اسلام آباد ( نیوز رپورٹر)نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان نے افغان حکومت سے کہاہے کہ ٹی ٹی پی کیخلاف کارروائی کریں یا ہمارے حوالے کریں، پاکستان میں عدلیہ آزادانہ طور پر کام کرتی ہے، انگریزی بیانات کو سیاسی فائدے کیلئے موڑنا افسوسناک ہے، جس کو انگریزی سمجھ نہیں آتی وہ انگریزی سیکھے، اٹلانٹک کونسل میں میرے ایک جواب کو غلط رنگ دیا گیا، ہم نے کلیئر کردیا، امریکا اور یورپ کیساتھ تعلقات میں نئی پیشرفت ہوئی، یورپی یونین اور برطانیہ کی فضائی پابندیوں کا خاتمہ سفارتی کامیابی ہے، ستمبر میں مانچسٹر کیلئے پروازیں دوبارہ شروع ہونگی، ایران-اسرائیل تنازع کے دوران پاکستان نے خاموش سفارتی کوششیں کیں، 20 اگست کو کابل کا دورہ مفید اورتذویراتی رہا، پاکستان نے سلامتی کونسل کے صدر کی حیثیت سے غزہ کیلئے بھرپور آواز اٹھائی، مسئلہ فلسطین پر بھرپور مؤقف اختیار کیا اور فلسطین سے متعلق کثیرالجہتی کانفرنس میں قرارداد متفقہ منظور ہوئی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزارت خارجہ میں میڈیا بریفنگ کے دوران کیا۔اسحاق ڈار نے پاکستان کی سلامتی کونسل کی جولائی میں صدارت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس دوران تین اہم ایونٹس منعقد ہوئے ، پاکستان نے متعدد اجلاسوں کی صدارت کی جن میں فلسطین پر ایک اجلاس بھی شامل تھا۔ پاکستان کی قیادت میں تنازعات کے پرامن حل کیلئے ایک متفقہ قرارداد منظور کی جو ایک سفارتی سنگ میل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے عالمی برادری کے سامنے اپنے مؤقف کو مؤثر طریقے سے پیش کیا ۔ امریکا اور یورپ کے ساتھ تعلقات میں نئی پیشرفت ہوئی، واشنگٹن میں 28 جولائی کو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کیساتھ دو طرفہ، علاقائی اور عالمی امور پر تعمیری تبادلہ خیال ہوا۔انہوں نے یورپی یونین اور برطانیہ کی فضائی پابندیوں کے خاتمے کو بھی سفارتی کامیابی قرار دیا۔ اسحاق ڈار نے فلسطین کے حوالے سے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کی توثیق کرتے ہوئے فرانس اور سعودی عرب کی مشترکہ میزبانی میں بین الاقوامی کانفرنس اور 25 اگست کو جدہ میں او آئی سی کے وزرائے خارجہ کے ہنگامی اجلاس میں اپنی شرکت کا بھی تذکرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ او آئی سی میں پاکستان نے نام نہاد ʼگریٹر اسرائیل کے منصوبے کو واضح طور پر مسترد کر دیا، اسے ʼغیر قانونی اور ناقابل قبول قرار دیا۔ انہوں نے ایران-اسرائیل تنازع کے دوران پاکستان کی خاموش سفارتی کوششوں کا بھی انکشاف کیا جسکے نتیجے میں ایران نے پاکستان کو حقیقی دوست تسلیم کیا۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے 20 اگست کو کابل کے دورے کو مفید اورتذویراتی دورہ قرار دیا جہاں پاکستان، چین اور افغانستان کے وزرائے خارجہ کے درمیان مہاجرین، سرحدی سلامتی، تجارت اور انفراسٹرکچر پر سہ فریقی بات چیت ہوئی۔