کراچی (اسٹاف رپورٹر) پیپلز پارٹی کے ارکان کا اپنی ہی سندھ حکومت کے خلاف قراداد منظور کرنے کا معاملہ، بلدیہ عظمیٰ کراچی نے ای چالان کے خلاف منظورہونے والی قرارداد کی منظوری کو غلط فہمی قرار دے دیا اور کہا کہ اس پر غلطی سے دستخط ہو گئے تھے دو دن بعد اتوار کوپنے ایک بیان میں کے ایم سی ترجمان نے کہا ہے کہ جمعہ کے روز منعقد ہونے والے کونسل اجلاس کے دوران شہر میں ٹریفک جرمانوں (ای چالان)سے متعلق ایک قرارداد کے حوالے سے غلط فہمی پیدا ہوئی، کونسل کے سرکاری ریکارڈ کے تفصیلی جائزے کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ مذکورہ قرارداد اگرچہ بعض اراکینِ کونسل کی جانب سے پیش کی گئی تھی مگر اجلاس کے دوران اس پر مناسب بحث یا غور و خوض نہیں کیا گیا انتظامی غلطی کے باعث اس دستاویز پر دستخط ہو گئے اور اسےمنظور شدہ قرار دے دیا گیا، حالانکہ یہ قرارداد کونسل کے قواعد کے مطابق مطلوبہ کارروائی سے نہیں گزری تھی،کے ایم سی انتظامیہ یہ واضح کرنا چاہتی ہے کہ ٹریفک جرمانوں سے متعلق قرارداد تاحال منظور نہیں ہوئی ہے، لہٰذا اس وقت اس کی کوئی سرکاری حیثیت نہیں یہ معاملہ آئندہ کونسل اجلاس میں باضابطہ طور پر دوبارہ پیش کیا جائے گاساتھ ہی آئندہ اس نوعیت کی انتظامی غلطیوں سے بچنے کے لیے ضروری اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں دریں اثنا واضح رہےجمعے کے روز اجلاس کی صدارت ڈپٹی میئر کراچی سلمان عبداللہ مراد نے کی تھی اوراپوزیشن جماعت اسلامی اور دیگر جماعتوں نے ای چالان میں بھاری جرمانوں کے خلاف قراداد ایوان میں پیش کی تھی اور اس پر بحث ہوئی اجلاس کے اختتام پر اس کےساتھ دیگرپانچ قرارادادوں پر بھی میئر کی منظوری کے دستخط تھے جسے بعدازاں کے ایم سی میڈیا نے بھی جاری کیا اب اصل معاملہ کیا ہے اور کس کی غلطی ہے اس کی تحقیقات ہو رہی ہیں کہ پیپلزپارٹی کے ارکان کیسے اپنی ہی حکومت کے خلاف قرادادمنظور کر سکتے ہیں۔