• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

موبائل فون میں رِنگ ٹون کی جگہ تلاوت ،اذان، درود یا نعت فیڈ کرنا

تفہیم المسائل

سوال: موبائل فون پر تلاوتِ قرآن یا نعتیہ کلام لگانا کیسا ہے ،بعض لوگوں نے موبائل رنگ کی جگہ قرآن کی کوئی سورت مثلاً ’’سورۂ الرحمٰن‘‘ یااذان یا نعت فیڈکی ہوتی ہے ۔آپ انہیں فون کریں توسورت قرآن یااذان یانعت سنائی دیتی ہے ،پھر وہ اچانک اپنا موبائل فون آن کرتے ہیں اور تلاوت یا اذان یا نعت درمیان میں کٹ جاتی ہے،اس کاشرعی حکم کیاہے؟(محمد کاشف رضا ،لاہور)

جواب: تلاوتِ قرآن،درود پاک یا نعتیہ کلام کو بطور رنگ ٹون استعمال کرنا خلافِ ادب ہے ،اس سے اجتناب کرنا چاہیے ۔ اِسی طرح بعض لوگ رِنگ ٹون کی جگہ اذان یا قرآن کی کسی مُقدّس سورت (مثلاً سورۃ الرحمٰن) کی تلاوت ڈال دیتے ہیں، قرآن مجید کی تلاوت سننا یا اذان کے کلمات ثواب کی نیت سے سننا اور درودپاک سننا یقیناً اجروثواب کا سبب ہے ،لیکن ہمارے نزدیک اُن مُقدَّسات کو موبائل فون میں گھنٹی کی جگہ استعمال کرنا خلافِ ادب ہے اور اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔

ہاں! اگر موبائل فون میں قرآن مجید مکمل یا بعض منتخب سورتیں اس لیے ڈالی جائیں کہ فرصت کے وقت ثواب کی نیت سے باوضو تلاوت کی جائے یا تلاوت ،اذکار اور درود و نعت کو سننے کی سعادت حاصل کی جائے تو یہ باعثِ اجر ہے اور چونکہ قرآن مجید سافٹ ویر میں ہوتا ہے، اسکرین پر مستقل طور پر ثبت نہیں ہوتا ،اس لیے اسے موبائل میں محفوظ رکھنا خلافِ ادب نہیں ہے ۔

اقراء سے مزید