• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یاسین ملک کو سزا: شہباز شریف، بلاول بھٹو، دفترخارجہ اور پاک فوج کا اظہار مذمت

کراچی (نیوز ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے یاسین ملک کو جھوٹے مقدمے میں سزا سنائے جانے پر اپنے رد عمل میں کہا کہ آج بھارتی جمہوریت کا سیاہ دن ہے.

 وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ انڈیا حق خودارادیت کی آواز کو کبھی خاموش نہیں کر سکتا، پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ پاکستان یاسین ملک کو من گھڑت الزامات میں سنائی گئی عمر قید کی سزا کی شدید مذمت کرتا ہے.

 پاکستان میں بھارتی ناظم الامور کی طلبی ،دفتر خارجہ نے مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مشکوک ، متنازع مقدمے میں سزا سنائی گئی ۔

 تفصیلات کے مطابق بھارتی عدالت کی جانب سے حریت رہنما یاسین ملک کو نا حق سزا سنائے جانے پر ڈی جی آئی ایس پی آر کا اپنی ٹوئٹ میں کہنا تھاکہ ایسے جابرانہ اقدامات جائز جدوجہد کیلئے کشمیریوں کا جذبہ نہیں دبا سکتے، ہم سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت کیلئے کشمیریوں کے ساتھ ہیں.

 دوسری جانب دفتر خارجہ نے حریت رہنما یاسین ملک کو من گھڑت الزامات میں سنائی گئی بھارتی عدالت کی سزا کو سختی سے مسترد کر دیا ہے ۔

بھارتی عدالت سے جھوٹے الزامات میں یاسین ملک کو سزا سنا نے کے معاملے پر پاکستان میں متعین بھارتی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا گیا ہے ۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان بھارتی طرز عمل، سنائی گئی سزا کی شدید مذمت کرتے ہوئے مسترد کرتا ہے۔ ترجمان کا کہناہے کہ حریت رہنما یاسین ملک کو 2017 ء کے انتہائی مشکوک، متنازع مقدمے میں سزا سنائی گئی۔

 یاسین ملک کے خلاف ہندوستانی قومی تحقیقاتی ایجنسی نے مقدمہ دائر کیا تھا۔وزیر اعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹر پر لکھا کہ آج کا دن بھارتی جمہوریت اور اس کے نظام انصاف کے لیے ’سیاہ دن‘ہے.

بھارت، یاسین ملک کو جسمانی طور پر قید کرسکتا ہے لیکن وہ اس آزادی کے تصور کو کبھی قید نہیں کر سکتا جس کی وہ علامت ہیں‘۔انہوں نے کہا کہ ’آزادی کی جدوجہد کرنے والے بہادر رہنما کی عمر قید کشمیریوں کے حق خودارادیت کو نئی تحریک دے گی‘۔

وزیر خارجہ اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ’حریت رہنما یاسین ملک کو دھوکے کے تحت چلائے گئے مقدمے میں غیر منصفانہ سزا دینے کی شدید مذمت کرتے ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’بھارت، کشمیریوں کی آزادی اور حق خودارادیت کی آواز کو کبھی خاموش نہیں کر سکتا، پاکستان کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑا ہے اور ان کی منصفانہ جدوجہد میں ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا‘۔

یاسین ملک کی اہلیہ مشعال حسین ملک نے ٹوئٹ میں کہا کہ ’یہ سزا غیر قانونی ہے، بھارتی کینگرو عدالت کی طرف سے منٹوں میں فیصلہ ہوا، معروف رہنما کبھی ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