• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سرطان موذی مرض ہونے کے باوجود قابلِ علاج ہے، بشرطیکہ بروقت تشخیص ہو

عالمی ادارۂ صحت، بین الاقوامی ایجینسی فار ریسرچ آن کینسر (IARC: International Agency For Research On Cancer) اور یونین فار انٹرنیشنل کینسر کنٹرول (UICC: Union For International Cancer Cantrol) کے زیرِ اہتمام دُنیا بَھر میں ہر سال 4 فروری کو کینسر کا عالمی دِن مختلف تھیمز کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ سال 2022ءتا 2024ءکے لیےجو ایک تھیم منتخب کیا گیا ہے، وہ ”Close the care gap“ ہے۔

یعنی دیکھ بھال کا خلا ختم کریں۔ اس تین سالہ مہم کے دوران مختلف سرگرمیوں کے ذریعے تشخیص اور علاج معالجے کی راہ میں حائل رکاوٹیں دُور کرنے کے لیے شعور اُجاگر کیا جائے گا، تاکہ ہر سطح تک مساوی طور پر تشخیص اورعلاج کی جدید سہولتیں فراہم ہوسکیں۔ یاد رکھیے، سرطان ایک جان لیوا بیماری ہونے کے باوجود قابلِ علاج ہے اور یہ تب ہی ممکن ہے، جب مرض بروقت تشخیص ہوجائے۔ 

ہمارے ارد گرد کئی ایسےافراد موجود ہیں ،جو بروقت تشخیص اور علاج کی بدولت آج صحت مند زندگی بسرکر رہے ہیں۔ سرطان کی بروقت تشخیص کے لیےشعور اُجاگر کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس مرض سے متعلق ہمارے معاشرے میں اس قدر مفروضات اور توہمّات عام ہیں کہ زیادہ تر مریض محض اس خوف سے معالج سے رجوع نہیں کرتے کہ کہیں آپریشن یاکیموتھراپی کے نتیجے میں سرطان پورے جسم میں نہ پھیل جائے۔

ایسے مریضوں کی بھی تعداد کم نہیں، جو مختلف ٹونے ٹوٹکے آزمانے میں علاج کا قیمتی وقت ضایع کردیتے ہیں اور معالج سے تب رجوع کیا جاتا ہے،جب بچنے کی کوئی تدبیر ممکن نہیں رہتی۔یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ سرطان جس قدر جلد تشخیص ہوگا، علاج کی کام یابی کے امکانات اُسی قدر بڑھ جائیں گے۔

سرطان کا تعلق خلیات سے ہےاورخلیات ہمارےجسم کی بنیادی اکائی ہیں۔ یہی زندگی کو رواں دواں رکھتے ہیں۔ ایک منظّم نظام کے تحت جسم سے پُرانے خلیے خود بخود ختم ہوتے ہیں اور اُن کی جگہ نئے خلیےلے لیتے ہیں، لیکن جب کسی بھی سبب خلیات کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہونے لگے اور ان میں تقسیم کا عمل بھی شروع ہو جائے، تو یہ پورے جسم میں پھیل کر نارمل خلیوں کو بھی تباہ کرنے لگتے ہیں۔

نتیجتاًجسمانی نشوونما کنٹرول کرنے والے نظام میں بگاڑ پیدا ہوجاتا ہے۔یعنی پُرانے خلیات بھی برقرار رہتے ہیں اور نئے خلیوں میں بھی بلاضرورت اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ ایک گچّھے کی شکل اختیار کر لیتے ہیں، جسے طبّی اصطلاح میں ٹیومر کہا جاتا ہے۔ دُنیا بَھر میں جتنے بھی عوارض ہیں، اُن میں سرطان خطرناک مرض تصوّر کیاجاتا ہے، حالاں کہ یہ ناقابل علاج نہیں، لیکن تاخیر سے تشخیص کی صُورت میں مریض کے لیےخاصا تکلیف دہ اور خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ 

عالمی ادارۂ صحت نے پوری دُنیا میں ہونے والی اموات کی سب سے بڑی وجہ بھی اسی موذی عارضے کو قرار دیا ہے۔عالمی ادارۂ صحت ہی کے مطابق پاکستان میں سرطان کی پانچ اقسام عام ہیں، جن میں بریسٹ کینسر سرِفہرست ہے، جب کہ منہ کا سرطان دوسرے نمبر پر شمار کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر اقسام میں پھیپھڑوں، غذاکی نالی اور بڑی آنت کا سرطان شامل ہیں۔ ان کینسرز میں مَردوں میں منہ کے کینسر اور خواتین میں بریسٹ کینسرکی شرح بُلند ہے۔ عام طور پر سرطان سے ہونے والی ایک تہائی اموات کا تعلق طرزِ زندگی اور روزمرّہ استعمال کی جانے والی غذا سے ہے۔ 

