اسلام آباد (نمائندہ جنگ) سینٹ نے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی کارکردگی کو بہتر بنانےکے ریاستی ملکیتی ادارے گورننس اینڈ آپریشنز ترمیمی بل کی منظوری دیدی ، پی ٹی آئی سنیٹرز نے بل کی ترمیم پر اپنے خدشات کا اظہار کیا تاہم بل کی مخالفت نہیں کی قائد ایوان سنیٹر اسحٰق ڈار نے کہا شفافیت کے بغیر کوئی کام نہیں ہو گا ، خصوصی کمیٹی بننی چاہئے کہ دیکھا جائے کہ سٹیل ملز کیوں پرائیوٹائز نہیں ہو رہی ہے اپوزیشن لیڈرشبلی فراز نے کہا مہنگی ترین بجلی کا عذاب پی پی پی نے پیدا کیا،معاہدوں کی منظوری دینے والے قوم کے مجرم ہیں جبکہ اجلاس غیر معینہ مدت کیلئےملتوی ہوگیا ، جمعہ کو وزیر قانون و انصاف سنیٹر اعظم نذیر تارڑ نے ایوان میں ریاستی ملکیتی ادارے ( گورننس اینڈ آپریشنز ) ایکٹ 2023 میں ترمیم کرنے کا بل ریاستی ملکیتی ادارے (گورننس اینڈ آپریشنز (ترمیمی) بل 2024 قائمہ کمیٹی کی رپورٹ کردہ صورت میں زیرغور لانے کیلئے تحریک پر کہا کہ اس بل کا مقصدجن ڈائریکٹرز کی قابلیت کچھ نہیں، ان کو ختم کرنا ہے، بورڈ آف ڈائریکٹرز کو ایفی شنٹ بنانے کیلئے ترامیم ہیں جو کہ گڈ گورننس کیلئے ہیں،پی ٹی آئی کے سنیٹرعلی ظفر نے کہا کارپوریٹ ڈائریکٹر کو آزاد ہونا چاہئے ، یہ جو ترمیم آ رہی ہے تین سال کی ٹینور کی سیکورٹی ہے اس کو ختم کرنا ہے ان کو ہٹانے کا مقصد یہ ہے کہ آرگنائزیشن کو بیچنا چاہتے ہیں، قانون کے بعد اپنی مرضی کے لوگ لائیں گے اور انڈر ویلیو چیزوں کو فروخت کر دیں گے ، وزیر توانائی اویس خان لغاری نے کہا بورڈ آف ڈائریکٹرز کے سامنے پرائیویٹائزیشن کے حوالے سے کوئی چیز پیش نہیں ہوئی ، قائد ایوان سنیٹر اسحٰق ڈار نے کہا شفافیت کے بغیر کوئی کام نہیں ہو گا ، خصوصی کمیٹی بننی چاہئے کہ دیکھا جائے کہ سٹیل ملز کیوں پرائیوٹائز نہیں ہو رہی ہے ، اپوزیشن لیڈرشبلی فراز نے کہا اثاثے عوام اور ملک کے ہیں ہم ان کے رکھوالے ہیں ، اتصالات کا کیس لے لیں ساڑھے آٹھ سو ملین ڈالر نہیں ملے ہیں۔