تفہیم المسائل
سوال: ایک حدیث کا مفہوم ہے : نااہل کو علم سکھانا ایسا ہے جیسے خنزیروں کو زیورات پہنا دیے جائیں ، اس کی وضاحت فرمادیں۔ (محمد اشرف ، کراچی)
جواب: آپ نے سوال میں جس حدیث کا ذکر کیا ،وہ یہ ہے :ترجمہ:’’ حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: علمِ دین حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے اور نااہل کو علم سکھانے والا سور کے گلے میں جواہر ، موتی اور سونے کا ہار پہنانے والے کی طرح ہے،(سُنن ابن ماجہ:224)‘‘۔
حدیث کے ابتدائی حصے میں دین کے ضروری اور بنیادی مسائل کو سیکھنا ہر مسلمان پر فرض ہونابیان کیاہے ،اس کے بعد نااہل کے سامنے علم کے اعلیٰ جواہر کو بیان کرنے سے منع فرمایا، کیونکہ نا اہل شخص کے سامنے علم کے اَسرار ورُموز بیان کیے جائیں تو وہ ان عِلمی نِکات کو سمجھ نہیں سکے گا اورغلط فہمی میں مبتلا ہوجائے گایا پھر اپنی ناسمجھی کی بنا ءپر وہ خواہ مخواہ ان علمی نکات کا انکار کر بیٹھے گا۔
ایک دوسری روایت میں ہے : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:ترجمہ:’’ علم کی آفت اسے بُھول جانا ہے اور نااہل سے علم کی بات کہنا، علم کو ضائع کرنا ہے ، (مُصنّف ابن ابی شیبہ:26139)‘‘۔
علامہ علی القاری ؒمُتوفّٰی1014ھ لکھتے ہیں: ترجمہ:’’(نا اہل کو علم سکھانے والا ایسا ہی ہے جیسے خنزیر کے گلے میں جواہر ،موتی اور سونے کا ہار پہنانے والا ہے)‘‘، اس کی شرح میں علامہ علی القاریؒ لکھتے ہیں: یعنی اُسے علم کی ایسی باریکیاں سکھانا جو اُس کی سمجھ سے بالاتر ہوں یا وہ اُسے دنیاوی مقاصد کے لیے سیکھنا چاہتا ہویا وہ جو علم کو اللہ کی رضا کے لیے حاصل نہ کرنا چاہتا ہو، بعض علماء نے کہا ہے: اس سے مراد یہ ہے کہ ہر علم کے لیے ایک استعداد چاہیے اور ایسا شخص چاہیے جو اس کی حکمتوں کو سمجھنے کا اہل ہو،جس نے علم کو غیرِ محل میں رکھا تو اُس نے ظلم کیا، سو انھوں نے ظلم کی تعبیر کرنے کے لیے یہ مثال بیان کی ہے: جیسے حقیر حیوانات کو قیمتی جواہرات کا ہار پہنانا، کیونکہ یہ اُن جواہرات کی توہین ہے ، اسی لیے حضرت علی کرّم اللہ وجہہٗ نے فرمایا: ’’لوگوں سے اُن کی ذہنی سطح کے مطابق بات کرو ، جسے وہ سمجھ سکیں، کیا تم اس بات کو پسند کرو گے کہ وہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کو جھٹلائیں ، کیونکہ جب وہ ایسی بات سنیں گے جس کا اُن کی عقلیں ادراک نہیں کرسکتیں ،تو وہ اس کی تکذیب میں دیر نہیں لگائیں گے، اس مثال کو بیان کرنے کے بعد فرمایا:پس اس مثال کے بعد انھوں نے کہا: طلبِ علم سے مراد یہ ہے کہ (کسی خاص شعبے کا علم) اُن کو سکھایا جائے جو اُس کے اہل ہوں اورعلم سیکھنے کے بعد اس کے تقاضوں کو سمجھتے بھی ہوں،پس عالم کو چاہیے کہ وہ( کسی خاص شعبے کا)علم اُسے سکھائے جو اس کی استعداد رکھتا ہے ، (مرقاۃ المفاتیح ، جلد:1، ص:301)‘‘۔
علامہ زین الدین محمد عبد الرؤوف مناوی مُتوفّٰی 1031ھ لکھتے ہیں: ترجمہ:’’امام بیہقی ؒ،کثیر حَضْرَمی ؒسے روایت کرتے ہیں : حکمت کی بات اَحمقوں کو بیان نہ کرو کہ وہ تمہیں جُھٹلا دیں گے اور باطل باتیں حُکما ء کو بیان نہ کرو وہ تم پر غضبناک ہوں گے ۔ اپنے علم کو اس سے نہ روکو جو اس کا اہل ہوکہ گنہگار ہوگے اور اس سے بیان نہ کرو جو اس کا اہل نہ ہو کہ وہ تم کو بیوقوف سمجھے گا، بے شک، تجھ پر تیرے علم کا ایسے ہی حق ہے، جس طرح تیرے مال کا حق ہے ،(فیض القدیر شرح الجامع الصغیر، جلد1،ص:52)‘‘۔
علامہ مناوی ؒ’’أَنْ تُحَدِّثَ بِہِ غَیْرَ أَہْلِہٖ ‘‘کی شرح میں لکھتے ہیں: ترجمہ:’’نااہل وہ لوگ ہیں، جو علم کی باتوں کو سمجھ نہیں سکتے یا اس پر عمل نہیں کرتے۔ لہٰذا ایسے لوگوں کے سامنے علم کی بات کرنا علم کو مُہْمَل و بیکار بنانے کے مُتَرادِف ہوگا، اُن کے علم وحکمت کی بات نہ سمجھنے یا اُس سے فائدہ نہ اٹھانے کے سبب اُسے تلف کرنے اور ضائع کرنے کے مترادف ہوگا،(فیض القدیر شرح الجامع الصغیر، جلد1، ص:52)‘‘۔
اس سے معلوم ہوا کہ مذکورہ بالا حدیث میں نااہل کو جس علم کے سکھانے کی ممانعت کی گئی ہے ، اس سے ضروریاتِ دین کا علم مراد نہیں ہے ، کیونکہ اس کا حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے، بلکہ اس سے وہ علم مراد ہے جو شریعت، تصوّف اور حکمت کے کسی خاص شعبے کے ساتھ متعلق ہو اور وہ اس کی حکمتوں کو جاننے کا اہل نہ ہو ، کیونکہ ایسی حکیمانہ باتیں جو کسی کی ذہنی استعداد سے بالاتر ہوں تو یا تو وہ ان کا انکار کردے گایا بے سوچے سمجھے اُن کا ردّ کردے گا یا اُن کی ایسی غلط تاویل کرے گا جو لوگوں کو گمراہ کرنے کا سبب بنے، اسی لیے کہا گیا ہے:’’قدرِ زر، زرگر شناسد، قدرِجوہر،جوہری‘‘۔ (جاری ہے…!)