سرطان لاحق ہونے کے یوں تو کئی اسباب ہیں، لیکن ماہرینِ صحت نےجن خاص عوامل کی نشان دہی کی ہے، اُن میں موٹاپا، پھلوں اور سبزیوں کا کم استعمال، جسمانی سرگرمیوں کا فقدان اور تمباکو اور الکحل جیسے عِلّتوں کا شکار ہونا شامل ہے۔ اگرچہ ان تمام عوامل ہی سے گریز کرتے ہوئے صحت بخش طرزِ زندگی اختیار کرنا ناگزیر ہے، لیکن تمباکو نوشی، پان، چھالیا اور گٹکے کا استعمال ایسی عِلّتیں ہیں، جو سرطان کی شرح میں مسلسل اضافے کا سبب ہیں۔ 

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق سالانہ تقریباً پانچ ملین افراد تمباکو نوشی کے باعث اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اور پاکستان میں ایک محتاط اندازے کے مطابق 36فی صد مَرد،جب کہ9فی صد خواتین تمباکونوشی کی لت میں مبتلا ہیں اور بدقسمتی سے ہر گزرتے دِن کے ساتھ اس تعداد میں اضافہ ہی دیکھنے میں آ رہا ہے۔

یاد رکھیے، تمباکو نوشی کے عادی افراد میں پھیپھڑوں کے سرطان کے50فی صد امکانات بڑھ جاتے ہیں، جب کہ تمباکو نوشی سے اجتناب برت کے پھیپھڑوں کے سرطان میں مبتلا ہونےکے90فی صد امکانات کم کیے جا سکتے ہیں۔ واضح رہے، ان عِلّتوں کے شکار افراد میں منہ، گلے اور غذا کی نالی کے سرطان لاحق ہونے کے خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں۔

اگر سرطان کی علامات کا ذکر کریں، تو جس طرح سرطان کی مختلف اقسام ہیں، اِسی طرح ہر سرطان کی علامات بھی جدا جدا ہیں۔ چوں کہ پاکستان میں بریسٹ کینسر اور منہ کا سرطان عام ہیں، تو ان کینسرز کی بنیادی علامت گلٹی ہی ہے۔ بریسٹ کینسرلاحق ہونے کی تاحال حتمی وجہ دریافت نہیں کی جاسکی،لیکن بعض اسباب بریسٹ کینسرکے خطرات بڑھا نے کا باعث بنتے ہیں۔

جیسےموروثیت (مثلاًوالدہ، بہن، نانی یا دادی وغیرہ کو بریسٹ کینسر ہو)، کم عُمری میں(گیارہ سال کی عُمر سے قبل) ماہ واری شروع ہوکر زائد عُمر تک جاری رہے ، بانجھ پَن یا پہلا بچّہ تیس برس سے زائد عُمر میں ہو۔ اس کےعلاوہ موٹاپا، جسمانی سرگرمیوں کا فقدان، سہل پسندی، ہارمون ری پلیسیمنٹ تھراپی اور الکحل وغیرہ کا استعمال بھی وجہ بن سکتا ہے۔ 

بریسٹ کینسر کی دیگر علامات میں بریسٹ کی ساخت میں تبدیلی، درد، نِپل کا اندر دھنس جانا، زخم بننا، خون یا رطوبت کا اخراج، بغل میں غدود محسوس ہونا اور سُوجن وغیرہ شامل ہیں۔مرض کی بروقت تشخیص اور علاج کی بدولت صحت یابی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں،مگر افسوس کہ زیادہ تر کیسز میں مریضہ، معالج سے تب ہی رجوع کرتی ہے، جب علاج خاصا مشکل امر بن جاتا ہے۔

پھیپھڑوں کےسرطان کی بات کریں، تو زیادہ تر کیسز میں ابتدائی مرحلے میں علامات ظاہر نہیں ہوتیں، مگر جب کسی وجہ سے سینے کا ایکس رے یا سی۔ٹی اسکین کروایا جائے، تو پھیپھڑوں کا سرطان تشخیص ہوتا ہے۔ پھیپھڑوں کےسرطان میں مبتلا بیش تر مریضوں کی علامات ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہیں۔

تاہم، عام علامات میں مسلسل کھانسی، کھانسی کے ساتھ خون کا اخراج، آواز میں تبدیلی، سانس لینے میں دشواری یا خرخراہٹ محسوس ہونا اور وزن میں متواتر کمی وغیرہ شامل ہیں۔ اگر علاج کے باوجود کھانسی میں افاقہ نہ ہو اور تھوک میں خون بھی آنا شروع ہو جائے، تو یہ پھیپھڑوں کے سرطان کی ابتدائی علامت ہوسکتی ہے۔ جب کہ اگر منہ میں زخم، سُوجن ہو یا جبڑے سُن ہورہے ہیں، تو یہ مُنہ کے سرطان کی علامات ہوسکتی ہیں۔ بعد ازاں، ان گلٹیوں یا زخموں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جاتاہے، جس کے سبب منہ پوری طرح نہیں کُھل پاتا، بات کرنے میں بھی سخت دشواری پیش آتی ہے،جب کہ منہ سے ناقابلِ برداشت بُو بھی آنے لگتی ہے۔

