• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انٹیلی جنس بیورو کی ایک سال میں اہم کامیابیوں کی تفصیلات اینوئل بُک میں جاری

اسلام آباد (عمر چیمہ) انٹیلی جنس بیورو کی حقیقت وہ نہیں جو نظر آتی ہے۔ عوامی سطح پر یہ ادارہ نمایاں طور پر کسی بات چیت کا حصہ نہیں، آئی بی نے نہ صرف تاریخی کامیابیاں حاصل کی ہیں بلکہ اس کی سرگرمیوں کا دائرہ بھی وسیع ہوا ہے۔ کم از کم، یہ وہ باتیں ہیں جو ادارے کی جانب سے اپنے سالنامے (اینوئل بُک) میں کہی گئی ہیں۔ اینوئل بُک 2022-23 میں آئی بی نے اُن تمام اقدامات کا ذکر کیا ہے جو اس نے ڈائریکٹر جنرل کے عہدے تک پہنچنے والے ادارے کے پہلے افسر فواد اسد اللہ خان کی نگرانی میں کیے ہیں۔ بہ الفاظ دیگر، یہ ان کی اے سی آر ہے۔ ادارے نے نہ صرف انسداد دہشت گردی کے محاذ پر اقدامات کیے ہیں، بلکہ ایجنسی نے اپنے دائرہ کار کو اقتصادی انٹیلی جنس تک بڑھایا، ایف اے ٹی ایف کی شرائط کو پورا کرنے اور اقتصادی جرائم میں ملوث افراد کے خلاف چھاپے مارنے میں دیگر محکموں کی مدد کی۔ انسانی اور تکنیکی ذہانت کے علاوہ، یہ اب مجرموں کا سراغ لگانے کیلئے تصویری اور سوشل میڈیا انٹیلی جنس کا استعمال کر رہا ہے۔ مثلاً دسمبر 2022 میں پارلیمنٹ ہاؤس کی عمارت پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ایک مختصر ویڈیو کلپ وائرل ہوا جسے بظاہر تحریک طالبان پاکستان نے پوسٹ کیا تھا۔ آئی بی نے بغور جائزہ لینے کے بعد طے کیا کہ یہ کلپ مارگلہ ہلز کے ٹریل 3 پر فلمایا گیا تھا۔ اس واقعے میں دانیال احمد نامی شخص کی شناخت کی گئی جس نے یہ کلپ ریکارڈ اور اپ لوڈ کیا تھا۔ دانیال کو صوابی میں ٹریس اور گرفتار کر کے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) پولیس اسلام آباد کے حوالے کیا گیا۔ آئی بی نے بھارتی انٹیلی جنس سے منسلک ایک نیٹ ورک کا بھی پتہ لگایا جو بالاکوٹ میں سرجیکل اسٹرائیکس کیلئے استعمال ہونے والی جگہ کی نقشہ سازی میں ملوث پایا گیا۔ جنوری 2021 میں، آئی بی نے ایک سابق عسکریت پسند سلیم اللہ کو کشمیر میں ایک اسٹریٹجک فوجی تنصیب کی ریکارڈنگ کرتے گرفتار کیا۔ تفتیش میں انکشاف ہوا کہ وہ جرمنی میں مقیم عائشہ شیخ کی ہدایت پر کام کر رہا تھا، جس کا مبینہ طور پر ’’را‘‘ سے تعلق ہے جس نے فیس بک، بیگو اور ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز کا استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو بھرتی کیا تھا۔ ان آپریشنز کے ذریعے، بھارتی انٹیلی جنس کو کئی چھاؤنیوں میں اہم تنصیبات کا نقشہ تیار کرنا تھا۔ یہ وہی نیٹ ورک تھا جس نے بالاکوٹ میں بھارت کی طرف سے سرجیکل اسٹرائیکس کیلئے استعمال ہونے والی جگہ کی نقشہ بندی کی تھی۔ ایک اور مطلوبہ مشن اہم فوجی تنصیبات میں جاسوسوں کو بھرتی کرنا تھا۔ آئی بی نے ایسے 25 ایجنٹس کو بے نقاب کیا جن میں 7؍ فوجی افسران بھی شامل تھے جنہیں مزید کارروائی کیلئے فوجی حکام کے حوالے کر دیا گیا۔ چونکہ مختلف شہروں میں کشمیری رہنماؤں کی ہلاکتیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کیلئے ایک معمہ تھیں، آئی بی نے البدر مجاہدین کے خالد رضا اور حزب المجاہدین کے زاہد ابراہیم کو قتل کرنے والے نیٹ ورک کا پردہ چاک کیا۔ آئی بی ایک ایسے نیٹ ورک کا سراغ لگایا جس کی قیادت ایک سابق رینجرز کمانڈو محمد علی کر رہے تھے۔ اس کے تمام ارکان کو گرفتار کیا گیا۔ محمد علی نے 2017 سے ’’را‘‘ کیلئے کام کرنے کا اعتراف کیا اور بتایا کہ اس نے بھارتی انٹیلی جنس کی ہدایت پر حافظ سعید اور فضل الرحمان خلیل کے بیٹے حمزہ کی جاسوسی کی تھی۔ اینوئل بُک میں یہ تفصیلات بھی شامل ہیں کہ صدر عارف علوی کے سبی میں ہونے والے میلے میں شرکت کے موقع پر داعش کا حملہ کرنے کا منصوبہ کیسے ناکام بنایا گیا۔ یہ اطلاع ملنے کے بعد کہ داعش حملے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، صدارتی سکیورٹی کو بڑھا دیا گیا۔ مایوسی کے عالم میں، بمبار نے صدر مملکت کے جانے کے بعد خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جس سے ایف سی کے سات اہلکار شہید ہو گئے۔ معلوم ہوا کہ بمبار ضیاء الرحمان کچھی اور سبی اضلاع داعش کا لیڈر تھا جہاں داعش کوئٹہ سے پسپائی اختیار کرنے کے بعد منتقل ہوئی تھی۔ آئی بی نے دہشت گردی سے جڑے کئی دیگر کیسز کو بھی حل کیا۔ زیارت ریزیڈنسی پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا، پولیس مقابلے میں مارے جانے والے بدنام زمانہ گینگسٹر بلال ثابت کے خلاف آپریشن میں پولیس کے ساتھ مل کر، پنجاب کے سابق وزیر داخلہ کرنل (ر) شجاع خانزادہ کے قتل کا معمہ حل کیا، کراچی میں چائنیز شہریوں پر حملوں کو ناکام بنایا گیا، راولپنڈی میں پولیس تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوششوں کو ناکام بنایا۔ مجموعی طور پر، آئی بی نے ایک سال میں انٹیلی جنس پر مبنی 315 کامیاب آپریشنز کیے۔ ایجنسی نے ٹارگٹ کلنگ میں اپنے کچھ بہادر افسران کو کھو دیا۔ ایجنسی کے اقتصادی ونگ نے مالیاتی اداروں کے ساتھ مل کر کارروائیاں کیں تاکہ ایف اے ٹی ایف کی شرائط کو پورا کرنے کیلئے ڈھانچہ جاتی خامیوں کو دور کیا جا سکے۔ اس سلسلے میں بیورو نے مختلف ایجنسیوں کے ساتھ 91 اہم مالیاتی انٹیلی جنس شیئر کی۔ ہنڈی/حوالہ کے ڈیلرز کے بعد 722 ایسے افراد اور 187 مشکوک غیر ملکی کرنسی کمپنیوں کی نشاندہی کی گئی۔ ایجنسی ذخیرہ اندوزوں اور اسمگلروں کے خلاف بھی سرگرم ہے۔ کھاد کے 405 ذخیرہ اندوزوں، 64؍ اسمگلرز، 592 گندم کے ذخیرہ اندوزوں، 26 گندم کے اسمگلرز اور 167 انسانی اسمگلروں کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ ایک کیس ظاہر شاہ کے بیٹے فتح کی گرفتاری کا تھا جس کے پاس انسانی اسمگلنگ کا وسیع نیٹ ورک تھا۔ فتح کا کردار ملک کے مختلف حصوں سے ممکنہ غیر قانونی تارکین وطن کو کوئٹہ میں جمع کرنا اور انہیں اپک ایران سرحد پر واقع قصبے یاک مچ بھیجنا تھا۔
اہم خبریں سے مزید