• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اہلکار کی معطلی برقرار، پنجاب پولیس کی سر زنش


سپریم کورٹ آف پاکستان نے چوری اور اسٹریٹ کرائم میں ملوث لاہور پولیس کے اہلکار کی 2 سال سروس معطل کرنے کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے پنجاب پولیس اور پراسیکیوشن کی سخت سرزنش کی ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان گلزار احمد نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ پولیس کی پیٹی بھائی کو سزا دلوانے میں دلچسپی ہی نہیں، پولیس میں سب لوگ ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔

سپریم کورٹ میں چوری اور اسٹریٹ کرائم میں ملوث لاہور پولیس کے اہلکار کی 2 سال سروس کی معطلی کے خلاف اپیل پر سماعت چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اہلکار شاہد نذیر کے خلاف کتنے مقدمات درج ہیں؟

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے جواب دیا کہ مجموعی مقدمات 14 جبکہ چارج شیٹ میں 8 کا ذکر ہے، مدعی کے پیش نہ ہونے پر شاہد نذیر کے خلاف مقدمات داخلِ دفتر ہیں، پولیس اہلکار سے موبائل، نقدی اور زیورات برآمد ہوئے ہیں، شاہد نذیر چوری اور پرس چھیننے میں بھی ملوث رہا ہے۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے سوال کیا کہ پنجاب پولیس نے مدعیان سے رابطہ کیوں نہیں کیا؟ پولیس کا کام تھا کہ مدعیان کو تحفظ فراہم کر کے مقدمات بحال کراتی۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ پولیس میں سب لوگ ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوئے ہیں، کیا ریاست کا کام صرف مقدمات درج کر کے اپنا اور دوسروں کا مذاق بنانا نہیں۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ محکمے نے اہلکار کو برطرف کیا لیکن سروس ٹربیونل نے سزا کم کر کے 2 سال سروس معطل کر دی۔

عدالتِ عظمیٰ نے فیصلہ سناتے ہوئے لاہور پولیس کے اہلکار کی 2 سال کی سروس کی معطلی کا فیصلہ برقرار رکھا۔

قومی خبریں سے مزید