پشاور(نیوزرپورٹر) پشاورہائیکورٹ کے جسٹس وقار احمد اور جسٹس خورشید اقبال پر مشتمل بنچ نے اپر کوہستان سکینڈل میں گرفتار ایک اور ملزم کی ضمانت مسترد کرتے ہوئے نیب کاروائی کے روکنے کی درخواست خارج کردی۔عدالت نے اس حوالے سے تحریری فیصلہ جاری کردیا ہے۔ دوران سماعت عدالت میں نیب کے سپیشل سینئر پراسیکیوٹر ارباب کلیم اللہ اور ملزم کے وکیل پیش ہوئے۔دوران سماعت عدالت کو بتایاگیا کہ اپر کوہستان سکینڈل میں 37 ارب روپے قومی خزانے سے نکالے گئے ، رقم ترقیاتی منصوبوں کے نام پر نکالی گئی تاہم یہ منصوبے گراونڈ پر موجود نہیں ہیں جس کے بعد نیب نے تحقیقات کا آغا ز کیا۔ عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم سید معیز حیدر بخاری پر الزام ہے کہ اس کی ذاتی اکاونٹ میں 161 ملین روپے کی ٹرانزیکشن ہوئی ہے اور ملزم کی بینک سٹیٹمنٹ اور دیگر ریکارڈ موجود ہے۔ ملزم اس ٹرانزیکشن کی وضاحت بھی نہ کرسکا۔ عدالت کو بتایا گیا کہ نیب میگا کرپشن سکینڈل کی تحقیقات کررہی ہے اور اس مرحلے میں نیب کی کارروائی میں مداخلت قبل ازوقت ہوگی۔ عدالت نے نیب کی کارروائی اور گرفتاری کے خلاف دائر درخواست مسترد کرتے ہوئے نیب کو کارروائی جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے ۔