• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آج سُن وہ بھی جو منّت کشِ گویائی نہیں

مصنّفہ: غزالہ خالد

صفحات: 284، قیمت: 1500 روپے

ناشر: ادیب آن لائن۔

ملنے کا پتا: فضلی بُک،507/3، ٹیمپل روڈ، اردو بازار، کراچی۔

فون نمبر: 32633887 - 021

مصنّفہ کا تعلق ایک علمی وادبی گھرانے سے ہے، جو تقسیمِ ہند کے بعد ٹونک سے حیدرآباد(سندھ) میں آکر آباد ہوگیا تھا۔ دادا، ہدایت علی خان’’ ناظر ٹونکی‘‘ کے نام سے شاعری کرتے تھے۔ پھوپھا واجد سعیدی بھی جانے پہچانے شاعر تھے، جب کہ چچا، پروفیسر عنایت علی خان سے تو شاید ہی کوئی ناواقف ہو۔ دادی اور پھوپھیوں کو بھی سیکڑوں اشعار ازبر تھے۔ ایسے ماحول میں پرورش کا یہی نتیجہ برآمد ہونا چاہیے تھا، جو ہمارے سامنے ہے۔ غزالہ خالد کا کہنا ہے کہ ایک دن اپنے میاں کے سامنے کسی موضوع پر اظہارِ خیال کر رہی تھی، تو اُنہوں نے کہا،’’ یہ جو تم بول رہی ہو، اچھا بول رہی ہو، یہ لکھ لیا کرو اور اخبار میں بھیجو۔‘‘جنگ اخبار گھر میں آیا کرتا تھا، سو، ایک چھوٹا سا مضمون لکھ کر جنگ، مِڈ ویک میگزین کے پتے پر بھیج دیا، جو چند ہفتے بعد شایع بھی ہوگیا۔ 

دو،چار مضامین کی اشاعت کے بعد میگزین ایڈیٹر، رضیہ فرید نے فون کرکے حوصلہ افزائی کی اور یوں باقاعدہ لکھنے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اگلی بات رضیہ فرید کتاب کے پیش لفظ میں یوں بتاتی ہیں’’مضمون پڑھ کر محسوس ہوا کہ خاتون عرصۂ دراز سے لکھ رہی ہیں۔ لفظی اشکال، جملوں کی طوالت اور الجھاؤ سے محفوظ تحریر دل و دماغ پر گراں نہیں گزری۔ ہم نے نوک پَلک درست کیے بغیر اسے شایع کر دیا۔ قارئین کی پسندیدگی نے اس پر مُہر ثبت کردی۔ مسوّدے پر رابطہ نمبر درج تھا، ہم نے فون کرکے پوچھا کہ کس شعبے سے وابستہ ہیں، تو جواب نے چونکا دیا کہ وہ تو ان کی زندگی کا پہلا مضمون تھا۔‘‘

اِس کتاب سے متعلق اُن کا کہنا ہے کہ’’بظاہر ایک ایسی گھریلو، تعلیم یافتہ خاتون کی کتاب ہے، جس کی نظریں ہر خبر، ہر مسئلے پر ہوتی ہیں اور جو رشتوں ناتوں کو نبھانا جانتی ہیں۔کتاب میں عام گھریلو، معاشرتی، سماجی ہی نہیں، سیاسی موضوعات بھی شامل ہیں، جن میں خام خیالی نہیں، بلکہ وہ حقائق موجود ہیں، جو یقیناً قارئین کو اپنی طرف دل آویز انداز میں متوجّہ کریں گے۔‘‘صحافت کے طویل تجربے کی حامل ایک مدیرہ کی کتاب اور مصنّفہ سے متعلق اِس رائے کے بعد کچھ کہنے کو باقی نہیں رہ جاتا۔ 

البتہ قارئین کو اِتنا بتانا ضروری ہے کہ اِس کتاب میں مختلف عنوانات کے تحت48 مضامین شامل کیے گئے ہیں، جو اخبار کے ساتھ فیس بُک پر بھی پوسٹ ہوئے۔ ان مضامین میں کئی سفرنامے بھی ہیں، خاص طور پر سفرِحج تو خاصّے کی چیز ہے۔ ماضی کی یادیں تازہ کی گئی ہیں، تو مختلف ایّام، رسم و رواج اور سماجی اقدار کا بھی خُوب صُورت تذکرہ ہے۔پھر موضوعات کا تنوّع، سادہ و عام فہم زبان اور مزاح سے پُر انداز قاری کو اِدھر اُدھر بھٹکنے نہیں دیتے۔