• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اتنے جھوٹ سنے ہیں اب کسی پر اعتبار نہیں، الیکشن کی تاریخ چاہئے، عمران خان

کراچی (ٹی وی رپورٹ)سابق وزیر اعظم اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہےکہااتنے جھوٹ سنے ہی اب کسی پر اعتبار نہیں ، الیکشن کی تاریخ چاہئے ، مجھے لانگ مارچ کی تاریخ بڑھانے کیلئے پیغام دیا گیا کہ بس فیصلہ ہورہا ہے ، میں نے دو تین دن آگے کردیئے، ہمارا انصاف کا نظام کرپشن کو برا سمجھتا ہے نہ وہ لوگ جن کے پاس اختیارات ہیں .

 بدقسمتی سے ہماری اشرافیہ کی اخلاقیات مرچکی، یہ نیا پاکستان ہے عوام بیدار ہوچکے ، ہمارے بچے اور خواتین بھی سیاسی ہوگئے ہیں ، عرب اسپرنگ بھی ایسے ہی ہوئی تھی ،میں جو آگے حالات دیکھ رہا ہوں وہ سری لنکا سے بھی زیادہ خطرناک ہوسکتے ہیں،یہ کو سیاسی موومنٹ نہیں ہے پاکستان میں انقلاب آرہا ہے.

تین قسم کی قوتیں ہوتی ہیں، سب سے کمزور قوت جسمانی قوت، اس سے بہت زیادہ طاقتور ہوتی ہے اخلاقی قوت، سب سے زیادہ طاقتور قوت ایمان کی قوت ہے، اس حکومت کے پاس نہ اخلاقی قوت ہے، ایمان ان کے آس پاس سے نہیں گزرا، یہ صرف جسمانی قوت کا استعمال کررہے ہیں جو سب سے کمزور ہے.

ان کو سمجھ نہیں آرہی کہ پاکستان بدل چکا ہے، ان کو یہی نہیں پتا چلا کہ دو مہینے کے اندر جو پاکستان دو مہینے پہلے تھا اورآج اس میں زمین آسمان کا فرق ہے، یہ پرانے حربے استعمال کرتے ہیں، ہمیشہ انہوں نے یہی کیا ہے، یہ اپوزیشن میں نام جمہوریت کا نام لیتے ہیں مگرحکومت میں آکر ہر وہ حربہ استعمال کرتے ہیں جو ایک ملٹری ڈکٹیٹر استعمال کرتا ہے .

 یہ سمجھ رہے ہیں کہ راستے بند کر کے اور لوگوں کو پکڑ کے ڈرا کے روک دیں گے، انہیں سمجھ نہیں آرہا کہ یہ کوئی سیاسی موومنٹ نہیں ہے پاکستان میں انقلاب آرہا ہے،یہ بالکل اس کو نہیں روک سکیں گے، آپ کے سامنے آج ہوگا، میں انشاء اللہ خیبرپختونخوا سے نکل رہا ہوں، آپ کے سامنے عوام کا سمندر آئے گا کوئی رکاوٹ اس کے سامنے نہیں ہوگی۔

سچ بتاؤں میں خود بھی نہیں سمجھ رہا تھا کہ پاکستان میں اتنی بڑی تبدیلی آئے گی، میں چھبیس سال گراؤنڈ سے پالیٹکس کر کے اوپرآیاہوں یعنی عوام کو ساتھ ملا کر، میرے ساتھ کوئی سیاستدان نہیں تھے، میری فیملی سیاسی نہیں تھی، یہ جو چینج میں نے دومہینے میں دیکھا ہے میں سمجھتا ہوں پاکستان ہی نہیں یہ دنیا میں کسی بھی ملک میں کبھی کبھی اس کی زندگی میں اس طرح کا چینج آتا ہے، دو چیزیں مل گئی ہیں.

 ایک کہ ساری قوم کے سامنے واضح ہوگیا کہ امریکی ایسی حکومت لے کر آئے ہیں جو انہیں حکم کریں گے وہ مان لیں گے کیونکہ وہ مجرم ہیں، ان کے پیسے باہر پڑے ہوئے ہیں، امریکیوں کوا یک ایک بینک اکاؤنٹ ان کا پتا ہے، انہیں پتا ہے ان کے کدھر آف شور اکاؤنٹس ہیں، ان کی کون سی پراپرٹیز ہیں، برطانیہ میں سب کو پتا ہے، جب ان کو یہ پتا ہے کہ ان کا باہر اربوں ڈالر پڑا ہوا ہے دونوں زرداری اور شریف کا، ان کو یہ بھی پتا ہے کہ چوری کا پیسا ہے کیونکہ ابھی تک وہ لندن کے فلیٹس تو بتانہیں سکے کہ کس پیسے سے خریدے گئے ہیں یا پیسہ باہر کیسے گیا، منی ٹریل کدھر ہے، اس لیے وہ ان لوگوں کو ہمارے اوپر انہوں نے مسلط کیا ہے.

