپنے عہد میں مختلف ملکوں میں دیکھا ہے ، وسیع تر سیاسی اتفاق رائے سے پاکستان کو درپیش بحرانوں کا حل تلاش کیا جائے ۔

تازہ ترین