کراچی (رفیق مانگٹ)لندن کے معتبر جریدے اکانومسٹ کے مطابق بھارت کی جنگی ٹیکنالوجی کی صنعت تیزی سے ترقی کر رہی ہے، پاکستان کے ساتھ حالیہ فضائی و میزائل تصادم نے اس شعبے کو نئی رفتار، سرمایہ کاری اور تحقیق کا مضبوط محرک فراہم کیا ہے۔ چار روزہ جنگ میں بھارتی فضائی دفاع ڈرون حملوں کے دباؤ میں رہا، کم قیمت ڈرونز کے مقابلے میں مہنگے انٹرسیپٹرز استعمال کرنا پڑے،جدید میزائل مؤثر، مگر فضائی دفاع جعلی اہداف سے الجھ گیا، تھنک ٹینک،کشیدگی کے بعد بھارت کی 5 ارب ڈالر کی ایمرجنسی جنگی خریداری، میزائلوں اور گولہ بارود کے ذخائر کی فوری بحالی پر بڑی رقم مختص،بنگلور کے اسٹارٹ اپس جنگ میں خدمات کے بعد سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز۔ ڈرون ٹیکنالوجی، الیکٹرانک وارفیئر اور مصنوعی ذہانت جیسے شعبوں میں سرگرم اسٹارٹ اپس نمایاں ہو کر سامنے آئے ہیں، جبکہ حکومتی اسکیمیں اور دفاعی خود کفالت کے منصوبے اس رجحان کو مزید تقویت دے رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق چار روزہ فضائی و میزائل تصادم کے دوران بھارت کے فضائی دفاعی نظام کو ڈرون حملوں کے باعث شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ بھاری تعداد میں کم قیمت ڈرونز کے مقابلے میں مہنگے انٹرسیپٹرز استعمال کرنا پڑے، جس سے لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا۔