• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جبری گمشدی کو جرم قرار دیا جائے،وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز

کوئٹہ (آن لائن )وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے بیان میں کہا ہے کہ مشرف دور سے ملکی سلامتی کے نام پر مختلف مکاتب فکر کے لوگوں کی پاکستان میں جو جبری گمشدگیوں کا سلسلہ شروع ہوا تھا وہ تاحال جاری ہے جس پر ملکی و بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سمیت اقوام متحدہ نے بھی اپنے خدشات کا اظہار اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ جبری گمشدی کو جرم قرار دیا جائے اور جو بھی اس ماورائے آئین اقدام میں ملوث ہیں انکے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ جس پر الزام ہے تو گرفتاری کے بعد اسے چوبیس گھنٹے کے دوران کسی مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے اور لاپتہ افراد کے اہلخانہ کو تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ انکی حکومتی سطح پر مالی معاونت کی جائے ۔نصراللہ بلوچ کا کہنا ہے کہ جبری گمشدگی کو جرم قرار دینے کا جو قانون پاکستان میں بنایا گیا ہے اس میں جبری گمشدگیوں کی روک تھام کے حوالے سے موثر اقدام نہیں اٹھایا گیا ۔ اور نہ ہی لاپتہ شخص کے اہلخانہ کو تحفظ فراہم کرنے اور نہ ہی انکی مالی معاونت کا ذکر کیا گیا ہے بلکہ اس میں ایک شق ایسی شامل کی گئی ہے جس سے جبری گمشدہ شخص کے اہلخانہ اپنا قانونی حق استعمال کرنے سے کترا ئیں گےجو یقینا ایک غیر آینی اقدام ہے جس پر انسانی حقوق کی تنظیموں سمیت اقوام متحدہ نے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اس لئے ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس بل پر انسانی حقوق کی ملکی و بین الاقوامی تنظیموں سمیت اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ برائے جبری گمشدگی کے ساتھ اوپن بحث کے بعد اس بل کو آئین کا حصہ بنایا جائے بصورت دیگر وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں طلبا و سیاسی پارٹیوں کے ساتھ مل کر بھر پور احتجاج کیا جائے گا۔
کوئٹہ سے مزید