• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دونوں بے حد خطرناک لومڑ تھے ۔اپنی خوں خوار نظروں سے مجھے اور پھدکوکو گھور رہے تھے۔انہیں دیکھتے ہی ہماری تو جیسے جان ہی نکل گئی ۔اب میں ٹھہرا چھوٹا سا بھالو ،وہ بھی خالو بھالو۔ میرے ساتھ ننھا سا ڈاگی تھا،اس کا نام بھی پھدکو تھا ،ٹھیک سے بھاگ بھی نہیں سکتا تھا۔پھدک پھدک کر ،اچھل اچھل کر یہاں وہاں جاتا تھا ۔میں تواپنے بڑھاپے کی وجہ سے زیادہ تیز بھاگ بھی نہیں سکتا تھا ۔

یہ ایک خطرناک صورت حال تھی ۔نہ پھدکو جانتا تھا اور نہ ہی مجھے معلوم تھا کہ ایسی صورت حال میں کیا کرنا چاہیے۔اس سے پہلے ہمیں ایسے کسی خطرے کا سامنا بھی تو نہیں کرنا پڑا تھا ۔نہ ہم نے آپس میں طے کیا تھا کہ ایسی کسی سچویشن میں ہمیں کیا کرنا چاہیے ۔

دو خوں خوار لومڑوں کو اچانک سامنے دیکھ کر ہمار ے اوسان خطا ہو گئے تھے۔پھدکو نے چلا کر کہا ۔

’’ اس طرف بھاگو۔۔۔‘‘

وہ بائیں طرف لپکا ۔میں نے سٹپٹا کر کہا :

’’ نہیں ۔۔۔اس طرف ۔۔۔‘‘

یعنی ہم ایک سمت کا تعین بھی نہ کر سکے ۔وہ دائیں طرف اور میں بوکھلاہٹ میں بائیں طرف بھاگنے کو تھا کہ ایک لومڑ نے غرا کر کہا:’’ ہلنا مت ۔۔۔جہاں ہو وہیں کھڑے رہو ۔۔۔‘‘

اس کے لہجے میں ایسی غراہٹ تھی کہ میرا خون خشک ہو گیا۔پیر ساکت ہوگئے ۔پھدکو بھی اپنی جگہ سے نہ پھدک سکا،جہاں تھا وہیں کھڑے کا کھڑا رہ گیا۔

ایک لومڑ ،مجھے پکڑنے کے لیے میری طرف بڑھا۔اس نے اپنا منہ کھول کر اپنےد انت میری طرف بڑھائے ہی تھے کہ میں نے غیر ارادی طور پر اپنی بے ساکھی اس کےمنہ میں گھسیڑ دی۔

میری رنگین بے ساکھی اس کے دانتوں پر لگی تو وہ گھبرا کر ایک چیخ مارتے ہوئے پیچھے ہٹ گیا،یہی وہ موقع تھا کہ لومڑ کی چیخ سن کر دوسرا لومڑ اس کی طرف متوجہ ہوا اور پھدکو ،کو پھدکنے کا موقع مل گیا۔ پھدکتے ہوئے ایک طرف کو بھاگا۔دوسرالومڑ غراتے ہوئے اس کے پیچھے لپکا۔اب میں ایک لومڑ کے سامنے کھڑا تھا۔اپنی بے ساکھی تلوار کی طرح سہمے ہوئے انداز میں اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔بے ساکھی کی ضرب سے لومڑ کا غصہ عروج پر تھا۔

میری بہادری پر خوش ہونے کی بہ جائے وہ تلملا گیا تھا۔ میں اس کے حملے سے تو بچ گیا تھا ،مگراب بھی محفوظ نہیں تھا۔اس نے غراتے ہوئے غصے میں کہا :’’ تم نے مجھ پر حملہ کیا ۔ مجھے چوٹ پہنچائی ،اب تمہیں مجھ سے کوئی نہیں بچا سکتا ۔۔۔‘‘وہ مجھے پکڑنے کے لیے ایک بار پھر میری طرف بڑھا ۔

دوسرا لومڑ پھدکو کے پیچھے تھا ،مگر پھدکو بھی زیادہ دور تک نہیں بھاگ سکتا تھا ۔وہ ذرا آگے تک پھدک کر واپس اسی طر ف آگیا۔

جس وقت پہلا لومڑ مجھے پکڑنے کے لیے میری طرف بڑھ رہا تھا ۔اسی وقت پھدکو اچھل کر ہمارے درمیان آگیااوراس نے اچانک زور سے بھونکنا شروع کیا،پھر چلا کر کہا :

