حیدرآباد (بیورو رپورٹ) سوئی سدرن گیس کمپنی کے نااہل و کرپٹ افسران اور عملے نے حیدرآباد کے شہریوں کو عذاب میں مبتلا کردیا ہے،موسم سرما میں گذشتہ ایک ماہ سے پھلیلی، لطیف آباد نمبر 2,4,12‘ حسین آباد و دیگر علاقوں میں گیس پریشر میں کمی، لوڈ شیڈنگ اور بلاجواز گیس کی بندش کی وجہ سے شہریوں کی زندگی اجیرن ہوگئی،جگہ جگہ قائم پکوان سینٹرز کےمالکان نے گیس کے غیر قانونی کنکشنز کے ذریعے شہریوں کو گیس سے محروم کر دیا ہے جبکہ پابندی اور بندش کے دنوں میں بھی سی این جی اسٹیشنز کو گیس فراہم کی جارہی ہے، گیس کمپنی کے بدعنوان عملے نے اپنی لوٹ مار کے لئے شہریوں کو گیس جیسی بنیادی سہولت سے محروم کر رکھا ہے،تفصیلات کے مطابق ایک طویل عرصے سے سردی ہو یا گرمی حیدرآباد کے رہائشیوں کو گیس کی شدید قلت کا سامناہے، جبکہ گیس لوڈ شیڈنگ کے ساتھ ساتھ کئی کئی گھنٹے بلاجواز گیس بند کرنا بھی معمول بنا لیا گیا ہے،گیس کمپنی کے عملے کی جانب سے شہر بھر میں قائم پکوان سینٹرز کو غیر قانونی کنکشنز کے ذریعے گیس فراہم کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے جہاں پکوان سینٹر قائم ہیں وہاں کے مکین گیس کی قلت کا شکار ہیں،حیدرآباد اور اس کے گرد و نواح میں گیس قلت کی سب سے بڑی وجہ پکوان سینٹرز ہیں، شہر کی ہر دوسری گلی میں پکوان سینٹرز قائم کردیئے گئے ہیں، جنہوں نے لوگوں کو دکھانے کے لئے تو گیس سلنڈر رکھے ہوئے ہیں لیکن غیر قانونی کنکشن کے ذریعے وہ دھڑلے کے ساتھ گیس استعمال کرنے میں مصروف ہیں،اس معاملے میں گیس کمپنی کا عملہ بھی ملوث ہے جو اپنی ماہانہ وصولی کے لئے ان کی گیس چوری پر پردہ ڈالے ہوئے ہے، عوامی شکایت اور مختلف جماعتوں کی جانب سے ہر روز احتجاج کے باوجود گیس کمپنی کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی، دوسری جانب گیس کے نرخوں میں بھی بے پناہ اضافہ کردیا گیا ہے، گیس آئے یا نہ آئے صارفین کو گیس کی مد میں بھاری بل ادا کرنے پڑ رہے ہیں، شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ گیس چوری میں ملوث پکوان سینٹرز کے خلاف کارروائی کرکے ان کو بند کرایا جائے اور گیس چوری میں ملوث عملے کو برطرف کیا جائے۔