• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چاروں طرف اندھیرا تھا۔ روشنی کی کوئی کرن دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ اس کا چہرہ گرد اور مٹّی سے اَٹا ہوا تھا۔ اس نے اُٹھنا چاہا، تو جسم میں دَرد کی شدید لہر اُٹھی، جس نے اُسے دوبارہ لیٹنے پر مجبور کر دیا۔ اس کی ایک ٹانگ شاید سیمنٹ کے کسی بھاری بلاک کے نیچے آ گئی تھی، جس کی وجہ سے اُٹھنا دوبھر ہو گیا تھا۔ اس نے اپنے ارد گرد دیکھا، تو ہر طرف لاشیں ہی لاشیں دکھائی دیں۔

اُن میں سے کچھ ٹکڑوں میں تقسیم تھیں، تو کچھ ملبے تلے دَبی ہوئی تھیں۔ ایک معصوم بچّے کی لاش اُس کے بالکل قریب پڑی تھی، جس کی کُھلی آنکھیں سوال کر رہی تھیں کہ ’’آخر مجھ ننّھی سی جان کا کیاقصور تھا؟‘‘ اچانک اُس کے سامنے اپنی ماں اور چھوٹی بہن کے چہرے گھوم گئے۔ اُس نے تکلیف کے باوجود ایک بار پھر اُٹھنے کی کوشش کی، لیکن ناکام رہا۔ اُسے یاد آیا کہ وہ اپنی ماں کے ساتھ اسپتال آیا تھا۔ بم باری میں زخمی ہونے والے افراد سے اسپتال بَھر چُکا تھا اور لاشیں اس قدر زیادہ تھیں کہ مُردہ خانے کم پڑ گئے تھے۔

گزشتہ روز اُس کے علاقے میں بھی بم باری ہوئی تھی، جس کی زَد میں اُس کا گھر بھی آیا تھا اور اُس کی واحد جائے پناہ اب ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو چُکی تھی۔ بابا کی شہادت کے بعد اُس کی ماں نے اس آشیانے کی حفاظت کس طرح کی تھی، یہ ماں ہی جانتی تھی۔ ماں کو ابھی تک ہوش نہیں آیا تھا۔ اُس کا جسم زخموں سے چُور چُور تھا۔ اُس کی چھوٹی بہن، زینب اس کا ہاتھ تھامے پتھرائی ہوئی آنکھوں سے یہ اَلم ناک منظر دیکھ رہی تھی۔ وہ دو روز سے سَکتے میں تھی۔ 

وہ بولنا چاہتی تھی، لیکن خوف نے اُس کی قوّتِ گویائی سلب کر لی تھی۔ وہ زینب کو تسلّی دینے کی کوشش کر رہا تھا، لیکن اُس کے الفاظ اپنی بہن کے دُکھ کا مداوا نہیں کر پار رہے تھے۔ اسپتال میں لاشیں اور زخمی لائے جانے کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری تھا۔ اُسے اپنے کی صحت و سلامتی ماں کی فکر کھائے جا رہی تھی۔ وہ شدید بے چینی کے عالم میں زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا اپنی عزیز ترین ہستی کی کیفیت معلوم کرنے کے لیے لڑکھڑاتا ہوا ڈاکٹر کے کمرے کی طرف چل پڑا۔ ابھی وہ دروازے تک ہی پہنچا تھا کہ ایک زور دار دھماکے نے پورے اسپتال کوہلا کر رکھ دیا ۔ آن کی آن کی میں پوری عمارت زمین بوس ہو گئی اور پھر اُسے کچھ ہوش نہ رہا۔

وہ نہ جانے کب سے اسی طرح اسپتال کے ملبے تلے دَبا ہوا تھا۔ اُس کے جسم سے ٹیسیں اُٹھ رہی تھیں۔ اُس نے اپنی مدد کے لیے ایک مرتبہ پھر آس پاس نظریں دوڑائیں، مگر لاشوں کے علاوہ کچھ دکھائی نہ دیا۔ یادوں کے دریچے پھر روشن ہونے لگے۔ اُسے کئی برس پہلے کا وہ منظر یاد آگیا کہ جب وہ اپنے بابا کا ہاتھ پکڑے جمعے کی نماز پڑھنے مسجدِ اقصیٰ گیا تھا۔ صیہونی افواج نے مسلمانوں کو نمازِ جمعہ کی ادائی سے روک دیا تھا، جس پر وہ مشتعل تھے اور زبردستی مسجد کے اندر داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ پھر دفعتاً گولیاں برسنا شروع ہو گئیں اور ایک بھگڈر سی مچ گئی۔ 

