پشاور (نیوزرپورٹر) پشاور ہائیکورٹ نے شہدائے اے پی ایس یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی نوشہرہ کے اسسٹنٹ رجسٹرار سمیت 8 ملازمین کی ممکنہ برطرفی روک دی اور اس حوالے سے متعلقہ حکام سے جواب طلب کرلیا کیس کی سماعت پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس وقار احمد اور جسٹس اعجاز خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی ۔درخواست گزاروں کے وکیل آصف یوسفزئی نے عدالت کوبتایا کہ درخواست گزار شہدائے اے پی ایس یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی نوشہرہ میں مختلف پوسٹوں پر کام کرتے ہیں ادارے کی جانب سے 2021 میں اشتہار دیا گیا تھا جس میں درخواست گزاروں نے بھی ایپلائی کی تھی اور دسمبر 2021 میں سلیکشن بورڈ کی منظوری کے بعد انہیں بھرتی کیا گیا تھا جبکہ 2024 میں ان کی ملازمت کنفرم کر دی گئی۔ انہوں نے عدالت کوبتایا کہ اب انہیں نوکریوں سے برطرف کیا جارہا ہے اور خیبر پختون خوا اسمبلی سے غیرقانونی بھرتیوں کے ایکٹ کے تحت انہیں ملازمت سے برطرف کیا جارہا ہے جو کہ غیرقانونی ہے انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ درخواست گزاروں کی ممکنہ برطرفی کے عمل کو روکا جائے عدالت نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد ملازمین کی ممکنہ برطرفی کے اقدام کو روک دیا اور متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کرلیا۔