’’ میری طرف دیکھو ۔۔‘‘

دونوں لومڑ اس کو دیکھنے لگے ،تب پھدکو نے سرگوشی میں مجھ سے کہا :’’ خالو بھالو ،اپنی آنکھیں بند کرلو ۔۔۔‘‘

میری سمجھ میں نہیں آیا کہ پھدکو نے مجھے آنکھیں بند کرنے کو کیوں کہا ،مگر یہ وقت کچھ سوچنے اور سمجھنے کا نہیں تھا۔میں نے اپنی آنکھیں سختی سے بند کرلیں ۔اس کے ساتھ ہی پھدکو کتے نے پھدکنا شروع کردیا۔دونوں لومڑ حیرت سے آنکھیں پھاڑے اُسے دیکھ رہے تھے ۔انہیں کیا معلوم تھا کہ پھدکو اب کیا کرنے والا ہے ۔وہ تو ہم دونوں کو شکار کرنے کے لیے ہمارے سامنے کھڑے تھے ۔حیرانی سے پھدکو کو دیکھ رہے تھے جو میرے اور ان کے درمیان آکر پھدک رہا تھا،اونچی آواز میں بھونک رہا تھا ، پھر اس نے ایک دم سے پھرکی کی طرح گھومنا شروع کردیا۔

سچ بتاؤں ،مجھے بالکل نہیں معلوم تھا کہ مجھے اس وقت آنکھیں بند کرنی چاہیے تھیں یا نہیں ۔ایسی خطرناک صورت حال میں کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنا جان لیوا ثابت بھی ہو سکتا تھا ۔میری جان بھی جا سکتی تھی ۔لومڑ مجھے پکڑ کر کھا بھی سکتے تھے ،مگر ایسا نہ ہوا ۔

جوں ہی میں نے آنکھیں بند کیں ،پھدکو نے میرے اور لومڑوں کے درمیان اچانک ہی گھومنا شرو ع کردیا۔وہ اتنا تیز گھوما ، جیسے کوئی لٹو گھومتا ہے یا کوئی تیز رفتار پنکھا گھومتا ہے ۔

آپ نے بعض چھوٹے کتوں کو دیکھا ہوگا۔وہ اپنی دم کی طرف بھونکتے ہوئے اچانک ہی گھومنے لگتے ہیں ۔جیسے اپنے جبڑے سے اپنی دم کو پکڑ لینا چاہتے ہوں ۔

پھدکو کتا بھی ایسے ہی گھوم رہا تھا ۔اپنی دم کو پکڑے وہ اتنا تیز گھوما،کہ وہاں بھونچال آگیا۔اس کی رفتار ایسی تیز تھی کہ اس کے ساتھ اطراف کی مٹی کسی بھنور کی طرح گھومنے لگی ۔

دونوں خوں خوار لومڑ یہ دیکھتے ہی ٹھٹک گئے،آنکھیں پھاڑے اس منظر کو دیکھنے لگے ۔

انہوں نے ایسا گھومتا اور بھونکتا ہوا کتا کبھی نہیں دیکھا تھا ۔انہیں سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ یہ کیا ہو رہا ہے ۔ان کے سامنے بھنور سا کیوں بن گیا ہے ۔گھومتے ہوئے کتے کو مسلسل دیکھنے سے انہیں چکر آنے لگے ۔

وہ بری طرح سٹپٹا گئے ۔چلا کر کہنے لگے :

’’ رک جا ؤ ،رک جاؤ ،خدا کے لیے رک جاؤ ۔۔۔‘‘

پھدکو بھلا ان کی آوازوں پر کہاں رکنے والا تھا ۔وہ اور تیز اور تیزاور تیز گھومنے لگا ۔اس نے لومڑوں کی درخواست پر کوئی توجہ نہ دی ۔اپنا پھرکی کی طرح گھومنا جاری رکھا ۔لومڑوں نے چلا کر پھر کہا :’’ رک جاؤ ،رک جا ؤ،ہمیں چکر آرہے ہیں ۔۔۔‘‘

پھدکو کتے نے بھی جواب میں چلا کر کہا :’’ ہر گز نہیں ،میں نہیں رکوں گا۔۔۔‘‘

اس کے ساتھ ہی اس نے گھومنے کی رفتار مزید تیز کردی ۔لومڑوں کی چوں کہ سمجھ ہی میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرنے والا ہے ۔اس لیے وہ پھدکو کو اپنی نظر میں رکھنے کی کوشش کررہے تھے مگر طوفان کی سی رفتار سے گھومنے اور بھونکنے والے کتے کو مسلسل دیکھنے س ےان کا سر چکرا گیاتھا۔

