• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فائر وال تنصیب مکمل، سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا پوائنٹس کی نشاندہی، معیشت متاثر، 83 ارب کا نقصان، سافٹ ویئر ہاؤسز

اسلام آباد (نمائندہ جنگ / نیوز ایجنسیز) پاکستان میں سوشل میڈیا پر فائر وال کی تنصیب کاکام مکمل ہوگیا ہے جس کے بعد سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ پوائنٹس کی نشاندہی اور آئی ڈی بلاک ہوسکے گی ، تنصیب مکمل ہونے کے بعد ایک دو روز میں انٹرنیٹ مکمل بحال ہونے کاامکان ہے ۔ ادھر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کیمونی کیشن نے ملک میں انٹرنیٹ سروسز کے متاثر ہونے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ملک میں انٹرنیٹ سست روی کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کی تفصیلات طلب کرلیں۔ وزیر مملکت برائے آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ واٹس ایپ ڈاؤن ہونے کی شکایات دور کردی گئی ہیں، دنیا میں تمام ممالک فائروال استعمال کر رہے ہیں۔ دوسری جانب کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) اور پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن نے انٹرنیٹ کی سست روی اور اس کے نتیجے میں سوشل میڈیا ایپلی کیشنز تک محدود رسائی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام قسم کی کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہورہی ہیں ، معیشت کو 300ملین ڈالر (تقریباً 83؍ ارب پاکستانی روپے) کے نقصان کا سامنا ہے ، فائر وال کے عجلت میں نفاذ سے سنگین نتائج برآمد ہوئے، آئی ٹی انڈسٹری کو بد ترین تباہی کا سامنا ہے ، ڈیجیٹل محاصرے کو فوری روکا جائے ، کنیکٹیویٹی نہ ہونے سے بین الاقوامی وینڈرز سے رابطہ ناممکن ہوگیا اور مزید تاخیر کے نتائج سنگین ہوں گے۔ تفصیلات کے مطابق ملک میں سوشل میڈیا پر فائر وال کی تنصیب کاکام مکمل کر لیا گیا، جس کے بعد ڈیٹا صارفین کیلئے انٹرنیٹ سروسزبھی بحال ہونا شروع ہو گئی ہے جس کے اگلے ایک دو روز میں مکمل طور پر بحال ہونے کا امکان ہے، ذرائع کے مطابق انٹرنیٹ سروس فراہم کرنیوالی کمپنیوں پر فائر وال انسٹال کردی گئی ہے فائر وال کو انسٹال کرنے کیلئے سوشل میڈیا ایپس کو ڈاؤن اور ایپس پر آڈیو ویڈیو ڈاون لوڈنگ بند کی گئی، یہ تمام اقدامات نیشنل سیکورٹی کے پیش نظر اٹھائے گئے ہیں، ذرائع کے مطابق فائر وال کے ذریعے سوشل میڈیا پر متنازعہ مواد کو روکا جاسکے گا جبکہ فائر وال ڈیپ پیکٹ انسپیکشن کی صلاحیت کی حامل ہوگی جس سے سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ پوائنٹس کی نشاندہی کے ساتھ قومی سلامتی کیخلاف پروپیگنڈہ کرنیوالی آئی ڈی کو بلاک کیا جاسکے گا۔ادھر قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا اجلاس چیئرپرسن کمیٹی سینیٹر پلوشہ خان کی زیر صدارت ہوا۔ قائمہ کمیٹی نے انٹرنیٹ، سوشل میڈیا ایپس ڈاؤن ہونے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے دو ہفتوں میں نقصانات کی تفصیلات مانگ لیں۔ ارکان کمیٹی نے انٹرنیٹ سروسز کے متاثر ہونے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ سینیٹر ڈاکٹر ہمایوں مہمند نے کہا انٹرنیٹ، سوشل میڈیا ایپس سست ہونے سے بزنس متاثر ہورہا ہے، سینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ اگر انٹرنیٹ کا مسئلہ حل نہ ہوا تو ملک کو آئی ٹی سیکٹر کی برآمدات کا نقصان ہو سکتا ہے، وفاقی سیکرٹری آئی ٹی عائشہ حمیرا چوہدری نے بتایا کہ براڈ بینڈ کنکشن کا کوئی مسئلہ نہیں ہے تاہم موبائل ڈیٹا استعمال کرنے والوں کو رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

اہم خبریں سے مزید