• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پی ٹی آئی کا سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ دینے کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد (طاہر خلیل)پاکستان تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کی جانب سے قومی اسمبلی میں سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ دینے کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پی ٹی آئی کے سینیٹر اور ماہر قانون علی ظفر نےسینیٹ میں اظہار خیال اور میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو آئین کیخلاف قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کے تمام اراکین سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کو مخصوص سیٹیں نہ دینے کا فیصلہ مسترد کرتے ہیں، آئین کے مطابق مخصوص نشستیں سنی اتحاد کونسل کو ملنی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کی 23 نشستیں بنتی ہیں اور ہماری نشستیں کسی اور جماعت کو دینا آئین کی خلاف ورزی ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ مخصوص نشستوں کے فیصلے تک صدارتی اور سینیٹ انتخابات نہیں ہوسکتے جبکہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ پورا الیکشن کمیشن فوری طور پر مستعفی ہو۔انہوں نے فیصلے پر اراکین کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شعیب شاہین نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ الیکشن کمیشن کے مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلے کو چیلنج کرینگے۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ غلط ہے، یہ فیصلہ کسی طرح بھی درست نہیں ہے جبکہ الیکشن کمیشن کی جانبداری چھوٹی بات ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس غیر آئینی فیصلے کی کوئی اہمیت اور قانونی حیثیت نہیں اور الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کرینگے۔ادھر فیصلے پر رد عمل دیتے ہوئے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے آفیشل پیج پر جاری ایک بیان میں پی ٹی آئی نے کہا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان ’عوامی مینڈیٹ اور پاکستان کے عوام کی بے توقیری‘ جاری رکھے ہوئے ہے۔اس میں کہا گیا کہ سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں پر آج کا فیصلہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کا ’پاکستان میں جمہوریت اور انتخابی عمل کو مکمل طور پر تباہ کرنے کیلئے ایک اور قدم تھا۔ تحریک انصاف نے کہا کہ ’متعصب الیکشن کمیشن نے واضح طور پر اپنے ہی قوانین کی بارہا خلاف ورزی کی ہے۔

اہم خبریں سے مزید