 انہوں نے ساری سازش اس لیے کی کیونکہ وہ یہ نہیں چاہتے تھے کہ پاکستان کا کوئی آزاد پرائم منسٹر ہو جوا پنی فارن پالیسی اپنے ملک کیلئے فیصلے کرے، سب سے دوستی کرے لیکن اس کے اصل فیصلے اپنے ملک اور عوام کی بہتری کیلئے ہوں، جس طرح وار اینڈ ٹیرر میں ہمیں استعمال کیا گیا ٹشوپیپر کی طرح ہمیں استعمال کر کے پھینکا گیا.

 اس سے پہلے ہم نے ان کی جنگ لڑی، ان کے ساتھ خیر وہ تھی توجہاد افغانستان کی آزادی میں، لیکن فائدہ انہوں نے اٹھایا اور سوویت یونین ٹوٹ گیا اس کے بعد، انہوں نے جیسے ہی وہ جہاد ختم ہوئی ہم پر پابندیاں لگادیں، ان کویہاں اس طرح کے لوگ چاہئیں جو ٹشوپیپر کی طرح اس ملک کو استعمال ہونے دیں اور ان کے اپنے مفادات ہوں کہ ہماری اپنی ذات کو فائدہ ہو، امریکا کرسی پر بھی بٹھادے اور ان کے پیسے بھی بچ جائیں.

 ایک یہ چیز عوام کے سامنے آگئی لیکن دوسری جو عوا م کو سب سے زیادہ تکلیف ہوئی ہے، چلیں یہ کوئی بہتر لوگ لے آتے، ایسے ٹیکنوکریٹس لے آتے جو شاید معیشت کے ماہر ہوتے، یہ پاکستان کے تیس سال اس ملک کا خون چوس رہے تھے ان کو انہوں نے اوپر لاکر بٹھادیا ہے.

 کابینہ میں ساٹھ فیصد لوگ ضمانت پر ہیں، اس کے علاوہ جو باپ جو پرائم منسٹر ہے اور اس کا بیٹا جو چیف منسٹر ہے ان کو سزا ہونے لگی تھی، ایف آئی اے کے چوبیس ارب کے کیسز ہیں ان کے اوپر، ان کو سزا ہونے لگی تھی، انڈر ٹرائل تھے، کسی مہذب معاشرے میں کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا کہ ان کو پرائم منسٹر اور چیف منسٹر بنادیں.

یہ اس نے قوم کی خودداری بھی جگادی ہے، قوم سمجھتی ہے انہوں نے ہماری توہین کی ہے، یہ جو ری ایکشن آیا ہے یہ کوئی نہیں سمجھ رہا تھا، نہ یہ سمجھ رہے تھے یہ جو چوروں کا ٹولہ تھا، نہ وہ نیوٹرل سمجھ رہے تھے، نہ اس ملک کے بڑے ادارے سمجھ رہے تھے، سب شاک میں ہیں کہ یہ کیا ہوا ہے، اب آج آپ دیکھیں گے کہ جو قوم میں ہوگا، یہ سمجھ رہے ہیں کہ تھوڑے راستے بند کر کے.

 اسلام آباد کو بند کر کے، جس طرح اسلام آباد اور پنڈی میں لوگ نہیں بستے، وہاں بھی لوگ ہیں، وہ بند بھی کردیں گے لوگوں نے کل نکلنا ہے۔ جو قوم ہے، جو عوام ہے، جو اجتماعی اخلاقیات ہے وہ واضح ہوگیا کہ زندہ ہے، جو ایلیٹ ہے جو ہماری اشرافیہ ہے بدقسمتی سے ان کی اخلاقیات مرچکی ہے.

 یہ بہت بڑا فرق ہے، اوپر اشرافیہ بیٹھی ہے وہ چوری کو برا نہیں سمجھتے کیونکہ وہ زیادہ تر خود کرپٹ ہیں، خود انہوں نے اس کرپٹ سسٹم سے فائدہ اٹھایا ہوا ہے، میں نے ڈھائی سال اتنی کوشش کی.

