کوئٹہ( پ ر )گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن آئینی بلوچستان کے صوبائی صدر حاجی مجیب اللہ غرشین، سیکریٹری جنرل خادم علی بگٹی،چئیرمین قادر بخش رئیسانی،آرگنائزر سعید احمد ناصر، سینئر نائب صدر محمد بچل ابڑو،منظور راہی بلوچ،شعیب ترین اور محمد انور ساسولی نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ صوبہ بھر کے ملازمین خصوصا اساتذہ کرام کو بینوولنٹ فنڈ اور گروپ انشورنس کی رقم جان بوجھ کر تاخیر سے ادا کی جا رہی ہے جس سے ریٹائرڈ ملازمین میں شدید بےچینی پائی جاتی ہے ملازم 60 سال سروس گزارنے کے بعد اس امید میں رہتے ہیں کہ ریٹائرمنٹ کے وقت مکمل پیسے ملیں گے تو بچوں کے لئے اچھا مکان اچھا روزگار حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے مگر ریٹائرمنٹ کے بعد ان کا خواب چکنا چور ہو جاتا یے کیونکہ بلوچستان میں ریٹائرمنٹ کی رقم حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہےجس کے لئے لمبا عرصہ درکار ہوتا ہے ان کا کہنا تھاکہ ریٹائرمنٹ کے کیسز کو جان بوجھ کر التوء میں رکھا جاتا ہے تا کہ جمع شدہ رقم سے منافع حاصل ہوتا رہے بینوولنٹ فنڈ اور گروپ انشورنس کی رقم جو کہ ریٹائرمنٹ کے وقت فوری طور پر ادا کرنی چاہئے لیکن عرصہ دراز سے ملازمین کو اس کی ادائیگی میں تاخیر کی جاتی ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم عرصہ دراز سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ سرکاری ملازمین کی آن لائن ریٹائرمنٹ یقینی بنائی جائے جو کہ جدید دور میں انتہائی ضروری ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ بینوولنٹ فنڈ جو کہ اس وقت 2017 کی بنیادی تنخواہ پر ادا کیا جا رہا ہے اور کٹوتی 2022 کے سکیل پر کی جا رہی ہے کیونکہ 2022 کو اسکیل ریوائز ہونے کے بعد نوٹیفکیشن کو بھی ریوائز کیا جانا چاہئے مگر تا حال نوٹیفکیشن ریوائز نہیں کیا گیا اورادائیگی اسی 2017 کے سکیل کے مطابق ہو رہی ہے ہم واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ جہاں بھی ہمارے حاضر سروس اور ریٹائرڈ اساتذہ کرام کے ساتھ نا انصافی ہو گی ہم ان کا دفاع ہر لحاظ سے کریں گے۔ ہم وزیر اعلی بلوچستان چیف سیکریٹری بلوچستان سیکریٹری ایس اینڈ جے اے ڈی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ملازمین کو بینوولنٹ فنڈ گروپ انشورنس کی ادائیگی کے نوٹیفکیشن کو ریوائز کر کے 2022 کے سکیل کے مطابق رقم یکمشت ریٹائرمنٹ پر ادا کی جائے۔