کراچی (ٹی وی رپورٹ) تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کی ہسٹری ہے ، نظام کسی طور پر بیٹھ ہی نہیں رہا ، ہر تین سال بعد مسئلہ پیدا ہوجاتا ہے کہ آرمی چیف لگانا ہے ایکسٹینشن ہونی ہے اس سے پورا نظام بیٹھ جاتا ہے ، ججز نے مسئلہ حل کرلیا ہے کہ سینئر موسٹ چیف جسٹس ہوگا، اس طرح سیاسی جماعتوں کو مل کر طے کرنا ہوگا کہ آرمی چیف لگانے کا طریقہ کیا ہوگا ، تین سال کے بعد کوئی ایکسٹینشن نہیں ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک انٹرویو میں کیا۔ ایک سوال کہ آپ یہ کیوں کہہ رہے تھے کہ خون لگ گیا ہے اسٹیبلشمنٹ کو؟ کا جواب دیتے ہوئے فواد چوہدری نےکہا کہ پاکستان کی ہسٹری ہے ، نظام کسی طور پر بیٹھ ہی نہیں رہا ، ہر تین سال کے بعد جو ہے وہ اپنا یہاں پرراپ پڑ جاتا ہے کہ جی ابھی آرمی چیف کو لگانا ہے ایکسٹینشن ہونی ہے پورا نظام بیٹھ جاتا ہے کبھی جو ہے وہ اپنا جس طریقے سے یہ معاملات ہوئے ہیں یا چل رہے ہیں یہ صرف ایک حکومت نہیں ہے خالی ایک پارٹی بھی نہیں ہے Ultimatelyآپ نے کچھ Settlementاپنی کرنی ہے کوئی نظام بنانا ہے اور یہ بھی میں آپ کو بتاؤں کہ یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ یہ کوئی میں نے کوئی انہونی بات کی ہے یا پہلی بار کی ہے Actually یہ جو آرمی چیف ہیں جنرل قمر باجوہ I must appreciateکہ یہ بھی ایک بڑے کھلے دل والے اور اس طرح والے آدمی ہیں ان سے بہت طویل عرصے پہلے میرا خیال ہے سال ڈیڑھ سال ہوگیا ہوگا خود جو ہے وہ ان کی وہ مجھے یہ کہہ رہے تھے کہ یہ دیکھیں یہ اس طرح سے ہمیں اتنا بڑا ملک ہے اس کو ہمیں جو فوج کا جو اس کا پولیٹیکل رول ہے اس کو کم کرنا چاہیے اور وہ اس نے ایک بات ہورہی تھی کہ جی ایک دن میں نہیں ہونا کیونکہ سول ادارے بڑے کمزور ہوگئے ہیں تو اس کا اس کا ایک پراجیکٹ بنانا ہوگا اور وہ کرنا پڑے گا تو یہ ایک پاکستان میں میں یہ سمجھتا ہوں کہ وقت آگیا ہے کہ یہ ایک سوچ جو ہے اس کو آگے لے کے جایا جائے اور پاکستان میں ہم طے کریں کہ آخر ہم یہ ملک کیسے چلانا چاہتے ہیں ایسے جیسے اب چلارہے ہیں یہ تو نہیں چل پارہا ۔ایک اور سوال کہ آپ کی پارٹی سمیت پولیٹیکل پارٹیز کو موقع ملتا ہے وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ سازباز کرتی ہے وہ ان کو استعمال کرتی ہے آپ لوگوں نے بھی اس کو استعمال کیا نا صرف یہ کہ استعمال کیا بلکہ آپ کی حکومت رہنے دی گئی ، کے جواب میں فواد چوہدری نے کہا کہ استعمال پولیٹیکل پارٹیز کم استعمال کرتی ہیں اسٹیبلشمنٹ زیادہ استعمال کرتی ہے لیکن اور کوئی طریقہ ہی نہیں ہے اگر آپ نے پولیٹکس کرنی ہے تو کیا ہوگا یا وہ استعمال ہوں گے یا آپ استعمال کریں گے ایک نظام میں جو آپ قید ہیں اس نظا م سے باہر تو آپ نہیں نہ جاسکتے اسی میں رہ کے ہی آپ نے پولیٹکس کرنی ہے ۔ میٹھا میٹھا ہپ ہپ اور کڑوا کڑوا تھوتھو کے سوال پر فواد چوہدری نے کہا کہ دیکھیں پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ بات تو بالکل آپ کی ٹھیک ہے اور انسٹی ٹیوشن کے اوپر ہی آپ ایشوز کے اوپر Situation کے اوپر ہی آپ اپنا سپورٹ طے کریں گے نا کہ آپ کس کے ساتھ ہیں یا خلاف ہیں تو ہمارے ہاں پرابلم یہی ہوا ہے کہ کوئی نظام نہیں ہے Existsکرتا تو آپ نے جو ہمارے ایک اسٹیبلشمنٹ کے جو سینئر لوگ ہیں ان کی جو خوشنودی ہے وہ حاصل کرنی ہوتی ہے پولیٹیکل پارٹیز نے اور یوں لگتا ہے کہ بیس بائیس کروڑ لوگ تو Irrelevantہے اس سسٹم میں ان کی تو کوئی ایشو ہی نہیں ہے اور آپ ان کو چھوڑ دیں ان کے معاملات جو ہیں وہ خود ہی بعد میں ہوجائیں گے آپ نے پندرہ سولہ لوگوں کو خوش کرنا ہے وہ پندرہ سولہ لوگ آپ کے ساتھ ہوجائیں گے تو آپ حکومت میں آجائیں گے وہ پندرہ سولہ لوگ دوسری طرف چلے جائیں گے تو آپ اپوزیشن میں چلے جائیں گے اس طرح تو نہیں چل سکتا ملک اچھا اس میں یہ جو سب سے پہلے تو مجھے یہ لگتا ہے کہ میں تو خیر ہمیشہ یہ سمجھتا ہوں کہ پولیٹیکل پارٹیز کو اپنا رول آف گیم بنانا چاہیے لیکن یہاں پر بھی پرابلم ہے اب جس طرح سے آج آپ دیکھیں ابھی آپ نے چھ سات پریس کانفرنسز گنوائی ہیں مطلب جس طرح سے یہ راناثناء اللہ ‘ راناثناء اللہ کی آپ مثال دیکھیں جتنا مطلب انہوں نے سفر کیا ہے اس ایک انتقامی سیاست کے نیچے اور اپنی زبان کے پیچھے اور اسی طرح اور کس آدمی نے سفر کیا ہوگا آپ ذرا دیکھیں اس میں کوئی دھیلا بھر بھی Improvementآئی ہو راناثناء اللہ کے رویے میں کردار میں وہ اتنا ہی بڑا وہ بدمعاش بن کے پھر رہا ہے اسی طریقے سے پاکستان میں پولیٹیشن جو ہیں انہوں نے قسم اٹھائی ہوئی ہے کہ ہم نے سیکھنا تو ہے ہی نہیں جو مرضی ہوجائے ۔