علاج کے ضمن میں مختلف ٹیسٹ کیے جاتے ہیں، جیسا کہ بریسٹ کینسر کی تشخیص کے لیے بریسٹ کا معائنہ، الٹراسائونڈ،ایکس رے یا پھرمیموگرافی تجویز کیے جاتے ہیں، جنہیں اسکریننگ کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔پھیپھڑوں کے سرطان کی تشخیص عموماً ایکس رے یا سی۔ٹی اسکین کے ذریعے ممکن ہے اور سرطان کی ان تینوں اقسام کی حتمی تشخیص کے لیے بائیو آپسی کی جاتی ہے، جو اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس کے ذریعے جہاں کینسر کی نوعیت کا پتا چلتا ہے، وہیں اس کی رپورٹ کی روشنی میں یہ فیصلہ بھی کیا جاتا ہے کہ کون سا طریقۂ علاج مؤثر رہے گا، مگر افسوس کہ ہمارے یہاں کئی غلط تصوّرات کے سبب بائیو آپسی کا سُن کر مریض ہی نہیں، اُس کے اہلِ خانہ بھی خوف زدہ ہوجاتے ہیں، تو یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ بائیوآپسی قطعاً مضر نہیں۔ 

اس طریقۂ تشخیص میں جسم کے متاثرہ حصّے سے چھوٹا سا ٹشو نکال کر مائکرو اسکوپ کے ذریعے جانچا جاتا ہے کہ اس میں سرطان زدہ خلیے موجود ہیں یا نہیں۔ حتمی تشخیص کے بعد مختلف ٹیسٹس تجویز کیے جاتے ہیں، تاکہ یہ معلوم کیاجاسکے کہ آیا سرطان جسم کے ایک مخصوص حصّے تک محدود ہے یا پھر پھیل چُکا ہے۔ اگلے مرحلے میں staging کی جاتی ہے،جس میں ٹیومر کےحجم اوراس کے پھیلاؤ کی جانچ ہوتی ہے۔ نیز، مریض کی عمومی صحت، آپریشن کے لیے اس کی سکت اور طاقت کا جائزہ لیا جاتا ہے، جس کے بعد علاج کا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔عام طور پرسرطان کے علاج کے لیے تین طریقے سرجری، کیمو اور ریڈی ایشن تھراپی مستعمل ہیں۔

یاد رکھیں، ہم صحت مند طرزِ زندگی اختیار کر کے ہی اس موذی مرض سے محفوظ رہ سکتے ہیں اور جب ہم صحت مند طرزِ زندگی کی بات کرتے ہیں، تو اس کا مطلب ہے کہ صحت بخش غذائیں استعمال کی جائیں، جسمانی سرگرمی کو معمول میں شامل رکھا جائے، وزن اور جسم میں آنے والی دیگر تبدیلیوں پر نظر رہے اور کوئی بھی غیر معمولی تبدیلی ظاہر ہونے پر معالج سے فوراًرجوع کیا جائے۔ اگرچہ ہمارے یہاں وزن کم یازیادہ ہونا عام سی بات تصوّر کی جاتی ہے ، لیکن ایسا ہے نہیں، اگر مختصر مدّت میں غذا یا ورزش میں کسی تبدیلی کے بغیر وزن تیزی سے کم ہورہا ہو، تو یہ سرطان کی علامت بھی ہوسکتی ہے۔

خصوصاً تیزی سے وزن میں کمی زیادہ سنگین ہے، خاص طور پر اگر وزن میں کمی کے ساتھ تھکاوٹ اور کم زوری بھی محسوس ہو۔ اس کے علاوہ پان، چھالیا، گٹکے، تمباکو اور الکحل سے مکمل طور پر اجتناب برتا جائے۔جو افراد ان عِلّتوں کا شکار ہیں، درحقیقت وہ اپنے لیے خود کینسر خریدتے ہیں۔ بعد ازاں، علاج کے ضمن میں اُنہیں منہگے آپریشنز اور ریڈیائی شعاؤں کے صبر آزما اور تکلیف دہ پیچیدہ عمل سے گزرنا پڑتا ہے اور بدقسمتی سے علاج کے باوجود بھی 40سے45فی صد مریض جان کی بازی ہار جاتے ہیں،جب کہ50 سے55فی صد مریض بچ تو جاتے ہیں، مگر انہیں تاعُمر ایک مشکل زندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان کا معیارِ زندگی انتہائی پست ہو جاتا ہے۔ ایک افسوس ناک امر یہ بھی ہے کہ شفا پانے والے زیادہ تر مریض علاج کے بعد تمباکو، پان، چھالیا اور گٹگے کا استعمال دوبارہ شروع کردیتے ہیں، جس سے سرطان کے ری لیپس کا خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔ (مضمون نگار،لاہور میں بطور پروفیسر آف سرجری خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کے شعبہ میڈیکل ریلیف کے انچارج ہیں)

سنڈے میگزین سے مزید