ان کے سارے کیسز پرانے ہیں سوائے شہباز شریف کے وہ جو مقصود چپراسی کا اور ایف آئی اے کے کیسز ہیں باقی سارے ان کے پرانے کیسز ہیں، یہ ان کے دوسرے دور کی کرپشن کے کیسز ہیں جو 2008ء سے 2018ء ، انہوں نے جو تب کرپشن کی ہے وہ یہ کیسز، پہلے اربوں روپے کی کرپشن کے کیسز مشرف ان کے معاف کرچکا تھا.

یہ دوسرے دور کے کیسز ہیں، میں نے پوری کوشش کی مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارا جو انصاف کا نظام ہے وہ اسے برا نہیں سمجھتا، جن لوگوں کے پاس اختیارات ہیں جو کچھ کرسکتے تھے وہ بھی کرپشن کو برا نہیں سمجھتے ہیں، میں اکیلا لگا رہا بار بار لگا رہا، مجھ پر دباؤ ڈال رہے تھے کہ ان کو این آر او دو، مجھ پر سارا پریشر اور پوری کوشش کی انہوں نے این آر او دلوانے کیلئے جو مشرف نے ان کو دیا تھا کہ آپ کی حکومت چلی جائے گی این آراو۔

میں نے کہا کہ حکومت چھوڑیں جان چلی جائے میں ان کو این آر او نہیں دوں گا، یہ ہماری اشرافیہ اس کو اتنا برا نہیں سمجھتی کیونکہ وہ اس نظام کے بینیفشریز ہیں۔میں جو آگے حالات دیکھ رہا ہوں وہ سری لنکا سے بھی زیادہ خطرناک ہوسکتے ہیں، وجہ بائیس کروڑ پاکستانی ہیں، سری لنکا کی آبادی ہی تھوڑی سی ستر لاکھ ہے اس سے زیادہ تو لوگ نہیں ہیں، یہاں تو بائیس کروڑ لوگ ہیں، یہ قوم اب جس طرح سے اٹھ رہی ہے، دیکھیں سب کچھ بھول گئے، یہ جو قوم کی خودداری جاگی ہے.

 قوم جو بیدار ہوئی ہے اس کی کوئی توقع نہیں کررہا تھا، کسی کے ذہن میں نہیں تھا کہ اس طرح قوم اٹھے گی، قوم اٹھ گئی ہے، یہ جو جن ہے بوتل میں واپس نہیں ڈالا جاسکتا، یہ پرانے زمانے کی سوچ ہے کہ گرمی ہے تو لوگ چلے جائیں گے.

 رمضان میں شام کو لوگ نکل آئے ہیں تو اب نہیں نکلیں گے، اچھا جی اسلام آباد میں ہم کنٹینر رکھ لیں گے، ان کو نہیں سمجھ آرہی ہے کیا ہورہا ہے، انگریزی کی saying ہے کہ جو دریا ہے وہ پانی نکل جاتا ہے نیا پانی مسلسل آرہا ہوتا ہے.

 یہ ایک نیا پاکستان ہے، ایک عوام ہے، بیداری آگئی ہے سوشل میڈیا سے، یہ جو عرب اسپرنگ ہوئی تھی یہ زیادہ تر سوشل میڈیا سے شروع ہوئی تھی، پاکستان میں ہماری اکثریت نوجوان ہے، ان کے پاس جو آج انفارمیشن ہے پاکستان کی تاریخ میں کبھی بھی اس طرح کا نوجوان، بچے بیدار نہیں تھے، اس وقت بچے politiciz ہوچکے ہیں.

 آج آپ فیملیز دیکھیں، گھر میں خواتین دیکھیں، میں نے کبھی خواتین کی اس طرح کی participation نہیں دیکھی جو آج ہمیں نظر آرہی ہے، یہ جو مرضی سمجھ رہے ہیں ان کو نہیں پتا کہ اب یہ سیلاب نہیں رک سکتا اور جو اس کو روکنے کی کوشش کرے گا وہ بہہ جائے گا، آپ کے سامنے ہی چیزیں ان فولڈ ہوں گی۔ آپ پہلے کل دیکھیں گے کہ جب میں پختونخوا کو لیڈ کررہا ہوں، کبھی اس ملک کی تاریخ میں اس طرح کی پبلک نہیں نکلے گی جو میرے ساتھ آئے گی۔