دوسروں کی طرح بابا بھی اُس کا ہاتھ پکڑے بھاگنے لگے اور پھر اچانک زمین پر گر گئے۔ اُن کے جسم سے نکلنے والی خون کی لہر دُورتک بہتی جا رہی تھی۔ اس کے بابا نے کلمہ پڑھا اور اُن کا سر ایک طرف کو ڈھلک گیا۔ جب بابا کی لاش گھر پہنچی، تو ماں نے مسکرا کر اُس کا استقبال کیا۔ ماں کی آنکھوں میں کوئی اشک تھا اور نہ ہی زبان پر کوئی شکوہ۔ انہوں نے کلمۂ شہادت کا وِرد کرتے ہوئے بابا کو رخصت کیا۔ پھر اس کی نظروں کے سامنے اپنے بڑے بھائی، عثمان کا چہرہ گھوم گیا، جسے اسرائیلی قید میں پانچ برس ہونے کو آئے تھے۔ بیٹے کی جُدائی کے غم نے ماں کو اندر سے توڑ کر رکھ دیا تھا، مگر وہ ہمیشہ صبر و ہمّت کا پہاڑ بنی کھڑی رہیں۔

اچانک روشنی کی ایک تیز لہر اُس کے چہرے پر پڑی، تو اُس کی آنکھیں چندھیا سی گئیں۔ یہ شاید کسی ٹارچ کی تیز لائٹ تھی۔ پھر اُسے ملبہ ہٹانے کی آوازیں سُنائی دیں۔ اُس نے پوری ہمّت مجتمع کر کے ایک بار پھر اُٹھنے کی کوشش کی لیکن اس کی ٹانگ اپنی جگہ سے نہ ہل سکی ۔ تکلیف و نقّاہت سے اُس کی آنکھیں بند ہونے لگیں۔ اُسے ہوش آیا، تو خود کو اسپتال کے کوریڈور میں ایک اسٹریچر پر لیٹا ہوا پایا ۔ اُس کی ایک ٹانگ پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔ کوریڈور کے اندر اور باہر لاشوں کے ڈھیر لگے تھے۔ اس مرتبہ وہ اُٹھنے میں کام یاب ہو گیا۔ 

اُس نے ایک ڈاکٹر کو روک کر اس سے اپنی والدہ اور بہن سے متعلق دریافت کیا، لیکن اسےتسلّی بخش جواب نہ ملا۔ وہ ادھر سے اُدھر لڑھکتا، لنگڑاتا ہوا اسپتال کے مختلف وارڈز میں اپنی ماں اور بہن کو ڈھونڈنے رہا تھا۔ پریشانی کے عالم میں اسپتال کے مرکزی دروازے سے باہر نکلا، تو سڑک پر بھی ہر طرف لاشیں ہی لاشیں بکھری دکھائی دیں۔ معصوم بچّوں کے چہرے فاسفورس بموں سے جُھلسے ہوئے تھے، جن کی طرف دیکھنے کی بھی ہمّت نہ ہو پا رہی تھی۔

ڈاکٹرز بتا رہے تھے کہ الشفا اسپتال کے آئی سی یو کے تمام مریض دَم توڑ چُکے ہیں۔ اسپتال کے انکیوبیٹرز میں موجود تمام قبل از وقت پیدا ہونے والے بچّوں کو نکال لیا گیا اور ان میں سے کئی پُھول کھلنے سے پہلے ہی مُرجھا گئے ۔ اسرائیلی افواج نے اسپتال کے عملے کو باہر نکال کر انتہائی نگہداشت وارڈز میں موجود مریضوں اور زخمیوں کو مَرنے کے لیے چھوڑ دیا تھا۔ مریضوں کو منتقل کرنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی تھی۔ وہ سڑک پر رکھی لاشوں کو دیکھتا آگے بڑھتا رہا۔ کئی لاشوں کو تو کفن پہننا بھی نصیب نہیں ہوا تھا اور جن خوش نصیبوں کو کفن ملا، تو اُن کے حصّے میں تابوت نہیں آئے۔

چلتے چلتے اُس کی نظر ایک ساکت و صامت وجود پر پڑی، تو اُس کے قدم رُک گئے۔ یہ ڈاکٹر عائشہ کی ڈیڈ باڈی تھی۔ ڈاکٹر عائشہ نے اس کی والدہ کی بہت دیکھ بھال کی تھی۔ جب سے اسرائیل کی وحشیانہ بم باری شروع ہوئی تھی، وہ اپنے گھر نہیں گئی تھیں۔ اسپتال ہی میں دو تین گھنٹے کی نیند لینے کے بعد وہ دوبارہ ڈیوٹی پر آ جاتیں اور ایک ڈاکٹر عائشہ ہی پر کیا موقوف، اسپتال کے تقریباً سبھی ڈاکٹروں کا یہی حال تھا۔ 

