باجوڑ(اے ایف پی) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ایک سیاسی جلسے پراتوار کوہونے والے حملے میں شہید ہونے والوں کی تعداد 47ہوگئی اور 100کے قریب زخمی ہیں۔اس کے لیے پنڈال پر جو بڑا خیمہ کھڑا گیا گیا تھا وہ الجھا پڑا ہے اور پنڈا ل میں پڑے قالین خون میں لتھڑے پڑے ہیں جبکہ400کے لگ بھگ کرسیاں ادھر ادھر بکھری پڑی ہیں۔ ایک عینی شاہد فضل امان نے بتایا ہے کہ جب میں اس جگہ پر پہنچا تو میں تباہی کا منظر دیکھا ۔بے دم لاشیں زمین پر بکھری تھیں جبکہ زخمی مدد مدد چلا رہے تھے۔کالے اور سفیدپارٹی نشان والی چیزیں، جھنڈے، ٹوپیاں اور گلے کے مفلرزمین پر گردآلود اور لاوارث اور کچھ تو لوگوں کے پاؤں کے نیچےآ آکرمسلے پڑے تھےجن میں سے کچھ پرسوکھے ہوئے خون کے دھبے موجود تھے۔ایک طرف سینڈلز اور جوتوں کا ایک ٹیلہ بنا ہوا ہے۔انسانی گوشت کے لوتھڑے اور بال اسٹیج سے 100 فٹ دور تک بکھرے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں ۔ اسٹیج وہ جگہ تھی جہاں دھماکا کیا گیا۔ ایک اور زخمی عینی شاہد 40 سالہ گلستان خان کا کہنا ہے کہ میں تیسری قطار میں موجود تھا اور جب پارٹی کے مقامی رہنما پہنچے تو ہم نعرے لگارہے تھے ۔ اسی دوران بم پھٹا اوردھماکا اتنے زور کا تھا کہ جیسے کسی نے مجھے زمین سے اچھال کر پیچھے پھینک دیا ہو۔