• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جیل انتظامیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے والے قیدی کی موت قدرتی قرار دیدی

راولپنڈی (سٹاف رپورٹر)ہسپتال میں دم توڑنے والے عتیق الرحمٰن عرف راجہ مانی کی موت کو جیل انتظامیہ نے قدرتی قراردے دیا،4نومبر کو اڈیالہ جیل کاقیدی راجہ مانی ہسپتال میں دم توڑگیاتھا جس کے لواحقین نے الزام لگایاتھاکہ جیل میں اس پر مبینہ طور پرتشدد کیاگیا جس سے اس کی موت واقع ہوئی تاہم سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کی جانب سے ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم پنجاب اورآئی جی جیل خانہ جات پنجاب کوبھیجی گئی رپورٹ کے مطابق عتیق الرحمٰن ولد محمد یونس 8ستمبر 2022کو سینٹرل جیل بھیجا گیا، اڈیالہ جیل کے میڈیکل آفیسرڈاکٹرنعمان کی جانب سے دی گئی میڈیکل رپورٹ کے مطابق مذکورہ قیدی کو سانس کی نالی کےانفیکشن اور گردن میں سوجن کی شکایت پر جیل ہسپتال میں داخل کیاگیا، اسے 2نومبر کو ایمرجنسی میں بے بظیربھٹوہسپتال منتقل کردیاگیا جہاں وہ چار نومبر کو انتقال کرگیا،جس پر جوڈیشل مجسٹریٹ راولپنڈی مبشر حسین اعوان سے قیدی عتیق الرحمٰن کی موت بارے عدالتی تفتیش کی درخواست کی گئی جنہوں نے بے نظیربھٹو ہسپتال میں آکر اس کی موت بارے عدالتی تفتیش کی اورپوسٹ مارٹم کے بعد اس کی میت ورثاکے حوالے کرنے کاحکم دیا۔رپورٹ میں کہاگیاہے کہ تمام واقعات اور ریکارڈ کی محتاط جانچ سے پتہ چلتا ہے کہ مذکورہ قیدی کی موت قدرتی تھی ،تاہم موت کی صحیح وجہ کا تعین پوسٹ مارٹم رپورٹ ملنے کے بعدکیاجائے گا۔
اسلام آباد سے مزید