وہ اتنا تیز گھوم رہا تھا کہ لومڑو ںکو اس پہ مسلسل نظریں جمانے میں بھی مشکل پیش آنے لگی تھی۔ان کی آنکھیں پھدکو کتے کے گھومنے کے ساتھ ساتھ گھوم رہی تھیں ۔ساتھ ساتھ ساتھ سر چکرا رہا تھا ۔پھر وہ اپنی جگہ کھڑے کھڑے جھومنے لگے ۔انہیں غش آنے لگا اور وہ ایک ساتھ دھڑام سے پیچھے کو الٹ گئے ۔ان کی ٹانگیں یوں ہوا میں معلق ہوگئیں جیسے کوئی کار الٹ جائے تو اس کے ٹائر اوپر ہوجاتے اور چھت زمین سے لگ جاتی ہے ۔ان کی دُمیں پیچھے کو سمٹ کر زمین پر لرزنے لگیں۔وہ ایسے گرے تھے کہ انہیں پوری دنیا ،سارے درخت اور ارد گرد موجود ہر چیز تیزی سے گھومتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی ۔

تب کہیں پھدکو کتا اونچی آواز میں بولا :’’ خالو بھالو،آنکھیں کھولو اور بھاگو۔۔۔‘‘

میں نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو حیران رہ گیا ۔میرے سامنے دونوں خوں خوار لومڑ الٹے پڑے تھے ۔ان کی دُمیں زمین پہ کسی جھاڑو کی طرح لہرا رہی تھیں ۔ا ن کے جسموں پہ لرزہ طاری تھا ۔ان کے بدن کانپ رہے تھے ۔

’’ ارے ۔۔۔ان کو کیا ہوا ۔۔۔‘‘

پھدکو کتا پھر چلا یا:’’ جلدی کرو خالو بھالو بھاگو ۔۔۔‘‘

میں نے جلدی سے اپنا سامان اٹھایا،اپنی چھڑی، بیساکھی اور چھتری سنبھالی اور دوڑ لگادی ۔

میں بوڑھا تھا ،کم زور تھا لیکن جب جان پہ بن آئے اور بھاگنے کا موقع مل جائے تو بوڑھے سے بوڑھا اور کم زور سے کم زور بھی سر پہ پیر رکھ کر بھاگتا ہے ۔میں سر پہ پیر رکھ کر تونہیں بھاگا۔ میرے ساتھ پھدکو نے بھی دوڑ لگادی تھی۔ہم نے گھنے درختوں اور جھاڑیوں کا رخ کیا تھا ، جہاں چھپ کر ہم ان لومڑوں سے بچ سکتے بچ کر دور جا سکتے تھے ۔

دونوں حیرت زدہ نیم بے ہوش اور پریشان لومڑ وہیں پڑے رہ گئے تھے ۔وہ ایسے گھن چکر بن گئے تھے کہ ان سے کھڑا بھی نہیں ہوا گیا تھا ۔وہیں پڑے پڑے حسرت سے ہمیں دور جاتے ہوئے دیکھ رہے تھے ۔

لومڑوں کی پہنچ سے دور نکلتے ہی ،جب ہمیں کوئی خطرہ نہیں رہا تو میں نے پھدکو سے پوچھا :’’ تم نے مجھے آنکھیں بند کرنے کا کیوں کہا تھا ۔۔۔؟‘‘

اس وقت تک مجھے معلوم نہیں تھا کہ پھدکو نے لومڑوں کے ساتھ کیا کیا تھا ۔پھدکو نے اس پر مجھے ساری بات بتاتے ہوئے کہا :’’ اگر آپ آنکھیں بند نہ کرتے تو میرا گھومنا دیکھ کر آپ بھی گھوم جاتے اور ان لومڑوں کی طرح وہاں پڑے ہوتے ،بہت دیر تک اپنے پیروں پہ کھڑے بھی نہ ہو پاتے ۔۔۔‘‘

وہ ٹھیک کہہ رہا تھا ۔جو کچھ اس نے مجھے بتایا وہ مجھے حیران کرنے کے لیے کافی تھا۔ایک چھوٹے سے پھدکو کتے سے مجھے اس شان دار کارنامے کی امید نہیں تھی ۔لومڑوں کے سامنے اس کی کوئی وقعت نہیں تھی ،مگر گھومنے میں اس کی مہار ت نے اس کی اور میری جان بچا دی تھی ۔

میں نے تشکر آمیز نظروں سے پھدکو کتے کو دیکھتے ہوئے کہا :’’ یہ میری زندگی کا اہم موڑ تھا ،اگر تم گھومنے میں اپنی مہارت نہ دکھاتے تو آج وہ خبیث لومڑ مجھے پکڑ کرکھا چکے ہوتے ۔۔۔۔‘‘

آگے کیا ہوا ، انتظار کریں اگلتے ہفتے تک۔