• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نفاذ شریعت کی بات کرنا شدت پسندی نہیں، مولانا فضل الرحمٰن

اسلام آباد( نیوزرپورٹر ) جمعیت علماء اسلام ف کے امیر مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ نفاذ شریعت کی بات کرنا شدت پسند ی نہیں ہےاللہ کی رحمت حاکمیت کی صورت میں قبول کرنا ہوگی اسلام نظام حیات کے طورپر ہے عدل و انصاف معاشی خوشحالی و امن ہوگا تو رحمت ہے نبی اکرم کے ہر فیصلے کے پیچھے رحمت ہے حاکمیت کے لئے ریاست و مملکت چاہئے علمی قوت حاصل کرو دعوت و تحقیق کرو مضبوط دفاعی قوت پیدا کرو دین مکمل کرنے کے لئے ریاست کا نظام دینی لانا ہوگا ان خیالات کااظہار انھوں نے مقامی ہوٹل میں رحمت عالم انٹرنیشنل سیرت کانفرنس" سے خطاب کرتے ہوئے کیا مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ دفاع کمزور ہوا تو ریاست برقرار نہیں رہ سکے گی آج ہمارے حکمران کلمہ گو ہونے کے باوجود خوفزدہ ہیں،ہمارے حکمران امریکہ سے ڈرتے رہتے ہیں۔ کیا یہی امریکہ افغانستان سے کس طرح شکست کھا کر نہیں نکلا ،؟ دین کی بنیادیں کھودنے والے ہی دین کے دعوے بھی کرتے ہیں ٹرمپ کا اقوام متحدہ میں لیول کیا ہے ٹرمپ مئیر لندن کو شریعت کے نفاذ کے طعنے دیتا ہے شریعت کے نفاذ کا مطالبہ کرنا شدت پسندی نہیں جاہلیت کی یہ دنیا دین والوں کو جاہلیت کہتی ہے بندوق امریکہ نے نوجوانوں فراہم کی تاکہ روس سے جہاد کیا جائے روس کے خلاف لڑنا جہاد تھا تو امریکہ کے خلاف لڑنا کیسے جہاد نہیں امریکہ و اسٹیبلشمنٹ سے پوچھتا ہوں کہ جہاد کے نام پر بندوق آپ نے نہیں دی آج جہادی سوچ معاشرے میں ہے تو اس کا ذمہ دار مدرسہ نہیں ہے۔
اہم خبریں سے مزید