وہ آگے بڑھا تو اُسے اپنے پڑوسی، یعقوب خضر کی، جنہیں وہ چچا کہتے تھے، لاش نظر آئی۔ اُس کے والد کی شہادت اور بھائی کی قید کے بعد یعقوب چچا نے اس کے پورے کُنبے کا اپنے گھرانے کی طرح خیال رکھا تھا۔ سڑک پر سیکڑوں معصوم افراد کی لاشیں بکھری پڑی تھیں۔ چند قدم چلنے کے بعد وہ ایک مرتبہ پھر ٹھٹھک کر رک گیا بلکہ اُس کے قدم ہی جم گئے۔ اب اُس کے سامنے اپنی والدہ اور معصوم بہن کی لاشیں موجود تھیں۔ اُسے یوں لگا، جیسے آسمان اُس کے سَر پر آ گرا ہو۔

اُس کی رہی سہی ہمّت بھی دَم توڑ گئی۔ وہ وہیں بیٹھ گیا۔ وہ رونا چاہتا تھا، لیکن اُس کے آنسو خشک ہو چُکے تھے۔ وہ چیخنا چاہتا تھا، لیکن اُس کی قوّتِ گویائی سلب ہو چُکی تھی۔ وہ اپنی ماں اور زینب کے معصوم و پاکیزہ چہروں کو دیکھتا رہا اور نہ جانے کتنی دیر اسی حالت میں بیٹھا رہا۔ پھر کسی نے اُسے سہارا دے کر کھڑا کیا۔

سیکڑوں شہداء کا جنازہ ایک ساتھ پڑھا جا رہا تھا۔ ہر ایک کی الگ کہانی تھی اور ہر کہانی کے کئی رنگ تھے، لیکن قصور سب کا ایک ہی تھا،’’ آزادی کا خواب‘‘ ۔ قبرستانوں میں جگہ کم پڑ گئی تھی اور ویسے بھی جب اسپتال، قبرستان بن جائیں، تو قبرستانوں میں کسے جگہ ملتی ہے۔ وہ نہ جانے کتنے گھنٹے ماں اور زینب کی احتماعی قبر کے پاس بیٹھا رہا۔ پھررات کے نہ جانےکس پہر اُٹھا اور ایک طرف چل دیا۔ 

دوسرے گھروں کی طرح اُس کا آشیانہ بھی ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو چُکا تھا۔ اُسے اپنے گھر کے ملبے سے صرف ایک صندوق ہی صحیح سلامت ملا۔ کھولا، تو اُسے اپنی فیملی کا ایک گروپ فوٹو نظر آیا۔ تصویر میں اُس کے والد نے اُسے گود میں اُٹھا رکھا تھا۔ تصویر دیکھتے ہی اُس کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے۔ وہ دیر تک اُس تصویر کو سینے سے لگائے ملبے کے ڈھیر پر بیٹھا رہا۔ اُٹھنے لگا، تو اچانک کسی چیز سے ٹھوکر لگی۔ جُھک کر دیکھا، تو ایک غلیل تھی۔ اُسے یاد آیا کہ صیہونیوں کے حملے کے دوران اُس کا بھائی، عثمان یہ غلیل لے کر گھر سے نکل جاتا تھا۔ تب اُسے اپنے بھائی کے اس فعل کی منطق سمجھ نہیں آتی تھی، لیکن اب وہ سب سمجھ چُکا تھا۔ اس نے اپنے آنسو صاف کیے، گھر کے ملبے پر ایک نظر ڈالی، غلیل اُٹھائی اور ایک نئے عزم و یقین کے ساتھ چل پڑا۔

کل وہ 313تھے، جو اپنے سے کئی گُنا بڑے لشکر کے سامنے صرف اللہ کے بھروسے پر ڈٹ گئے تھے اور آج بھی وہ بے سروسامانی کے عالم میں ڈٹے ہوئے ہیں۔ کل بھی صرف ایمان کی طاقت تھی، جس نے انھیں فتح عطا کی تھی اور آج بھی وہ صرف اِسی طاقت کے سہارے کھڑے ہیں۔57اسلامی ممالک نے چُپ سادھ لی ہے ، انسانی حقوق کے نام لیوا خاموش ہیں، لیکن اہلِ غزہ نے ہتھیار نہیں ڈالے، اُن کی مزاحمت ایک نئی تاریخ رقم کر رہی ہے۔ شہدا ءکے لیے جنّت کے دروازے کھول دیے گئے ہیں۔ فرشتے جُوق دَر جُوق آنے والے مہمانوں کا استقبال کر رہے ہیں۔ ہر سُو خوشیوں، مسرّتوں کے رنگ بکھرے ہوئے ہیں۔ یہ سب کام یاب ٹھہرے ہیں۔ اُن کے رب نے اُن سے جو وعدہ کیا تھا، وہ پورا ہو گیا ہے۔